ہفتہ, نومبر 19, 2011

گلزارِ نسیم (پنڈت دیا شنکر نسیم)

اردو میں دو ہی مثنویوں نے بے پناہ شہرت حاصل کی ہے ایک میر حسن کی مثنوی ”سحرالبیان“ نے دوسری پنڈت دیا شنکر نسیم کی مثنوی”گلزار نسیم ۔ ان میں سے اگر ایک فتنہ ہے تو تو دوسری ”عطر فتنہ“ دونوں نے اردو شاعری کی دنیا میں قیامت برپا کر دی ہے۔ ”سحرالبیان“ میں سادگی کا حسن ہے اور ”گلزار نسیم“ میں پرکاری کا جادو ہے، غر ضیکہ دونوں میں ساحری اور عشوہ طرازی موجود ہے۔مولانا محمد حسین آزاد لکھتے ہیں،
” ہمارے ملکِ سخن میں سےنکڑوں مثنویاں لکھی گئیں مگر ان میں فقط دو نسخے ایسے نکلے جنہوں نے طبیعت کی موافقت سے قبول عام کی سند پائی ۔ ایک” سحرالبیان“ اور دوسرے ”گلزار نسیم“ اور تعجب یہ ہے کہ دونوں کے رتبے بالکل الگ الگ ہیں۔“
مثنوی”گلزار نسیم“ پنڈت دیا شنکر نسیم کی وہ مثنوی ہے جس نے انہیں حیات جاوید عطا کی اور یہی وہ مثنوی ہے جسے لکھنو کے دبستان شاعری کی پہلی طویل نظم کا شرف حاصل ہے۔ نسیم حیدر علی آتش کے شاگر دتھے۔ اور اس مثنوی کی تصنیف کے دوران شاگرد کو قدم قدم پر استاد کی رہنمائی حاصل رہی آتش کی ہدایت پر ہی نسیم نے مثنوی کو مختصر کرکے نئے سرے سے لکھا او ر ایجاز و اختصار کا معجزہ کہلایا ۔بقول فرمان فتح پوری کہ،
” اس میں کردار نگاری ، جذبات نگاری اور تسلسل بیان کی کم و بیش وہ سبھی خصوصیات ہیں جو کہ ایک افسانوی مثنوی کے لئے ضروری خیال کی جاتی ہیں لیکن اس کی دلکشی کا راز دراصل اس کی رنگین بیانی، معنی آفرینی ، کنایاتی اسلوب، لفظی صناعی اور ایجاز نویسی میں پوشیدہ ہے ان اوصاف میں بھی اختصار ایجاز کا وصف امتیازی نشان کی حیثیت رکھتا ہے۔“
پلاٹ:۔
 ”گلزارنسیم “ کے پلاٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بادشاہ کا نام زین الملوک تھا۔ اس کے چار بیٹے تھے کچھ عرصہ بعد پانچواں بیٹا پیدا ہواجس کا نام تاج الملوک تھا۔ اس بیٹے کے بارے میں نجومیوں نے پیش گوئی کی کہ اگر بادشاہ کی نظر اس پر پڑی تو وہ بینائی سے محروم ہوگااو ر ایسا ہی ہوا۔ چنانچہ طبیبوں نے اس کا علاج یہ تجویز کیا کہ ایک پھول ہے” گل بکاولی“ اُس سے اس کی بےنائی واپس آسکتی ہے بس اس طرح سارے قصے کا تانا بانا بُنا گیا ہے۔
 گلزار نسیم کی ایک خصوصیت اس کے پلا ٹ کی پیچیدگی ہے یہ صرف تاج الملوک اور بکاولی کی کہانی نہیں نہ صرف ایک پھول حاصل کرنے کی کہانی ہے بلکہ اس میں کئی کہانیاں گُتھ گئی ہیں ۔ تاج الملوک کی شادی کے ساتھ ہی قصہ ختم ہو جانا چاہئے تھا مگر راجہ اندر اور چتراوت اس کہانی کو آگے لے جاتے ہیں دراصل یہ کہانی ایک استعارہ ہے کہ مقصد کے حصول میں کتنی دشواریاں ہوتی ہیں کس طرح آگ کے دریا میں گزرنا پڑتا ہے۔ پھر مقصد حاصل ہونے کے بعد ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ مگر ارادہ پختہ اور کوشش مستحکم ہو تو پھر ہاتھ آجاتا ہے۔

