منگل, نومبر 26, 2013

فسانۂ آزاد

مولانا عبدالحلیم شرر پنڈت رتن ناتھ سرشار کو ایک خط میں لکھتے ہیں کہ:
” آپ نے ”فسانہ آزا د کیا لکھا زبان اردو کے حق میں مسیحائی کی ہے۔“
بیگم صالحہ عابد حسین ”فسانہ آزاد کے متعلق لکھتی ہیں،
”اردو زبان سمجھنے کے ليے ”فسانہ آزاد“ پڑھنا چاہیے۔“
فسانہ آزاد اودھ اخبار میں مسلسل ایک سال تک شائع ہوتا رہا۔ اور کافی مقبول ہوا ۔ قارئین اخبار ہر قسط کے ليے بے تاب رہتے ۔ اور شوق سے اسے پڑھتے ۔ اردو ادب میں دراصل یہ پہلا موقع تھا کہ کسی اخبار میں باقاعدہ طور پر ناول کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ لیکن آج تک یہ بات متنازعہ ہے کہ فسانہ آزاد کو کس صنف نثر میں شمار کیا جائے۔ اسے ناول کہا جائے یا داستان اس بارے میں ڈاکٹر انور سیدید لکھتے ہیں، ” فسانہ آزاد“ ناول کی تکنیک سے باہر کی چیز ہے۔ نہ پلاٹ ہے اور نہ واقعات ہیں۔ ربط اور تسلسل بھی نہیں ملتا ۔ بلکہ بعض واقعات تو ایسے ہیں کہ ان کا مرکز ی قصے سے کوئی تعلق نہیں اس ليے ان کے نکال دینے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔“ اب جبکہ یہ ناول بھی نہیں تو اس کا شمار کونسی صنف ِ ادب میں ہوتا ہے اس بارے میں پریم پال اشک لکھتے ہیں، ” دراصل ”فسانہ آزاد “ناول اور افسانے کی کڑی ہے جس کو ہم دوسر ے لفظوں میں صحافتی ناول Serial fictionبھی کہتے ہیں۔ پریم پال کے اس رائے سے بات واضح ہو جاتی ہے کہ فسانہ آزا د ایک صحافتی ناول ہے۔ اور جو مرتبہ اور مقام فسانہ آزاد کو حاصل ہوا وہ کسی اور صحافتی ناول کو نہ مل سکا
اسلوب
بقول ایک محقق ،
” فسانہ آزاد میں کردار بولتے ہیں انسا ن باتیں کرتے ہیں، خود سرشار نہیں۔ اس ليے ان کے اسلوب میں توانائی ، اوریجنیلیٹی اور اصلیت ہے۔“
تقلید
پروفیسر آل احمد سرور نے سرشار کی نثر کو فسانہ عجائب کی ترقی یافتہ صورت قرار دیا ہے۔ یعنی انھوں نے اپنی اس کتاب میں رجب علی بیگ سرور کی اسلوب کے حوالے سے تھوڑی بہت تقلید ضرور کی ہے۔ مثال کے طور پر ” دیکھتے کیا ہیں کہ ابر نور بہار ، نسیم مشکبار نے تما م شہر کو نمونہ ارم بنا دیا ہے۔“
اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں جن میں ہمیں سرور کے اسلوب کا رنگ ملتا ہے۔ اس ليے اس بارے میں پریم پال اشک لکھتے ہیں،
” فسانہ آزاد میں جہاں تقلیدی انداز ملتا ہے وہاں صاف اور صحیح طور پر منشی رجب علی بیگ سرور کی جھلک نظر آتی ہے۔“
لیکن ناول میں سرشار کا اپنا تخلیقی رنگ بھی نمایاں ہے۔ پریم پا ل اشک نے سرشار کے اسلوب کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے ایک تقلیدی انداز اور دوسرا تخلیقی ۔ تقلیدی انداز میں صریحاً رجب علی بیگ کے اسلوب اور زبان کی جھلک نظرآتی ہے۔ اور سرور کی سی مسجع اور مقفٰی عبارت ملتی ہے۔ مگر سرشار ایسا اسلوب صرف منظر نگاری کے وقت اختیار کرتے ہیں۔ اس کے علاو ہ انھوں نے ناول میں اپنا انفرادی اسلوب برتا ہے جو کہ اُن کا اپنا تخلیقی رنگ ہے۔
بیگماتی زبان
پنڈت رتن ناتھ سرشار نے فسانہ آزاد میں خاکروب سے لے کر نواب تک اور کنجڑوں سے لے کر بیگم تک ہر طبقے کی زبان استعمال کی ہے۔ اور یہ لطف یہ کہ ہر طبقہ اور پیشے کے مطابق بو ل چال کا انداز برتا ہے۔محققین کی تحقیق کے مطابق سرشار نے بیگماتی زبان بچپن سے اپنے پڑوس میں رہنے والی مسلمان مستورات سے سیکھی تھی ۔ یہی وہ درسگاہ تھی جہاں اسے انہیں زبان ورثے میں ملی۔ اور انہوں نے اپنے سینے میں سال ہا سال چھپائے رکھا اور آخر اتنے سالوں کے بعد اسے فسانہ آزاد کی شکل میں پیش کردیا۔

