بدھ, مئی 25, 2011

کولرج

کولرج
کولرج کی اہم ترین تنقیدی کتاب عملی تنقید کی بہترین مثال ہے ۔ اس میں کولرج نے ورڈزورتھ کی نظموں پر تنقید،نظریات اور ادبی جمالیات پر بحث کی ہے اورنئے تنقیدی نظام کے واضح اشارے پیش کئے ہیں۔ کولرج نے اس کتاب میں ادبی شاہکار وں کا جائزہ لیا ۔ اور اپنی تنقیدی آراءپیش کیں ہیں۔ تنقید کی یہ کتاب ایک قابلِ قدر شاہکار ہے۔ مگر ناقدین نے اس کتاب میں بھی انہی خامیوں کی نشاندھی کی ہے۔ جو کولرج کی طبیعت اور شاعری کا حصہ تھیں۔ یعنی موضوع کی مرکزیت کی کمی صاف محسوس ہوتی ہے۔ بے تکان جملے بکھرے پڑے ہیں۔ ایک مغربی نقاد بائیو گرافیہ کے بارے میں لکھتا ہے۔
یہ انگریزی میں عظیم ترین تنقیدی کتاب ہے اور دنیا کی زبانوں میں سب سے زیادہ پریشان کن کتاب ہے۔
 کولرج نے خود اسے بے ڈھنگے متفرقات کا مجموعہ کہا ہے۔ کولرج نے اپنے تنقیدی نظریات کی بنیاد انسانی نفسیات پر رکھی ہے۔ وہ خالق کو سامنے رکھ کر تخلیق تک رسائی حاصل کرنے کے قائل ہیں۔ یہی نظامِ فکر ہے جس نے کولرج کو تنقید کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت دلا دی ہے۔ کولرج نے پہلے اپنی کتاب کا نام آٹو بائیو گرافیہ رکھا اور بعد میں صرف بائیو گرفیہ کے نام سے یہ کتاب منظر عام پر آئی۔ مئی 1815ءمیں کولرج نے ورڈزورتھ کو لکھا کہ وہ اپنی نظموں پر ایک مقدمہ لکھ رہا ہے۔ اور ورڈزورتھ کی کچھ نظموں کا جائزہ بھی لے گا۔ دو ماہ بعد اس نے لکھا کہ اس نے مقدمے کو بڑھا کر ایک خود نوشت ادبی سوانح بنا رہا ہے۔ اس میں اس کی ادبی زندگی اور نظریات ہوں گے۔ پھر اس نے ادب کے موضوع کو بالکل چھوڑ کر جدید فلسفے اور نفسیات پر بات شروع کی اور اس طرح ایک بھر پور مقالے کی شکل اختیار کرتے ہوئے یہ کتاب اختتام کو پہنچی ۔