معاشرت کی تصویر کشی:۔
 اگرچہ ” گلزار نسیم“ کا پلاٹ مکمل طور پر فرضی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ شاعراپنے دور سے مواد حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ” گلزار نسیم“ میں نوابین اودھ کے عہد کی تہذیب نظر آتی ہے۔ پنڈت دیا شنکر نسیم نے نواب غازی الدین حیدر، نواب نصیر الدین حیدر، نواب محمد علی شاہ، نواب امجد علی شاہ کا زمانہ دیکھا تھا ۔ اس لئے اس عہد میں لکھنو میں جو رواج تھے ان کی جھلک ”گلزار نسیم“ مےں نظر آتی ہے۔ جب تاج الملوک اور بکاولی کی شادی ہوئی تو کچھ رسمیں ادا کی گئیں جن کا ذکر نسیم یوں کرتے ہیں
 گل سے خوانوں میں زردہ لایا
ان غنچہ دہانور کو کھلایا
 جب عقد کی انکے ساعت آئی
دو رشتوں میں ایک گرہ لگائی
حق پاکے جو رکھتی تھیں قدامت
بول اٹھیں مبارک و سلامت
ان اشعار سے ظاہر ہوتا ہے کہ لکھنو کے نوابی دور میں گانا ، ناچ کے علاوہ حقہ ، پان، کھانے کا رواج تھا۔ اور بھی بہت سے رواج اور رسم مثنوی” گلزار نسیم “ میں ملتے ہیں
مرصع کاری ، بندش الفاظ:۔
مرصع کاری میں ” گلزار نسیم“ اپنی مثال آپ ہے اس کے لکھنے والے پنڈت دیا شنکر نسیم ، خواجہ حیدر علی آتش کے شاگرد تھے۔ اور خود آتش کے خیا ل میں شاعری مرصع ساز کا کام ہے چنانچہ بندش الفاظ نگوں کے جڑے کی مثل ہیں ۔ دیا شنکر نسیم نے بھی بندش الفاظ کے معاملے میں اپنے استاد جیسی فنی مہارت کا ثبوت بہم پہنچایا ہے۔ دیا شنکر نسیم کی اس مثنوی میں اسی مرصع سازی کے نمونے جگہ جگہ بکھرے دکھائی دیتے ہیں مندرجہ زیل اشعار دیکھیں،
 عریانی کے ننگ سے لے جائیں
 ستار کی سب قسمیں کھائیں
 ہم بستر آد می پری تھی
سائے کی بغل میں چاندنی تھی
منظر نگاری:۔
دیا شنکر نسیم کو منظر نگاری پر پورا عبور حاصل ہے لیکن مثنوی کو مختصر کرنے کے سلسلے میں بعض جگہوں پر اس کی کمی نظر آنے لگتی ہے یقینی طور پر اگر وہ اپنی مثنوی کو پوری طوالت کے ساتھ پیش کرتے تو ایسا نہ ہوتا۔ اس کے باوجود ”گلزار نسیم“ میں عمدہ منظر نگاری کے نمونے موجود ہیں یہ نمونے مناظر میں بھی ہیں اور کیفیات میں بھی،
 تاج الملوک کا گزر ایک ہولناک دشت میں ہوتا ہے دکھانا یہ ہے کہ ایک صحرا ہے بے برگ و گیاہ، سیع لق و دق جہاں کبھی کسی جانداز کا گزر نہیں ہوا چاروں طرف ایک ہو کا عالم طاری ہے اس بیان کے ساتھ ساتھ تناسب ِ لفظی موجود ہے اس میں عام نگاہیں الجھ کر رہ جاتی ہیں اور عکاسی و مصوری کا جو کمال اس میں صرف کیا گیا ہے بادی النظر میں معلوم نہیں ہوتا۔
 اک جنگل میں جا پڑا جہاں گرد
 صحرائے عد م بھی تھا جہاں گرد
سائے کو پتا نہ تھا شجر کا
 عنقا تھا نام جانور کا
 شب کو جنگل میں سانپوں کے اوس چاٹنے کا نقشہ اس طرح کھینچتے ہیں
 لہرا لہرا کے اوس چاٹی
بن میں کالوں نے رات کاٹی
راجہ جب لونڈیوں سے سوال کرتا ہے ،