ہفتہ, اکتوبر 19, 2013

خیبر پختونخواہ کا افسانہ

اردو ادب کی پرچھائیاں برصغیر پاک وہند کے دوسرے علاقوں کی نسبت پختون خواہ  میں ذرا دیر سے پڑیں ۔ اس کی وجوہات میں یقینا مقامی زبانوں پر توجہ ، پس ماندگی اور تعلیم کی کمی شامل ہے۔ تعلیم کی ترقی کے ساتھ ہی یہاں اردو زبان کی ترقی کی طرف توجہ شروع ہو گئی۔ 1903ءمیں بزم سخن کی نبیادرکھنے1913ءمیں اسلامیہ کالج کے آغاز اور دوسری علمی ، ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کے باعث یہاں کے اہل علم و ادب اردو کی طرف رجوع کرنے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ارد و کی ادبی نثر کاآغاز 1900کے بعد ہوتا ہے۔ اس سے پہلے یہاں اردو کی ادبی نثر کا سراغ نہیں ملتا۔ 1900ءسے پہلے کے نثر ی نمونوں میں پیرروخان کی کتاب ”خیرالبیان “ کے کچھ حصے یہاں کے اخبارات ، کابل کی ڈائری، تاریخ ِ ہزارہ و تاریخِ ڈی آئی خان اور تاریخ چترال شامل ہیں ۔ لیکن اس میں اردو ادب یا اردو کی ادبی نثر کا سلسلہ مفقود ہے۔ لہذایہ بات وثو ق سے کہی جاسکتی ہے کہ ارد و کی ادبی نثر کا آغاز 1900ءکے بعد ہی ہوتا ہے۔
اردو کی ادبی نثر کےساتھ جو معاملہ رہا وہی معاملہ تقریباً اردو افسانے کے ساتھ بھی رہا۔ اس لیے یہاں افسانے کاآغازبھی ذرا بعد میں ہوا۔ اور 1947ءتک افسانہ کا کوئی بڑ ا نام سامنے نہ آسکا۔ 1947ءتک کا سرحد کاافسانہ کوئی مضبوط حوالہ نہیں رکھتا ۔ یہاں افسانہ نگاری کا آغاز 1914ءمیں ہوتا ہے۔ اور بقول فارغ بخاری اس کے آغاز کا سہرا ”نصیر الدین نصیر“ کے سر ہے۔ انہوں نے 1914ءمیں افسانہ لکھنا شروع کیا۔ اور ٠٣٩١ءتک افسانہ لکھتے رہے۔ ان کے افسانے مقصدی اور اصلاحی موضوعات پر مبنی ہیں۔ انداز تحریر صا ف اور سادہ ہے۔ افسانوں میں وعظ و نصیحت کارنگ نمایاں ہے۔ فنی لحاظ سے افسانوں میں خامیاں موجود ہیں ۔ ان کے افسانوں کا کوئی بھی مجموعہ شائع نہ ہو سکا البتہ انے افسانے ”نیرنگ خیال “ ، ”سرحد “ اور ”عالمگیر “ میں چھپتے رہے۔ جن میں ”جوالا مکھی“ ، ” سہاگن“ اور ”مولوی صاحب “ ، شہرت سے ہمکنار ہوئے ۔
صوبہ خیبر پختونخواہ میں افسانہ کاآغاز کرنے کے باعث نصیر الدین نصیر کا نام اہم ضرور ہے۔ مگر مجموعی طور پر وہ افسانہ کا کوئی بڑا نام نہیں ہے۔ افسانہ کے ابتدائی دور میں ایک نام عنایت علی شاہ کا بھی ملتا ہے۔ جن کا افسانہ ”ایک شاعر اور اس کا خواب“ ، ہائف پشاور جولائی 1925ءمیں شائع ہوا۔ جو رومانی فکر سے وابستہ ہے۔ کہانی کی نبیاد زیادہ تر روایتی واقعات اور غیر فطری عناصر پر رکھی گئی ہے۔ ا س کے علاوہ ان کا افسانہ ”خوبصورت لفافہ “ پختون معاشرت کی عکاسی کرتا ہے۔
1930ءتک یہ کچھ افسانہ نگار ملتے ہیں اس کے بعد آنے والے افسانہ نگاروں میں ، مبارک حسین عاجز، کلیم افغانی، رضاہمدانی ، نذیر مرزا برلاس، فارغ بخاری ،اور مظہر گیلانی کے نام اہم ہیں۔
”مبارک حسین عاجز کے افسانے ”اے مصور “”مجھے کسی کی تلاش ہے“، ”رنگین کلی “ ، ”احساسِ ندامت “ پاکستان سے پہلے شائع ہوئے ہیں اُن کے افسانوں پر رومانوی طرز فکر کے اثرات ہیں۔ اور فنی لحاظ سے کافی کمزور ہیں۔ ”کلیم افغانی “ کے ہاں اصلاح پسندی اور ترقی پسندی کے عناصر ملتے ہیں اس سلسلے میں ان کا افسانہ ”اشک ندامت “ مشہور ہے۔ رضاہمدانی نے اسلامی تاریخی واقعات کو افسانوی رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اس حوالے سے ان کے افسانے ”عہد “ کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے۔ نذیر مرزا برلاس کے ہاں چھوٹے چھوٹے واقعات سے کہانی بننے کا عمل نظرآتا ہے اور وہ تخیل کی مدد سے لے کر حقیقی کہانی کے نقش ابھارتے ہیں۔ لہذاد تخیل اور حقیقت کا امتزاج ان کے ہاں موجود ہے اس سلسلے میں ان کے افسانون میں ، ”معصومیت “ اور ”معصوموں کی دنیا ُ“ کے نام آسکتے ہیں۔
”فارغ بخاری “ سرحد کے پہلے صاحب ِ مجموعہ افسانہ نگار ہیں۔ اُن کے افسانوں کا مجموعہ ”قدرت کا گناہ“ 1932ءمیں شائع ہوا۔ ان کے افسانوں میں اصلاحی اور مقصدی عناصر موجود ہیں۔ اور ”ادب برائے زندگی “ کے نقطہ نظر کو سامنے لائے ہیں۔ لیکن فنی لحاظ سے بلند درجہ نہیں رکھتے ۔”مکافاتِ عمل “ ان کا اچھا افسانہ ہے۔
اسی زمانے میں ”مظہر گیلانی “ کے افسانوی مجموعے ”رنگین مشاہدے “ اور ”بدنصیب سادہ “منظر عام پر آگئے ۔ ان کے افسانوں پر داستانوی اثر زیادہ ہے۔ کہانی غیر فطری عناصر پر مشتمل ہے۔ اس سلسلے میں ان کے افسانوں میں “ناگ رانی “ ، ”میر ی لاش “ ”سانپ کا انتقام “ مشہور ہیں۔ فارغ بخاری اور مظہر گیلانی کے افسانے بھی ادبی مقام حاصل نہ کر سکے ۔ لہٰذا ان کا یہ سفر آگے نہ بڑھ سکا۔ صوبہ سرحد کاافسانہ 1947تک کوئی بڑا نام پیدا نہ کر سکا اور نہ کوئی ایسا ادیب سامنے آسکا جس کی پہچان افسانہ سے وابستہ ہو۔
1947ءکے بعد البتہ کچھ ایسے نام ہمارے سامنے آتے ہیں جنہوں نے اسی میدان کو اپنایا ۔ اور اس میں نام کمایا ۔ 1947ءکا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا ۔ یہ اپنے ساتھ بہت سے خواب اور بہت سے عذاب لایاتھا۔ جس میں سب سے بڑا عذاب فرقہ ورانہ فسادات کا ہے۔ 1947ءکے بعد صوبہ سرحد کے افسانے میں بہت حوالے اور رجحانات اہم ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔

ہفتہ, ستمبر 07, 2013

نیرنگِ خیال (محمد حسین آزاد)