جمعرات, مئی 19, 2011

لانجائنس

 ادب میں افلاطون کے اخلاقی اور ارسطو کے افادی نظریے نے کافی حد تک مقصدیت کے عنصر کو نمایاں کر دیا چنانچہ ضرورت اس امر کی محسوس کی جانے لگی کہ ادب کے جمالیات اور فنی لوازمات پر توجہ دی جائے اد ب میں عمل کا ردعمل موجود رہتا ہے اس کی ایک مثال مختلف تخلیقات کے تحت مختلف رجحانات کی ہے۔
 اردو ادب میں تحریک ِ مقصدیت اد ب کے فنی پہلو کو نظر انداز کرتی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن فوراً اس کا ردعمل رومانوی تحریک کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جب ادب کے جمالیات کے پہلو کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ اس طرح ادب کا فکری اور مقصدی پہلو کمزور پڑنے پر ترقی پسند تحریک میدان ِ عمل میں اترتی ہے اور اس طرح عمل اور ردعمل سے ادب میں توازن کی کیفیت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ مغربی ادب میں بھی تحریکات اور مختلف رجحانات کی بنیاد پر ادب میں ایسی ہی صورت سامنے آتی ہے۔ مغربی ادب میں ” لانجائنس “ پہلا باقاعدہ رومانو ی نقاد جانا جاتا ہے۔ جس کے ہاں ” نظریہ ترفع“ اور ”عالم وجد “ ملتے ہیں۔ نظریہ ترفع میں لانجائنس اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کہ خالق عمل تخلیق میں ایک عالم وجد میں پہنچ جاتا ہے۔ اور اس سطح سے جب وہ کوئی تخلیق قاری کے سامنے پیش کرتا ہے تو لازم ہے قاری بھی اس عالم وجد میں پہنچ جائے۔ اس کی کیفیت خالق سے ہم آہنگ ہو جائے وہ اپنی سطح سے اُٹھ کر خالق کی سطح پر جا پہنچے اور ایک وجدانی کیفیت سے دوچار ہو جب قاری اپنی سطح سے اوپر اُٹھے تو یہ عمل ترفع سے ہم آہنگ ہے۔ اور وہ حقیقی مضمون میں ادب سے حظ اٹھانے کے قابل ہو جائے ۔
ذاتی حالات:۔
 لانجائنس کی ذاتی زندگی پر پردے پڑے ہیں۔ بعض ناقدین کا خیا ل ہے کہ وہ ”پامیریا“ کی ملکہ”زینوبیا“ کا سےکرٹری تھا اس طرح ان کی شخصیت نیم تاریخی ہے اس بات میں اختلاف ہے کہ اس کا تعلق کس صدی عیسوی سے تھا بعض ناقدین اسے پہلی اور کچھ تیسری صدی سے منسوب کرتے ہیں۔ لانجائنس کے بنیادی مباحث اور ہم عصر ناقدین کا اس نے تذکرہ کیا ہے ان کو دیکھتے ہوئے یہ تو طے ہے کہ اس کا تعلق پہلی صدی سے تھا۔

ہفتہ, مئی 14, 2011

ارسطو (بوطیقا)۔

ارسطو
 قدما یونان کا دور ایک زرخیز دور تھا اس دور میں ایسے ایسے فلسفی اور نکتہ دان پیدا ہوئے جنہوں نے مختلف علوم و فنون کو ایسا خزانہ دیا کہ جس پر یونان والے بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں ۔ شاعری ادب اور ڈرامے پر خاص طور عمدہ تنقید دیکھنے میں آئی ہے۔ اس دور کے نظریات میں سے بہت سے ایسے ہیں جو آج سے دو ڈھائی ہزار برس گزرنے کے باوجود بھی قابل توجہ سمجھے جاتے ہیں۔ خاص کر افلاطو ن اور ارسطو ، ایک نقاد کا کہنا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ دو ڈھائی ہزار سال گزرنے جانے کے باوجود افلاطون ، ارسطو ، ہیوریس ، لان جائی نس پر وقت کی گرد نہیں جمنے پائی۔ ان کی نگارشات کے مطالعے کے بغیر ادبی تنقید کا مطالعہ تشنہ رہ جاتا ہے۔ اور تنقید کے بعض بنیادی اور اہم مسائل پر غور و فکر کی بصیرت پیدا نہیں ہوتی۔
  ارسطو کا زمانہ افلاطون کے فوراً بعد کا زمانہ ہے وہ افلاطون کا شاگرد تھا لیکن شاعری اور ڈرامے کے بارے میں اس سے مختلف رائے رکھتا تھا۔ اس نے افلاطون کا نام لئے بغیر اس کے اعتراضوں کے جواب دیے ہیں خیال ہے کہ اس نے کئی مختصر کتابیں لکھیں جن میں سے ”فن خطابت “ ”RHETORIES“ اور فن شاعری یا ”بوطیقا“” ُPOETICS“ ہم تک پہنچی باقی انقلابات زمانہ کی نذر ہوگئیں ۔