 پوچھا پریوں سے کچھ خبر ہے
شہزادی بکائولی کدھر ہے
تولونڈیوں کی طرف سے مناسب جواب نہ سوجھنے پر کیا کیفیت ہوئی اس کا منظر ملاحظہ ہو
 آنکھ ایک نے ایک کو دکھائی
 منہ پھیر کے ایک مسکرائی
 چتون کو ملا کے رہ گئی ایک
 ہونٹوں کو ہلا کے رہ گئی ایک
اس سلسلے میں ایک اور دلچسپ منظر وہ ہے جب تاج الملوک پریوں کے کپڑے چرا لیتا ہے اوروہ شرمائی شرمائی بدن کو چراتی آگے بڑھتی ہیں، یہ منظر دیکھیں
 جب خوب وہ شعلہ رو نہائیں
باہر بصد آب و تاب آئیں
پوشاک دھری ہوئی نہ پائی
جانا کہ حریف نے اُڑائی
جھک جھک کے بدن چراتی آئیں
رک رک کے قدم اُٹھاتی آئیں
 کیفیت کی منظر نگاری دیکھیں بکاولی کی فراق میں حالت یوں بیان کی ہے۔
سنسان وہ دم بخود تھی رہتی
کچھ کہتی تو ضبط سے تھی کہتی
 گرتی تھی جو بھوک پیاس بس میں
آنسو پیتی تھی کھا کے قسمیں
تاج الملوک اور گل بکاولی کا راز فاش ہونے پر ان کا کیا حال ہوتا ہے ذرا منظر دیکھیں،
دونوں کی رہی نہ جان تن میں
کاٹو تو لہو نہ تھا بد ن میں
جذبات نگاری:۔
 پنڈت دیا شنکر نسیم کو جذبات نگاری میں ید طولیٰ حاصل ہے انہوں نے مختلف کرداروں کی جذبات کی عکاسی نہایت خوبی کے ساتھ کی ہے مثلا ً جب بکاولی کاپھول غائب ہوتا ہے تو گھبرائے ہوئے کہتی ہے۔
 گھبرائی کہ ہیں کدھر گیا گل
گھبرائی کہ کون دے گیا جل
 ہے ہے مرا پھول لے گیا کون
 ہے ہے مجھے خار دے گیا کون
ان اشعار میں بکاولی کی جذبات کی صحیح عکاسی کی گئی ہے بکائولی کا گھبرانا اور افسوس کرنا بالکل فطری ہے اس لئے ان کے جذبات میں صداقت موجودہے۔ اس طرح تاج الملوک اور بکائولی کی شادی ہوگئی تو دونوں خوشی کے مارے پھولے نہ سمائے،
راتوں کو گنتے تھے ستارے
دن گننے لگے خوشی کے مارے
اس طرح ایک اور جگہ بکائولی کی ماں نے جب تاج الملوک کے ساتھ اس کو اختلاط میں پایا تو اس کو سخت غصہ آیا ۔ اس نے اپنے غصے کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔
 حرمت میں لگایا داغ تو نے
لٹوائی بہار باغ تو نے
 تھمتا نہیں غصہ تھامنے سے
چل دور ہو میر ے سامنے سے
غرضیکہ ”گلزارنسیم“ میں مختلف مقامات پر جذبات نگاری کی صحیح اور حسین تصویریں ملتی ہیں،
جزئیات نگاری:۔
پنڈت دیا شنکر نسیم نے مختلف واقعات کو موقع و محل کے اعتبار سے پیش کیا ۔ اس لئے اس میں بلاغت کی شان پیدا ہو گئی ہے مثلاً جب چاروں شہزادے گل بکاولی لے کر آئے تو اس کی مدد سے زین الملوک کی آنکھوں میں دوبارہ روشنی واپس آگئی اس وقت بادشاہ بہت خوش ہوا اور اس نے جشن آراستہ کیا ۔ اس واقعے کو نسیم صاحب نے ان اشعار میں بیان کیا ہے۔
نور آگےا چشم آرزو میں
آیا پھر آب رفتہ جو میں
نیچے سے پلک کے پھول اُٹھایا
اندھے نے گل آنکھوں سے لگایا
نسیم نے تاج الملوک اور زین الملوک کی ملاقات کا واقعہ مندرجہ ذیل اشعار میں بیان کیا ہے۔
 دونوں میں ہوئیں چار آنکھیں
دولت کی کھلیں ہزار آنکھیں!