بقول رام بابو سکسینہ
 ”آزاد نثر میں شاعری کرتے ہیں اور شاعری کرتے ہوئے نثر لکھتے ہیں۔“
مولانا محمد حسین آزاد نے مشرقی تہذیب کے گہوارے دہلی میں پرورش اور تربیت پائی ۔ دہلی کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ جو اس زمانے میں مشرقی تہذیب و معاشرت اور علوم و افکار کے ساتھ ساتھ مغربی علوم اور تصورات و نظریات سے آگاہی و شناسائی کا سرچشمہ بھی تھا۔آزاد اپنی تربیت اور افتاد طبع کے لحاظ سے مشرقی آدمی تھے۔ لیکن ماحول اور روح عصری سے بھی ناواقف نہیں تھے۔ گویا آزاد ایسے سنگم پر کھڑے ہیں جہاں ان کی ایک نظر مشرق کی پوری تکلف انشاءپردازی پر پڑتی ہے اور دوسری نظر نثر کے جدید تقاضوں پر اور آزاد کو احساس ہے کہ وہ خداوند تعالٰی کی طرف سے ان ہر دو قسم کے ذوق و نظر کے ملانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ چنانچہ آزاد کی تحریروں میں مشرق و مغرب دونوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔آزاد کی مشہور تصانیف میں ” سخندان فارس“، ”آب حیات“ اور ”نیرنگ خیال“ شامل ہیں۔ لیکن اس تصانیف میں نیرنگ خیال کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی
نیرنگ خیال کا فن
نیرنگ خیال تیرہ مضامین پر مشتمل ہے۔ مضامین تمثیلی انداز میں لکھے گئے ہیں۔ آغاز میں اسے دو حصوں میں لکھا گیا ۔ سات مضامین پر مشتمل پہلا حصہ 1880ءمیں شائع ہوا۔ چھ مضامین پر مشتمل دوسرا حصہ آزاد کی وفات کے بعد 1923ءمیں شائع ہوا۔
نیرنگ خیال کے مضامین انگریزی کے معروف انشاءپردازوں جانسن ، ایڈیسن اور سٹیل کے مضامین سے ماخوذ ہیں ۔ آزاد ان میں جانسن سے زیادہ متاثر معلوم ہوتے ہیں اور ان ہی کے ہاں سے اخذ و ترجمہ بھی زیادہ کیا ہے۔ خود آزاد نیرنگ خیال کے دبیاچے میں تسلیم کرتے ہیں، ” میں نے انگریزی کے انشاءپردازوں کے خیالات سے اکثر چراغ روشن کیا ہے۔“
اگرچہ نیرنگ خیال کے مضامین آزاد کا ترجمہ ہیں مگر آزاد کی چابکدستی اور انشاءپردازانہ مہارت نے انہیں تخلیقی رنگ دے دیا ہے۔ ان میں کچھ اس طرح حالات اور مقامی ماحول کے مطابق تبدیلی کی ہے کہ وہ طبع ذاد معلوم ہوتے ہیں۔ نیرنگ خیال میں تیرہ مضامین ہیں ۔ ذیل میں آزاد کے مضامین اور انگریزی کے جن مضامین کا ترجمہ کیا گیا ہے اُن کی فہرست دی جا رہی ہے۔
١)انسان کسی حال میں خوش نہیں )The endeavour of mankind to get red of their burdons
٢)شہرت عام بقائے دوام کا دربار )The vision of the table of fame
٣)خوش طبعی )Our ture and false humour
٤)آغاز آفرینش میں باغ عالم کا کیا رنگ تھا اور رفتہ رفتہ کیا ہو گیا )An allegorical history of rest and labour
٥)جھوٹ اور سچ کا رزم نامہ )Truth falsehood and fiction and allegery
)گلشن امید کی بہار )The garden of hope
٧)سیرزندگی )The voyage of life
٨)علوم کی بد نصیبی )The Conduct of patronage
٩)علمیت اور ذکاوت کا مقابلہ )The allegory of wit and learnign
٠١) نکتہ چینی )The allegory of criticism اب اُن خصوصیات کا جائزہ لیتے ہیں جس کی بدولت نیرنگ خیال کو اردو نثر کی ایک معرکتہ آرا کتاب کے طور پر جانا جاتا ہے۔

جمعہ, جولائی 19, 2013

خیبرپختونخواہ کی غزل

1947ءکے بعد سرحد کی غزل کی ابتداءکے بارے میں جو کوائف موجود ہیں اس کے بارے میں فارغ بخاری کی کتاب ”ادبیات سرحد “ ہماری مدد کرتی ہے۔ فارغ نے اس کتاب میں اردو غزل کی ابتدائی نقوش خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کی غزلوں میں دریافت کیے ہیں۔ ان دو شعراءکے ہاں کئی غزلیں ایسی ہیں جس پر اردو کے اثرات ہیں ۔ اور تقریباً 1700 تک اردو کا کوئی بھی باقاعدہ غزل گو شاعر ہمیں سرحد میں نہیں ملتا۔
اٹھارویں صدی عیسوی میں ”قاسم علی خان آفریدی“ کا دیوان ملتا ہے۔ اس شاعر کا سال ولادت 1763ءاور وفات 1823ءہے۔ یہ سرحد کا ایسا شاعر ہے جس نے پشتو اور اردو میں غزلیں لکھیں۔ اس لیے اسے ہم سرحد کا پہلا باقاعدہ اردو غزل گو شاعر قرار دے سکتے ہیں۔ ان کی غزل میں صاف پن اور سادگی موجود ہے جبکہ مقامی زبان کے بھی تھوڑے سے اثرات ان کی شاعری پر پڑے ہیں۔قاسم کے چند اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔
دیکھ کر عشق کی حالت میری مجنوں بولا
میں چلا شہر اجی لیجےے ویرانے کو
ہم جن کی محبت میں رسواءہوئے عالم میں
کب چھوڑ گلی ان کی بدنام نکلتے ہیں
قاسم کے بعد سرحد میں 1920ءسے 1930ءتک بہت سے شاعر آئے جن کا تذکرہ کرتے ہوئے فارغ بخاری نے کچھ ادوار مقرر کیے ہیں۔ مگر 47 تک کوئی بھی بڑا شاعر ہمارے سامنے نہیں۔ ادوار درجِ ذیل ہیں۔ پہلا دور 1700ءسے 1800ءکا ہے جس میں حید ر پشاوری ، غلام قادر قدیر، اور قیس پشاوری شامل ہیں۔
دوسرا دور 1800ءسے 1880ءتک ہے جس میں مدبر پشاوری ، گوہر پشاوری ، مرزا عباس ، عبدالعزیز خان عزیز شامل ہیں
تیسرا دور 1881ءسے 1920تک کا ہے جس میں سائیں احمد علی ، آسی سرحدی ، بیدل پشاوری، حاجی سرحدی شامل ہیں۔
چوتھا دور 1920ءسے 1935ءتک کا ہے۔ جس میں میر ولی اللہ ، رفت بخاری ، قمر سرحدی ، عنایت بخاری وغیرہ شامل ہیں۔
1935ءکے بعد جو دور آتا ہے فارغ بخاری نے اس دور کو جدید دور کا نام دیا ہے جن شعراءنے اپنا معیار متعین کیا ہے وہ 1947ءکے بعد آئے ہیں۔ آئیے 1947ءکے بعد کی غزل کا جائزہ ادوار کی صورت میں لیتے ہیں۔
پہلا دور
پہلے دور میں ضیا جعفری ، فارغ بخاری ، رضا ہمدانی ، قتیل شفائی اور شوکت واسطی شامل ہیں۔
ضیا جعفری
ضیا جعفری کی شناخت کی وجہ غزل نہیں ان کی رباعی ہے۔ ان کا مجموعہ کلام ”صبوحی “ ہے ۔چونکہ وہ ایک صوفی بزرگ تھے اس لیے ان کے ہاں تصوف کی چاشنی موجود ہے۔ ان کے کلام کا زیادہ تر حصہ خمریات پر مشتمل ہے جس پر کلاسکیت کے اثرات نمایاں ہیں۔ فارسیت کا ان کے ہاں غلبہ ہے موسیقیت اور لطافت ان کی غزل کے بنیادی عناصر ہیں۔