بدھ, مئی 11, 2011

تنقید

تنقید کیاہے
 تنقید عربی کا لفظ ہے جو نقد سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی ” کھرے اور کھوٹے کو پرکھنا “ ہے۔ اصطلاح میں اس کامطلب کسی ادیب یا شاعر کے فن پارے کے حسن و قبح کا احاطہ کرتے ہوئے اس کا مقام و مرتبہ متعین کرنا ہے۔ خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کر کے یہ ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے کہ شاعر یا ادیب نے موضوع کے لحاظ سے اپنی تخلیقی کاوش کے ساتھ کس حد تک انصاف کیا ہے مختصراً فن تنقید وہ فن ہے جس میں کسی فنکار کے تخلیق کردہ ادب پارے پر اصول و ضوابط و قواعد اور حق و انصاف سے بے لاگ تبصرہ کرتے ہوئے فیصلہ صادر کیا جاتا ہے اور حق و باطل ، صحیح و غلط اور اچھے اور برے کے مابین ذاتی نظریات و اعتقادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فرق واضح کیا جاتا ہے۔ اس پرکھ تول کی بدولت قارئین میں ذوق سلیم پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔انگریزی میں Criticismکہتے ہیں۔ اس کا ماخذ یونانی لفظ Krinien ہے۔ویسے مختلف نقادوں نے اس کی مختلف تعریف و توصیحات کی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں
 ١۔ کسی ادب پارے میں فن پارے کے خصائص اور ان کی نوعیت کا تعین کرنا نیز کسی نقاد کے عمل یا منصب یا وظیفہ ۔
  ٢۔تنقید کامل علم و بصیرت کے ساتھ اور موزوں اور مناسب طریقے سے کسی ادب پارے یا فن پارے کے محاسن و معائب کی قدر شناسی یا اس بارے میں فیصلہ صادر کرنا ہے۔
 ٣۔ تنقید اس عمل یا ذہنی حرکت کا نام ہے جو کسی شے یا ادب پارے کے بارے میں ان خصوصیات کا امتیاز کرے جو قیمت رکھتی ہے۔ بخلاف ان کے جن میں قیمت نہیں۔
 ٤۔ محدود معنوں میں تنقید کا مطلب کسی ادب پارے کی خوبیوں اور خامیوں کا مطالعہ ہے وسیع تر معنوں میں اس میں تنقید کے اصول قائم کرنا اور ان اصولوں کو تنقید کے لئے استعما ل کرنا بھی شامل ہے۔
٥۔تنقید کا کام کسی مصنف کے کام کاتجزیہ ، اس کی مدلل توضیح کے بعد اس کی جمالیاتی قدروں کے بارے میں فیصلہ صادر کرناہے۔
 ٧۔ سچی تنقید کا فرض ہے کہ وہ زمانہ قدیم کے عظیم فن کاروں کی بالترتیب درجہ بندی اور رتبہ شناسی کرے اور زمانہ جدید کی تخلیقات کا بھی امتحان کرے۔ بلند تر نوع تنقید یہ بھی ہے کہ نقاد کے انداز و اسلوب کا تجزیہ کرے اور ان  وسائل کی چھان بین کرے جن کی مدد سے شاعر اپنے ادراک و کشف کو اپنے قارئین تک پہنچاتا ہے۔٩۔ تنقید ،فکر کا وہ شعبہ ہے جو یا تو یہ دریافت کرتا ہے کہ شاعری کیا ہے؟ اس کے مناصب و وظائف اور فوائد کیا ہیں؟ یہ کن خواہشات کو تسکین پہنچاتی ہے؟ شاعر شاعر ی کیوں کرتاہے؟ اور لوگ اسے کیو ں پڑھتے ہیں؟ یا پھر یہ  اندازہ لگاتا ہے کہ کوئی شاعری یا نظم اچھی ہے یا بری۔