راجا نے ایک روز بکائولی کو اپنی محفل میں یاد کیا کیونکہ وہ ایک عرصہ سے غیر حاضر تھی نسیم اس واقعہ کو یوں بیان کرتا ہے۔
ایک شب راجاتھا محفل آرا
یاد آئی بکائولی دل آرا     
  پوچھا پریوں سے کچھ خبر ہے
 شہزادی بکائولی کدھر ہے
مکالمہ نگاری:۔
 ”گلزار نسیم“ میں کئی مقامات پر مکالمے بھی ملتے ہیں ، اگرچہ مثنوی میں یہ ایک مشکل کام گنا جاتا ہے چلتی ہوئی کہانی کے بہائو میں مکالمے ٹانکنا یقینی طور پر مشکل کا م ہی ہے ۔ لیکن دیا شنکر نسیم نے قصے میں کئی جگہ اپنے فنی کمال کا ثبوت دیتے ہوئے مکالمے پیش کئے ہیں،روح افزاءاور اس کی بہن کے مکالمے دیکھیں
 روح افزءنے کہا بہن سے
بہتر کوئی جا نہیں چمن سے
گلگشت کریں چلو کہا خیر
کیا جانے کہ ہوگی سیر میں سیر
 بولی وہ یوں کہ آشنا تمہارا
 پیار انہیں پیاری کا ہے پیارا
راجا اندار نے بکائولی کے متعلق پوچھا تو پرےوں نے خاموشی اختےار کی ، اصرار پر بتاےا کہ،
 ناتا پرےوں سے اس نے توڑا
رشتہ اِک آدمی سے جوڑا
وہ سن کے خفا ہوا کہا جائو
جس طرح سے بےٹھی ہو اُٹھا لائو
مافوق الفطرت عناصر:۔
 قدیم دور کی مثنویوں کا ایک نمایاں عنصر مافوق الفطرت عناصر کا بیان ہے۔ یہ عناصر ان مثنویوں میں خاص طور سے داخل ہو جاتے ہیں جن کے پلاٹ فرضی ہوتے ہیں ۔ کیونکہ وہ تاریخی واقعات کے پابند نہیں ہوتے ہیں چنانچہ یہ عناصر ”سحرالبیان“ میں بھی موجود ہیں اور “گلزار نسیم“ میں بھی مگر ” گلزارنسیم“ میں یہ عناصر زیادہ تعداد میں ملتے ہیں۔جو اسکے ساتھ محیر العقول انداز میں پیش کئے گئے ہیں یہ بیانات دلچسپ ضرور ہیں مگر اس کے ساتھ ہی وہ مثنوی کے تصنع میں بھی اضافہ کرتے ہیں،
ڈرامائی عناصر:۔
”گلزار نسیم“ میں جابجا ڈرامائی عناصر موجودہیں نسیم نے اس مثنوی میں مکالمے پیش کئے ہیں ، جو ڈرامہ نگاری کی شان پیدا کر دیتے ہیں ، جب روح افزاءرہا ہو کر آئی تو جمیلہ اور بکائولی اس سے ملنے گئیں اور اس کا حال پوچھا نسیم نے اس موقع پر یوں مکالمہ پیش کیا ہے۔
روح افزاءسے ہوئیں بغلگیر