جمعرات, مئی 02, 2013

پاکستانی ناول

اردو ادب میں پہلا ناول ڈپٹی نذیر احمد کا مراۃ العروس ہے جو کہ 1869ءمیں لکھا گیا ۔ مراۃ العروس میں ناول کے سارے لوازمات تو شامل نہیں کیوں کہ نذیر کے سامنے ناول کا کوئی نمونہ موجود نہیں تھا ۔ اُن کے ناولوں میں اہم پہلو مقصدیت کا ہے۔اس کے بعد ہمار ے پاس سرشار کا ناول ”فسانہ آزاد “ آتا ہے جس میں لکھنو معاشرت کی عکاسی نظر آتی ہے۔ پھر عبدالحلیم شرر نے تاریخی ناولوں کے ذریعے مسلمانوں کو جگانے کی کوشش کی ۔ جبکہ علامہ راشد الخیری بھی معاشرے کی اصلاح پر زور دیتے ہیں ۔
مرزا ہادی رسوا کاناول ”امرا ؤجان ادا“ کو اردو ادب کا پہلا مکمل ناول کہا جاتا ہے جس میں مربوط پلاٹ کے ساتھ ساتھ انسان کی داخلیت اور نفسیاتی پرتوں کو بھی بیان کیا ہے۔رسوا کے بعد پریم چند کا نام بڑا مضبوط ہے انھوں نے کل 13 ناول لکھے ۔ جس میں بیوہ ، بازارِ حسن ، اور میدان ِعمل مشہور ہوئے۔ پریم چند کے ہاں بھی مقصدیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان کے ہاں جنسی موضوعات کے ساتھ ساتھ ترقی پسند سوچ اور انقلاب کے موضوعا ت بھی ملتے ہیں۔
اس کے بعد ہمارے سامنے سجاد ظہیر کا نام آتا ہے جنہوں نے ایک ناول”لندن کی ایک رات “ لکھا۔ یہ اردو ادب کا پہلا ناول ہے جس میں شعور کی رو کی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔ اس کے بعد قاضی عبدالغفار کا نام آتا ہے جنہوں نے پہلی مرتبہ ناول کی ہیئت میں تبدیلی کی اور خطوط کی ہیئت میں ناول لکھے ان کے مشہور ناولوں میں سے ”لیلی کے خطوط “ اور ”مجنوں کی ڈائری “ شامل ہیں۔اس کے بعد کرشن چندر ہیں جنہوں نے افسانوں کے ساتھ ساتھ ناول بھی لکھے ان کے ناولوں میں”سڑک “، ”غدار “، ”جب کھیت جاگ اُٹھے“ ۔ ان کے ہاں خوبصورت انداز بیان تو موجود ہے لیکن کہانیاں زیادہ تر فلمی قسم کی ہیں۔ جس پرترقی پسند سوچ کا غلبہ ہے۔
عزیزاحمد نے بھی کئی ناول لکھے مثلاً ”خون “ ، ”مرمر“ ، ”گریز“ ، ”آگ“ اور ”شبنم “ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے ناولوں میں جدیدانسان کے ذہن کے اندر جو انتشار ہے اُس کی عکاسی ملتی ہے۔ اس کے بعد عصمت چغتائی جنسی اور نفسیاتی حوالے سے بہت مشہور ہیں۔ انھوںنے ”مصومہ “ ، ”ضدی “ ، ” ٹیڑھی لکیر“ اور ”سودائی “جیسے ناول لکھے ۔ان کے ہاں جنسی حوالے ضرور ہیں لیکن ان کے پس منظر میں ہمیشہ نفسیاتی اور اشتراکی نقطہ نظر کارفرمارہتا ہے۔
اس طرح ناول ارتقائی سفر کرتا ہوا 47 تک پہنچا جس میں ترقی پسند سوچ کے ساتھ اصلاح معاشرہ اور جنسی اور نفسیاتی رجحانات غالب رہے۔
1947ء کے بعد جو رجحانات ہمارے سامنے آتے ہیںاُن کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا لیکن اس سے پہلے ایک نام کاذکر بہت ضرور ی ہے جنہوں نے ہندوستان میں رہتے ہوئے ایک بڑا ناول ” آگ کا دریا “ تخلیق کیا۔ وہ نام ہے قراة العین حیدر کا ۔ انہوں نے اس ناول میں قدیم ہندوئوں کے دور سے شروع کرکے ٧٤ کے بعد کے دور کوموضوع بنایا ہے۔ انگریز کا آنا اور پھر پاکستان کا بننا سب حالات اس ناول میں موجود ہیں موضوع کے حوالے سے یہ ایک بہت بڑا ناول ہے۔ آئےے اب پاکستانی ناول کا جائزہ لیتے ہیں ۔
فسادات اور ہجرت کا حوالہ
پاکستان بننے کے بعد ایک طرح سے خون کی ہولی کھیلی گئی بہت سے لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا انسانیت کو پامال کیا گیا اور پھر ان تمام مصیبتوں کے بعد ہجرت کا واقعہ ایک طرف تو خون کی ندیاں دیکھنے کا تجربہ اور پھر دوسرا بڑا المیہ ایک تہذیبی حوالہ تھا۔ کیونکہ جن لوگوں کی نسلیں جہاں پر رہیں جہاں اُن کے تہذیبی روےے پروان چڑھے اُن کو اچانک کسی دوسری جگہ ہجرت پر مجبور کردینا لوگوں کے لیے معمولی بات نہیں ۔ اس کے پس منظر میں بہت سے دکھ ہوتے ہیں ایک تہذیب و تاریخ رہ جاتی ہے۔ لوگوں کے آباواجداد کی قبریں رہ جاتی ہیں۔ اور وہ نشانیاں جن کے تحت ان کی زندگی کا تسلسل قائم ہوا تھا وہ سب کہیں اور رہ جاتا ہے۔ یہ دونوں حوالے ہمارے ناول میں موجود ہیں۔ فسادات کے حوالے سے اُس دور کے ظلم و ستم اور قتل عام نے ادب کو بہت زیادہ متاثر کیا ۔ اس دور میں فسادات میں ہونے والے ظلم وستم پر ایم اسلم نے ایک ناول ” رقص ابلیس “ ،نسیم حجازی نےک ”خاک و خون “ ، فکر تونسوی نے ”چھٹا دریا “ اور فیض رام پورنے ”خون اور بے آبرو “جیسے ناول لکھے ۔جس میں اُس دور میں انسان کی بربریت اور ظلم کی داستان کو ناول کی شکل میں پیش کیاگیا ۔ اس طرح اُس دور میں فسادات کے حوالے سے اور بھی بہت سے ناول لکھے گئے جو کہ ہنگامی نوعیت کے رہے۔ اور ہنگامی موضوعات میں فنی پختگی کم ہو جاتی ہے۔ اور جذباتی پن زیادہ اور بصیرت کم نظرآتی ہے۔ لیکن اس دور میں ایک ناول ایسا لکھا گیا جس میں ہنگامی موضوع ہونے کے باجود ناول میں خوبصورتی اور اسلوب کے حوالے سے بڑی حد تک بڑائی پیدا کی گئی ہے۔ او ر یہ ناول قدرت اللہ شہاب کا ”یاخدا “ ہے۔
”یاخدا “ 1948ءمیں لکھا گیا ۔ جس میں مرکزی کردار ”دلشاد “ کے زبانی پوری کہانی بیان کی گئی ہے۔ اُس کے ساتھ تقسیم کے بعد سکھوں نے کیا کچھ کیا اور پھر ہجرت کے بعد اُس کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا تمام واقعات کو اُس کردار سے وابستہ کرکے ایک وسیع پس منظر میں ان حالات و واقعات کی عکاسی کی گئی ہے۔ دلشاد کے ساتھ سکھوں نے جو کچھ کیا وہی لاہور والوں نے بھی کیا۔ قدرت اللہ شہاب نے فسادات کو دراصل ایک نئے انداز سے لیا اور تقسیم کے بعد بننے والے معاشرے کو لپیٹ کر ہمارے سامنے رکھ دیا۔
اس سلسلے کا ایک او ر اہم ناول خدیجہ مستور کا ”آنگن “ ہے۔ اس ناول میں انہوں نے ٧٤ سے پہلے اور بعد کے حالات کا ذکر کیاہے۔ ان کا موضوع ایک خاندان ہے ۔ یہ خاندان برصغیر کے مخصوص حالات سے کس طرح متاثر ہوا ۔ اس ایک خاندان کے توسط سے 47کے واقعات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اُن کے ہاں براہ راست فسادات ناول کا موضوع نہیں بنے بلکہ تمام حالات کو پس منظر میں رکھ کر اُس سے نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔ کہ کس طرح یہ مسلمان خاندانوں پر اثرانداز ہوئے۔