سوموار, مئی 09, 2011

اقبال کی نظم ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں ‘‘ کا فنی و فکری تجزیہ

 یہ نظم اقبال نے اپنی والدماجدہ کی وفات پر ان کی یاد میں لکھی ۔ اسے مرثیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اولین شکل میں اس کے گیارہ بنداور 89 اشعار تھے ۔ ”بانگ درا“کی میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں تبدیلی کی اور موجودہ شکل میں نظم کل تیرہ بندوں اور چھیاسی اشعار پر مشتمل ہے۔
 علامہ اقبال کی والدہ ماجدہ کانام امام بی بی تھا۔ وہ ایک نیک دل ، متقی اور سمجھ دار خاتون تھیں۔ گھر میں انہیں بے جی کہا جاتا تھا۔ وہ بالکل اَ ن پڑھ تھیں مگر ان کی معاملہ فہی ، ملنساری اور حسنِ سلوک کے باعث پورا محلہ ان کا گروید ہ تھا۔ اکثر عورتیں ان کے پاس اپنے زیورات بطور امانت رکھواتیں۔ برادری میں کوئی جھگڑا ہوتا تو بے جی کو سب لوگ منصف ٹھہراتے اور وہ خوش اسلوبی سے کوئی فیصلہ کر دیتیں ۔ اقبال کو اپنی والدہ سے شدید لگائو تھا۔ والدہ بھی اقبال کو بہت چاہتی تھیں زیر نظر مرثیے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اقبال یورپ گئے تو والدہ ماجدہ ان کی بخیریت واپسی کے لئے دعائیں مانگتیں اور ان کے خط کی ہمیشہ منتظر رہتیں۔ ان کا انتقال اٹھتر سال کی عمر میں 9 نومبر 1914ءکو سیالکوٹ میں ہوا۔ والدہ مرحومہ کی وفات پر اقبال کو سخت صدمہ ہوا۔ اور وہ مہینوں دل گرفتہ رہے ۔ اور انہوں نے اپنی ماں کی یاد میں یہ یادگار نظم لکھی۔
فکری جائزہ:۔
 نظم یا ( مرثیے )کا اصل موضوع والدہ ماجدہ کی وفات حسرت آیات پر فطری رنج و غم کا اظہار ہے ۔ اس اظہار کے دو پہلو ہیں،
١)فلسفہ  حیات و ممات اور جبر و قدر            ٢) والدہ مرحومہ سے وابستہ یادیں اور ان کی وفات کا ردعمل
 پہلے موضوع کا تعلق فکر سے ہے اور دوسرے کا جذبات و احساسات سے ”والدہ مرحومہ کی یاد میں “ اردو میں اقبال کی شاید واحد نظم ہے جس میں وہ پڑھنے والے کو فکراور جذبہ دونوں کے دام میں اسیر نظر آتے ہیں۔

اتوار, مئی 08, 2011

غلام محمد قاصر کی ایک غزل


نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے

جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی
اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے

خوشی اُسی کی ہمیشہ نظر میں رہتی تھی
اور اپنی قوتِ غم بھی بحال رکھتے تھے

بس اشتیاقِ تکلم میں بارہا ہم لوگ
جواب دل میں زبان پر سوال رکھتے تھے

اسی سے کرتے تھے ہم روز و شب کا اندازہ
زمیں پہ رہ کو سورج کی چال رکھتے تھے

جنوں کا جام محبت کی مے ، خرد کا خمار
ہمیں تھے وہ جو یہ سارے کمال رکھتے تھے

چھپا کے اپنی سسکتی سُلگتی سوچوں سے
محبتوں کے عروج و زوال رکھتے تھے

کچھ ان کا حسن بھی ماورا مثالوں سے
کچھ اپنا عشق بھی ہم بے مثال رکھتے تھے

خطا نہیں جو کھلے پھول راہِ صرصر میں
یہ جُرم ہے کہ وہ فکرِ مآل رکھتے تھے

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...