صورت پوچھی کہا کہ ”تقدیر“
دوسرے مصرعے میں مکالمہ نگاری کی شان موجود ہے، تاج الملوک دلبر بیسوا سے رخصت ہو رہا ہے اس موقعہ کی تصویر نسیم نے یوں کھینچی ہے۔
 یہ کہہ کے اُٹھا کہ ”لوجان“
جاتے ہیں کہا ”خدا نگہبان”
 غرضیکہ ”گلزارنسیم“ میں مختلف مقامات پر ڈرامائی شان موجود ہے۔
سیرت کشی یا کردار نگاری:۔
 مثنوی”گلزار نسیم“ کے سارے کردار اگرچہ بڑی حد تک مصنوعی اور بناوٹی ہیں تاہم ان کرداروں کی کچھ نمایاں خصوصیات ہیں انہی خصوصیات کی بناءپر ہم ان کرداروں کو سمجھ سکتے ہیں اسی لئے ذیل کی سطروں میں کچھ کرداروں کی خصوصیات کا احاطہ کیا جاتا ہے۔
تاج الملوک:۔ مثنوی”گلزار نسیم“ کا ہیرو تاج الملوک ہے اسی کے گرد ساری مثنوی کے واقعات گردش کرتے ہیں مگر تاج الملوک ایک بد بخت شہزادہ ہے کیونکہ اس پر جب باپ کی نظر پڑتی ہے تو وہ اندھا ہوجاتا ہے یوں اسے ملک بدر کیا جاتا ہے۔ نسیم نے اس بات کو یوں بیان کیا ہے،
 صاد آنکھوں کی دیکھ کر پسر کی
بینائی کے چہرے پر نظر کی
مہر لب شہ ہوئی خموشی
کی نور بصر نے چشم پوشی
تاج الملوک ایک حساس اور فرشناس انسان ہے جب بادشاہ کی بینائی جاتی رہی تو چاروں شہزادے گل بکائولی کے پیچھے روانہ ہوئے اس وقت تاج الملوک نے بھی اسے اپنا فرض سمجھا اور گل بکائولی کی تلاش میں روانہ ہوا۔ تاج الملوک ایک ذہین شہزادہ تھا اس کے مقابلے میں چاروں بھائی بے وقوف اور کم عقل تھے۔ تاج الملوک بہت موقع شناس تھا ۔ جب تلاشِ گل بکائولی میں سلطنت ارم کی سرحد تک پہنچا تو سرحد کا دیو انہیں کھانے کو دوڑا۔ لیکن اسی اثناءمیں وہاں سے کچھ اُونٹوں کا گزر ہوا۔ جن پر سامان خوردونوش لدا ہوا تھا۔ جن ان کو کچا کھانا چاہتا تھا لیکن تاج الملوک کے ذہن میں آیا کہ اس کو پکا کر کھلایا جائے تو یہ خوش ہو جائے گا۔ چنانچہ اس نے حلوہ پکایا ۔ اس واقعے کو پنڈت دیا شنکر نسیم ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں،
حلوے کی پکا کر اک کڑھائی
شیرینی دیو کو چڑھائی!