ہفتہ, اپریل 20, 2013

پاکستانی افسانہ

جہاں تک اردو ادب کے پہلے افسانہ نگار کا تعلق ہے تو اس کے متعلق مختلف آرا ءہیں ۔ ڈاکٹر معین الدین نے سجاد حیدر یلدرم کو پہلا افسانہ نگار قرار دایا ہے۔ جبکہ بعض کے خیال میں پریم چند پہلے افسانہ نگار ہیں لیکن جدید تحقیق کے مطابق بقول ڈاکٹر مرزا حامد بیگ ”راشد الخیری “ اردو ادب کے پہلے افسانہ نگار ہیں جن کا افسانہ ”خدیجہ اور نصیر “ 1903ءکو مخزن میں شائع ہوا۔ اولیت جیسے بھی حاصل ہو لیکن سجاد حیدر یلدرم اور پریم چند اردو افسانے کے دو اہم نام اور ستون ہیں ۔ یہ دو نام ہیں بلکہ دورجحانات ہیں ایک رومانیت کا اور دوسرا حقیقت نگاری کا ۔ لہٰذا بعد میں ہم دیکھتے ہیں کہ کئی ایسے نام ہیں جن کے ہاں یلدرم کا رومانی مزاج ہے اور بعض کے ہاں پریم چند کی طرح حقیقت نگاری کا رجحان غالب ہے۔ اور1947تک انہی دو رجحانات کی بازگشت اردو افسانے میں سنائی دیتی ہے۔ مثلا نیاز فتح پوری ، حجاب امتیاز علی ، مجنوں گورکھپوری ، کے افسانوں میں رومانوی مزاج ملتا ہے۔ جبکہ باقی ترقی پسند افسانہ نگاروں کا مزاجحقیقت نگاری سے ملتا ہے۔ لیکن ان رجحانات میں حقیقت نگاری کا رجحان غالب ہے۔
مثلا رشید جہاں ، احمد علی اور محمود الظفر کے افسانوں کا مجموعہ ”انگار ے “ جو کہ موجود ہ دور کے انتشار اور ناہموار حالات سے پیدا ہونے والی بغاوت کا آئینہ دار ہے۔ خصوصا 1936ءکے بعد تو چار افسانہ نگاروں جن میں کرشن چندر ، راجندر سنگھ بیدی ، سعادت حسن منٹو ، اور عصمت چغتائی کے ہاں حقیقت کے زاوےے زیادہ مضبوط ہیں۔ کرشن چندر نے حقیقت میں رومان کا امتزاج پیداکرنے کی کوشش کی لیکن ان کا رومان بھی رومانیت کے ذیل میں نہیں آتا۔ اور ان کے رومان کا تعلق حقیقت سے ہے۔ کرشن کے کردار اسی حقیقی دنیا میں محبت کرتے ہیں اسی لیے انہیں اکثر جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس جدائی کے پس منظر میں معاشی معاشرتی حالات بھی موجود ہوتے ہیں۔
راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کا تعلق بھی حقیقت نگاری کی طرف زیادہ او ررومان کی طرف کم ہے۔ اُن کے ہاں موضوعات کا مکمل تنوع موجود ہے۔ اور انہوں نے نے معاشیات ، نفسیات ، معاشرت ، ہمارے رشتے ، پھر سماج ہر حوالے سے لکھا اور حقیقت سے اُن کا گہرا رشتہ موجود ہے۔
جبکہ منٹو کا تعلق ہماری معاشرتی حقیقتوں سے گہرا ہے وہ ساری زندگی ہماری سماجی ، معاشرتی منافقتوں اور غلاظتوں کی نشاندہی کرتا رہا۔ عصمت چغتائی نے بھی معاشی اور معاشرتی حالات کے تحت پیدا ہونے والی جنسی محرمیوں پر کہانیاں لکھیں۔ اور متوسط گھرانے کی زندگی پر قلم اٹھایا۔
حیات اللہ انصاری کا افسانہ ”آخری کوشش“ اس حوالے کی شاید بہترین مثال ہے جو معاشی مسائل سے پیدا ہونے والی انسان کی بے بسی کی تصویر ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے دیہات کی عکاسی کی ہمارے داخلی اور خارجی مشکلات کی کہانیاں بھی بیان کیں۔ اور اپندرناتھ اشک اور خواجہ احمد عباس کے افسانوں کا رشتہ خلاءسے نہیں زمین سے رہا ۔ لہذا ٧٤ تک جو افسانہ سفر کرتے ہوئے پہنچا وہ ان رومان اور حقیقت دونوں رجحانات کے ساتھ آیا لیکن اس کی بنیاد زندگی اور اس کے مسائل ہی رہے ۔ افسانوں میں رومان کی فضاءبھی اس قسم کی ہے کہ اس کو سماج سے الگ نہیں کر سکتے ۔ یعنی رومان اور حقیقت ساتھ ساتھ سفر کر رہے ہیں۔

بدھ, مارچ 27, 2013

پاکستانی نظم

جہاں تک نظم کی ارتقاءکا تعلق ہے تو نظم کی ترقی کا دور 1857ءکے بعد شروع ہوا لیکن اس سے پہلے بھی نظم ہمیں ملتی ہے۔ مثلا جعفر زٹلی اور اور شاہ حاتم وغیرہ کے ہاں موضوعاتی نظمیں ملتی ہیں۔ لیکن ہم جس نظم کی بات کر رہے ہیں اس کا صحیح معنوں میں نمائندہ شاعر نظیر اکبر آباد ی ہے ۔ نظیر کا دور غزل کا دور تھا لیکن اُس نے نظم کہنے کو ترجیح دی اور عوام کا نمائندہ شاعر کہلایا ۔اُس نے پہلی دفعہ نظم میں روٹی کپڑ ا اور مکان کی بات کی اور عام شخص کے معاشی مسائل کو شعر میں جگہ دی ۔ اُن کے بعد 57 تک کوئی قابل ذکر نام نہیں لیکن 57 کے بعد انگریزی ادب کا اثر ہمارے ادب پر بہت زیادہ پڑا اور اس طرح انجمن پنجاب کے زیر اثر موضوعاتی نظموں کا رواج پڑا۔ آزاد اور حالی جیسے لوگ سامنے آئے نظم کو سرسید تحریک نے مزید آگے بڑھایا لیکن اس نظم کا دائرہ محدود تھا۔ موضوعات لگے بندھے اور ہیئت پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی ۔ ہاں اس دور میں ہیئت کے حوالے سے ا سماعیل میرٹھی اور عبدالحلیم شرر نے تجربات کیے لیکن انھیں اتنی زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی ۔ اکبر الہ آبادی اور اسماعیل میرٹھی کے ہاں مقصدیت کا سلسلہ چلتا رہا
لیکن علامہ اقبال نے نظم کہہ کر امکانات کو وسیع تر کر دیا اُس نے ہیئت کا تو کوئی تجربہ نہیں کیا لیکن اُس نے نظم کی مدد سے انسان خدا اور کائنات کے مابین رشتہ متعین کرنے کی کوشش کی اور اس طرح اس فلسفے سے نئی راہیں کھلیں انھوں غیر مادی اور مابعد الطبعیاتی سوالات اُٹھائے جس کی وجہ سے نظم میں موضوع کے حوالے سے نئے راستوں کا تعین ہوا ۔ اس کے بعد رومانیت پسند وں کے ہاں نظم آئی جن میں اختر شیرانی ، جوش ،حفیظ اور عظمت اللہ خان شامل ہیں لیکن وہ اقبال کی نظم کو آگے نہ بڑھا سکے اور محدود اور عمومی سطح کی داخلیت تک نظم کو ان لوگوں نے محدود کر دیا ۔
اس کے بعد نظم کا سفر ترقی پسند تحریک تک پہنچا ان لوگوں کے ہاں بھی ہیئت کے تجربے ہمیں نظر نہیں آتے ان شعراءمیں فیض ، مجاز ، ندیم ، ساحر وغیرہ شامل تھے۔
اس کے بعد ہمارے سامنے حلقہ ارباب ذوق کی نظم آتی ہے جن میں ن۔م راشد ، میراجی شامل ہیں انھوںنے شعوری کوشش کے ساتھ آزاد نظم کے تجربات کیے اور تہذیبی روایات ان فیض سے ہوتے ہوئے جب ان لوگوں تک آئی تو ٹوٹ گئی اور انھوں نے ایک جدید نظم کی ابتداءکی ان دونوں شعراءکی نظم پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہم نظم کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں ۔
47 کے بعد جو نظم سامنے آتی ہے اس میں تین بڑے رجحانات ہیں ۔پہلا ترقی پسندی جس میں رومان اور انقلاب دونوں کا حوالہ موجود ہے۔ دوسرا حلقہ ارباب ذوق کا داخلیت پسند رجحان جس میں معاشرے کی داخلی سطح کو دیکھا گیا ۔ جبکہ تیسرا رجحان جدید شعراءکا ہے جو مشینی اور صنعتی زندگی کاپیدا کر دہ ہے۔
رومانی او ر انقلابی قدروں کا رجحان
اس رجحان کو ترقی پسند تحریک سے وابستہ قرا ر دیا جاتا ہے ۔ یہ تحریک ایک مقصدی تحریک تھی جس نے مقاصد پر زیادہ زور دیا ۔ آزادی کے بعد جب عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو وہ جس لائن پر چل رہے تھے اسی پر چلتے رہے ۔ اُن کا مقصد یہ تھا کہ معاشرہ جس بحران اور غربت و افلاس کا شکار ہے اس کو ختم ہونا چاہےے ۔ اسی رجحان سے وابستہ شاعر مندرجہ ذیل ہیں ۔