ہرچند کہ تھا وہ دیو کڑوا
حلوے سے کیا منہ اس کا میٹھا
 تاج الملوک نے موقع سے فائدہ اٹھایا ، اور اس سے کہا مجھے گل بکائو لی کی تلاش ہے۔اس کے علاوہ تاج الملوک بہت حوصلہ مند اور با ہمت نوجوان تھا اس نے گل بکائولی حاصل کرنے کے لئے بے شمار مصائب اُٹھائے مگر ہمت نہیں ہاری ۔ جب اسکے بھائیوں نے دھوکے سے اس سے گل بکائولی چھین لی تو اس نے ہمت نہیں ہاری اور ثابت قدمی سے حالات کا مقابلہ کیا اور آخر میں ان کو اس کا صلہ بھی ملا۔ غرضیکہ تاج الملوک میں بے پنا ہ خوبیاں ہیں وہ ساری مثنوی پر چھایا ہوا ہے۔ اور نمایاں کردار ہے۔
بکاولی :۔                     مثنوی”گلزار نسیم“ کی ہیروئین بکائولی ہے اس مثنوی میں دوسرا کردار اسی کا ہے ۔ بکائولی ایک پری ہے اس کا حسن چار دانگ عالم میں مشہور ہے۔ جب تاج الملوک اس کی خواب گاہ میں پہنچا تو وہ اس کے حسن کو دیکھ کر دنگ رہ گیا نسیم یوں کہتا ہے۔
پرد ہ وہ حجاب سے اُٹھایا
آرام میں اس پری کو پایا
 بند اس کی وہ چشم نرگسی تھی
چھاتی کچھ کچھ کھلی ہوئی تھی
بکائولی کی خوبی یہ ہے کہ وہ ذہین و ہوشیار ہے جب اس کا پھول چرایا گیا تو وہ اس کے تلاش میں گھر سے نکلی آخر کار زین الملوک کے شہر میں داخل ہو گئی بادشاہ کے پوچھنے پر اس نے خود کو غریب اور غریب زدہ بتایا اور اپنا نام فرخ اور باپ کا نام فیروز بتایا بادشاہ نے اُسے شہزادہ جان کر اپنا وزیر بنا لیا۔ بکائولی ایک وفادار بیوی بھی ہے جب زین الملوک وطن روانہ ہو رہاتھا تو بکائولی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے انکے ہمراہ جانے کے لئے تیار ہوگئی انہوں نے والدین سے اجازت چاہی
پردیسیوں سے جو کی نسبت
اب کیجئے ہنسی خوشی سے رخصت
بکائولی آخر وقت تک تاج الملوک کو نہیں بھولی اور آخر وقت تک تاج الملوک کا ساتھ دیا جب اس نے دھقان کے گھر میں دوبارہ جنم لیا تب اس نے تاج الملوک سے دوبارہ شادی کی۔ غرضیکہ بکائولی اپنے حسن ، عقلمندی اور وفاداری کی بناپر ایک کامیاب ہیروئن نظر آتی ہے۔
دیگر کردار:۔   ”گلزار نسیم“ میں دیگر کردار بھی ہیں جو اہم نہیں ہیں مثلاً دلبر ایک بیسوا ہے جو لوگوں کو چوسر کھلاتی ہے اور ان کو شکست دے کر دولت کماتی ہے۔ محمودہ حمالہ دیونی کے ساتھ رہتی تھی جس کو وہ دم دلا سا دے کر اپنے ساتھ لے آتی تھی ۔ اس نے حمالہ سے تاج الملوک کی سفارش کی کہ وہ بکائولی حاصل کرنے میں مدد کرے۔
 چتر اوت سنگل دیپ کے راجا کی بیٹی ہے جو تاج الملوک پر عاشق ہو گئی ہے۔ بہرام ایک وزیر زادہ ہے اور تاج الملوک کا دوست ہے۔ مگر سارے کردار ضمنی حیثیت رکھتے ہیں اس لئے ان پر بحث ضروری نہیں ۔
اسلوب:۔
”گلزارِ نسیم“ ، ”سحرالبیان“ کے تقریباً نصف صدی بعد لکھی گئی اس وقت تک لکھنوی معاشرہ ایک واضح شکل اختیار کر چکا تھا ۔ اب زندگی کے لوازمات میں ہی نہیں بلکہ طرز فکر اور طرزِ گفتار میں بھی تکلف اور رنگینی آگئی تھی ۔ چنانچہ” گلزار نسیم“ پڑھتے ہوئے قدم قدم پر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی زبان اور اسلوب وہ نہیں جو نصف صدی پہلے میرحسن نے ختیار کیاتھا۔ میرحسن کے اندازِ نگارش میں دہلوی اور لکھنوی دونوں دبستانوں کی آمیز ش ہے۔ جبکہ گلزارِ نسیم “ خالصتاً لکھنوی رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ”سحرالبیان“ کے بنیادی اوصاف صفائی ، زبان ، لطف ، محاورہ ، جذبات نگاری اور منظر نگاری اور منظر کشی تھے۔ لیکن نسیم کے زمانے تک لکھنو کی زندگی اس قدر رنگین ہو گئی تھی کہ لوگ تحریر اور تقریر میں تکلف کو لازمی قرار دینے لگے تھے۔ چنانچہ نسیم اور ان کے ہمعصر شعراءکا رنگینی اور مرصع کاری کی طرف غالب رجحان ہے۔ نسیم کی اپنی طبیعت میں مرصع کاری اور ذوق جمال کے عناصر موجود تھے اس کے علاوہ انہوں نے مثنوی کے لئے جس قصے کا انتخاب کیا اس کے واقعات اس قدر مربوط حیران کن اور پراسرار تھے کہ انسان کی قوت متخیلہ کو تحریک ملتی تھی۔اس مثنوی کے بارے میں آزاد لکھتے ہیں
 ” لوگ اسے پڑھتے ہیں اور جتنی سمجھ آتی ہے اس پر لوٹے جاتے ہیں“
رعائت لفظی:۔      ”گلزار نسیم“کی ایک نمایاں خصوصیت رعایت لفظی ہے اس میں نسیم نے یہ کمال کیا ہے کہ یہ احساس نہیں ہوتا کہ کوئی لفظ دوسرے لفظ سے مناسبت کی وجہ سے خواہ مخواہ بھر دیا گیا ہے ۔ رعایت لفظی مشکل صنعت ہے اور اس کا نباہنا آسان نہیں،اس سلسلے میں یہ اشعار دیکھیں،
سایہ کو پتا نہ تھا شجرکا
عنقا تھا نام جانور کا
ہم بستر آدمی پری تھی
سائے کی بغل میں چاندنی تھی
تشبیہ و استعارہ:۔       نسیم نے اس مثنوی میں تشبیہوں اور استعاروں کا استعمال بڑی خوبی سے کیا ہے یہ تشبیہیں اور استعارے نسیم کے اشعار میں کلام کا ایک جزو بن کر آتے ہیں ۔ ان کے الگ وجود کا احساس نہیں ہوتا۔
یوں سیج پہ آکے سوئی بے تاب
جس شکل سے آئے آنکھ میں خواب
آغوش کی موج سے وہ مضطرب کے
مچھلی سی نکل گئی تڑپ کے
صنائع و بدائع کا استعمال:۔               ”گلزا ر ِ نسیم“ میں صنائع بدائع کا استعمال بھی اچھی طرح کیا گیا ہے اس وقت کی لکھنوی شاعری میں صنائع بدائع کثرت سے استعمال ہوتے تھے اور شعراءبعض اوقات محض زور کلام کے لئے صنعتوں کا استعمال کرتے تھے ”گلزار نسیم “ کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں،
سوال جواب)     
 پوچھا کہ طلب کہا قناعت
پوچھا کہ سبب کہا قناعت
حسنِ تعلیل)       
گوشے میں کوئی لگانہ ہوئوے
خوشہ کوئی تاکتا نہ ہووے
تجنیس)
اک جنگل میں جاپڑا جہاں گرد
صحرائے عدم بھی تھا جہاں گرد
ضرب المثال:۔ بعض اشعار اس قدر حقیقت سے قریب ہوتے ہیں ان میں اتنی سچائی ہوتی ہے کہ دل میں گھر کر لیتے ہیں یا ان کے اسلوب میں اتنی سلاست او ر شیرینی ہوتی ہے کہ وہ فوراً زبان پر چڑھ جاتے ہیں ۔ ایسے اشعار ضرب المثال کی طرح مشہور ہو جاتے ہیں کئی دفعہ ضرب المثال کو نظم کر دیتے ہیں ، یہاں دونوں قسم کے اشعار ملتے ہیں

2 تبصرے:

  1. بہترین

    کیا اپ دیگر مثنویوں کے بارے میں بھی لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں
    مثلا مثنوی حسن و عشق

    احمر

    جواب دیںحذف کریں
  2. کیی نادر ونایاب مثنویاں میں اپنے بلاگ پر آن لاین پڑھنے کےلیے مهیا کر رها هوں بهت جلد.پهلے ان کو کسی ساییٹ پر اپلوڈ کونگا.
    Www.classicsinurdu.blogspot.com

    جواب دیںحذف کریں

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...