ہفتہ, مارچ 02, 2013

پاکستانی غزل

غزل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا نمائندہ جس نے اس کو باقاعدہ رواج دیا تھا۔ وہ ولی دکنی تھا۔ لیکن ولی سے غزل کاآغاز نہیں ہوتا اس سے پہلے ہمیں دکن کے بہت سے شعراءکے ہاں غزل ملتی ہے۔ مثلاً قلی قطب شاہ، نصرتی ، غواصی ، ملاوجہی۔ لیکن ولی نے پہلی بار غزل میں تہذیبی قدروں کو سمویا ۔ اس کے بعد ہمارے سامنے ایہام گو شعراءآتے ہیں۔ جنہوں نے بھی فن اور فکر کے حوالے سے غزل کو تہذیب و روایات سے قریب کیا۔ایہام گوئی کے کی بعد اصلاح زبان اور فکر کی تحریک شروع ہوئی جو مظہر جانِ جاناں نے شروع کی انہوں نے غزل میں فارسیت کو رواج دیا۔ لیکن وہ مکمل طور پر ہندیت کو غزل سے نکال نہیں سکے۔لہٰذا اس کے بعدمیر تقی میر او ر سودا کا دور ہمارے سامنے آتا ہے اس میں ہمیں نئی تہذیب اور اسلوب کا سراغ ملتا ہے۔ اس میں ہمیں وہ کلچر نظر آتا ہے جو ہندی ایرانی کلچر ہے ۔وہ اسلوب ہے جس میں فارسی کا غلبہ تو ہے لیکن اندرونی طور پر ھندی ڈکشن کے اثرات ہیں۔میر اورسودا کا دور غزل کے عہد زریں کا دور ہے ۔ جس میں مکمل طور پر کلاسیکی پیمانوں کی پیروی کی گئی ۔
لکھنو میں غزل کا پہلا دور مصحفی ، انشاء، رنگین اور جرات کا ہے یہاں پہلی دفعہ کلاسیکی موضوعات پر ضرب پڑتی ہے اور اسلوب اور موضوع کے حوالے سے بہت سی نئی باتیں سامنے آئیں ۔ لکھنو کا دوسرا دور جو آتش اور ناسخ کا دور ہے اس میں پچھلے دور کے اقدار کو مزید مضبوط کیا جاتا ہے۔ یہاں سے محبوب اور اس کی شخصیت تبدیل ہونی شروع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے جو پاکیزگی کا تصور تھا اس میں دراڑیں پڑتی ہیں
اس کے بعد غالب کا دو رآتا جس پر لکھنو کا اثر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن فکری حوالے سے اس دور میں بڑی تبدیلی نظرآتی ہے۔ یہاں سے ایسی غزل شروع ہوتی ہے جو اپنے دامن میں تفکر کے بہت سے زاویے رکھتے ہی جس میں فلسفہ اور خاص کر خدا ، انسان اور کائنات کارشتہ مقرر کرنا جیسے موضوعات غزل میں داخل ہوتے ہیں۔
1857ءکے بعد غزل کا وہ دور شروع ہوتا ہے جس میں کلاسیکی عمل کے اثرات ہیں۔ یعنی رام پور کا دور ۔ اس دور میں داغ دہلوی، امیر ، جلال اور تسلیم جیسے شاعر شامل ہیں۔
اس کے بعد صحیح معنوں میں غزل کا جدید دور شروع ہوتا ہے۔ اور وہ ہے الطاف حسین حالی کادور اس میں کوئی شک نہیں کہ حالی نے جدید غزل کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ حالی کی غزل کی بنیاد دراصل مقصدیت پر ہے۔اس کے بعد جو اہم نام جدید غزل کے حوالے سے ہمارے سامنے آتا ہے وہ اقبال کا ہے ۔ وہ حالی کی مقصدیت کو آگے لے کر چلتے ہیں لیکن وسیع معنوں میں۔ اقبال صرف اخلاقیات اور مقصدی مضامین تک محدود نہیں رہے۔ اقبال کی غزل کا مرکزی کردار مکالمے کرتا ہے ۔ فطرت سے، کائنات سے ، اور سب سے بڑھ کر اپنے داخل سے ۔ اب غزل ایک نئے تصور کے تحت آگئی ہے۔ انسان ، خدا ، کائنات اور فطرت کے رشتے اور پھیلی ہوئی کائنات سب اس میں موجود ہیں۔
اقبال کے بعداصغر ، فانی بدایونی ، حسرت موہانی ، جگر مراد آبادی اور یاس یگانہ چنگیزی جدید معمار ہیں۔ اصغر تصوف کے راستے اور فانی نے موت اور یاسیت کے راستے کائنات کی معنویت تلاش کرنے کی کوشش کی۔ جگر ایک رندی اور سرمستی کے راستے تلاش کرتا ہے۔ جبکہ حسرت موہانی ایک نیا تصورِ عشق سامنے لاتے ہیں ۔ انھوں نے غیر مادی تصور عشق کو مٹا کر مادی تصورِعشق دیا۔ اُس نے ایک مادی پیکر محبوب کو دیا جو اسی زمین پر ہمارے درمیان رہتا ہے۔ جبکہ یاس یگانہ چنگیزی حقیقت کے حوالے سے اور ذات کی انانیت کے حوالے سے اہم نام ہے۔
اس کے بعد ہمارے سامنے ترقی پسندوں کا گروپ آتا ہے جس میں بہت سے شاعر ساحر، فیض ، مجروح، احمد ندیم قاسمی ، عدم ، جانثار اختر وغیر ہ شامل ہیںاور ترقی پسند تحریک تک غزل پہنچتی ہے۔ اس کے بعد 1947ءکے بعد کچھ شاعر ہندوستان میں رہ جاتے ہیں اور کچھ پاکستان میں ۔

سوموار, فروری 11, 2013

حلقہ اربابِ ذوق

حلقہ ارباب ذوق اردو ادب کی سب سے فعال تحریکوں میں سے ایک ہے جو کہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔
بقول یونس جاوید:
” حلقہ اربابِ ذوق پاکستان کا سب سے پرانا ادبی ادارہ ہے یہ مسلسل کئی برسوں سے اپنی ہفتہ وار مٹینگیں باقاعدگی سے کرتا رہا ہے۔ جنگ کا زمانہ ہویا امن کا دور اس کی کارکردگی میں کبھی فرق نہیں آیا“
ایک اور جگہ یونس جاوید لکھتے ہیں:
” حلقہ اربابِ ذوق ایک آزاد ادبی جمہوری ادارہ ہے اور بحیثیت تنظیم اس کا تعلق کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے نہیں۔“
بقول سجاد باقر رضوی:
” حلقہ اربابِ ذوق ایک مدت مدید سے ادبی خدمات کرتا چلا آیا ہے۔ ادیبوں کی یہ جماعت ملک کی وہ جماعت ہے جو ادب اور ثقافت کو پروان چڑھاتی رہی ہے۔“
ترقی پسند تحریک اردو ادب کی ایک طوفانی تحریک تھی اس تحریک نے بلاشبہ خارجی زندگی کا عمل تیز کر دیا تھا چنانچہ اس تحریک کے متوازی ایک ایسی تحریک بھی مائل بہ عمل نظرآتی ہے جس نے نہ صرف خارج کو بلکہ انسان کے داخل میں بھی جھانک کر دیکھا جس کا نام ”حلقہ اربابِ ذوق “ ہے۔ حلقہ اربابِ ذوق اور ترقی پسند تحریک کو بلعموم ایک دوسرے ی ضد قرار دیا جاتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ داخلیت اور مادیت و روحانیت کی بناءپر ان دونوں میں واضح اختلاف موجود ہے۔ ترقی پسندوں نے اجتماعیت پر زور دیا جبکہ حلقے والوں نے انسان کو اپنے شخصیت کی طرف متوجہ کیا ، ایک کا عمل بلاواسطہ خارجی اور ہنگامی تھا جبکہ دوسری کا بلاواسطہ داخلی اور آہستہ ہے۔
آغاز
29 اپریل 1939ءکو سید نصیر احمد جامعی نے اپنے دوستوں کو جمع کیا جن میں نسیم حجازی ، تابش صدیقی ، محمد فاضل وغیرہ شامل ہیں اور ایک ادبی محفل منعقد کی نسیم حجازی نے اس میں ایک افسانہ پڑھا اور اس پر باتیں ہوئیں اس کے بعد اس محفل کو جاری رکھنے کے لیے ایک منصوبہ بنایا گیا اور رسمی طور پر اس کا نام ” مجلس داستان گویاں‘’ رکھ دیا گیا بعد میں اس کا نام ”حلقہ اربابِ ذوق “ رکھ دیا گیا۔
اغراض و مقاصد
قیوم نظر نے اپنے انٹرویو میں اس تحریک کے جو اغراض و مقاصد بیان کئے گئے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
*1 اردو زبان کی ترویج و اشاعت
*2 نوجوان لکھنے والوں کی تعلیم و تفریح
*3 اردو لکھنے والوں کے حقوق کی حفاظت
*4 اردو ادب و صحافت کے ناسازگار ماحول کو صاف کرنا
ادوار:۔
*1 ابتداءسے میراجی کی شمولیت تک ( اپریل 1939ءسے اگست 1930ءتک
*2 میراجی کی شمولیت سے اردو شاعری پر تنقید کے اجراءتک (اگست 1940ءسے دسمبر 1940ءتک
*3 دسمبر 1940ءسے 1947ءمیں قیام پاکستان تک *4 1948ءسے مارچ 1967ءمیں حلقے کی تقسیم تک *5 مارچ 1967ءسے زمانہ حال 1976ءتک

ہفتہ, فروری 02, 2013

دل دادۂ بیدلؔ

گذشتہ صدیوں میں اردو شاعری نے تین عالم گیر اور لازوال آوازوں کو جنم دیا میری مراد اٹھارویں صدی کے میرؔ ، انیسویں کے غالبؔؔ اور بیسویں کے اقبالؔ سے ہے ۔ ہم نے تہذیبی و ثقافتی اور علمی و ادبی سطح پر اِن قدآور شعراء کو تو یاد رکھا جن کی حیثیت بر صغیر کی اسلامی  تہذیب و تاریخ میں برگ و ثمر کی تھی لیکن 1835ء میں فارسی زبان کی انگریز کے ہاتھوں سرکاری بے دخلی اور 1857ء کے سیاسی زوال کے بعد رفتہ رفتہ اُن شخصیات کو فراموش کرتے چلے گئے جن کے فکر و فن سے نہ صر ف میرؔ و غالبؔ اور اقبالؔ جیسے بلکہ بے شمار دیگر شاعروں اور ادیبوں نے بھی اپنے فکر و فن کے چراغ روشن کیے تھے اور جن کی حیثیت برصغیر کی مسلم تہذیب اور ثقافت میں اساس و بنیاد کی تھی ۔ ایسی عبقری اور رجحان ساز شخصیات میں سے ایک مرزا عبدالقادر بیدل ؔ (1667ء۔ 1720ء)  بھی  تھے ۔برصغیر میں مغل دورِ حکومت کے عہدِ عروج کے بہت بڑے صوفی ، مفکر اور فن کار شاعر اور نثر نگار تھے۔ ادبی حلقوں میں ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ بیدلؔ کی اردو میں شناخت کا تمام تر دارومدار غالبؔ کے اس شعر کی وجہ سے ہے :
طرزِ بیدلؔ میں ریختہ کہنا
اسد اللہ خان قیامت ہے
یہ حقیقت کا اُدھورا رُخ ہے ۔ حقیقت کی مکمل تصویر ہمارے سامنے لاہور کے ’’ادارۂ ثقافت ِ اسلامیہ ‘‘ سے حال ہی میں قرطبہ یونیورسٹی کے جواں سال ایم فل اسکالر اور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں کے شعبۂ اردو کے اُستاد شوکت محمود کی شائع ہونے والی تحقیقی کاوش ’’ قلزمِ فیض میرزا بیدلؔ‘‘ کے مطالعے کے بعد ہمارے سامنے آشکار ہوئی جس میں فاضل مؤلف نے اپنے انیس صفحاتی تحقیقی مقدمے کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی نہایت کامیاب کوشش کی ہے کہ اردو میں مرزا عبدالقادر بیدل ؔ کی خصوصاً گذشتہ سو سالوں میں اپنی قائم بالذات شناخت نہ صرف موجود رہی ہے بلکہ آئندہ موجود رہنے کے امکانات بھی موجود ہیں ۔ شوکت محمود نے اس مؤ قف کے اثبات کے لیے بیسویں اور اکیسویں صدی میں بیدلؔ کی سوانح و شخصیت اور فکر و فن پہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے مختلف شہروں سے مختلف اوقات میں تواتر کے ساتھ شائع ہونے والی نہایت وقیع و معتبر تفہیمی ، تنقیدی اور تحقیقی کتب کی سن وار ارتقائی فہرست پیش کی ہے جو بیدل ؔ سے اُن کی دلی عقیدت اور تحقیقی محبت کی غمازی کرتی ہے ۔ ’’قلزمِ فیض میرزا بیدلؔ‘‘ کے عرق ریزی سے لکھے گئے اس تحقیقی مقدے کے بالا ستعیاب مطالعے سے درج ذیل تین اُمور پہ روشنی پڑتی ہے:
    الف) 1835ء میں انگریز کے ہاتھوں فارسی کی سرکاری و عدالتی بے دخلی کے نتیجے میں فارسی زبان و ادب کی روز افزوں بے وقعتی کے باوصف فارسی شعر و ادب کے پڑھنے لکھنے کا ذوق ہندو پاک کے مسلمانوں میں تاحال کسی نہ کسی درجے میں موجود ہے ۔
    ب) ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے مسلمان اپنی اسلامی تہذیبی اور ثقافت کی ترویج و تحفظ سے قطعاً غافل نہیں ہیں۔
    ج) بیدل نہ صرف اپنی زندگی میں بلکہ وفات کے بعد بھی اپنی پر کشش شخصیت ، اعلیٰ اخلاقی کردار ، قلبی صوفیانہ میلان ، عمیق فلسفیانہ فکر اور نو بنو فنی جہات کے باعث فارسی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی محققین اور قارئین کا ایک سنجیدہ حلقہ پیدا کرنے میں ہمیشہ کامیاب رہے ہیں۔
بیدلؔ کی سوانح و شخصیت ، فکر و فن اور منثور و منظوم ترجمے پر تو کتابیں اردو میں شائع ہوتی  ہی رہتی ہیں اردو میں چونکہ بیدلؔ سے عقیدت رکھنے والے محققین اور قارئین کا ایک طبقہ ( محدود ہی سہی ) موجود ہے ۔ اس لیے فوری ضرورت اس امر کی تھی کہ اردو زبان اور شعر و ادب کی معتبر اور مقتدر شخصیات کے قلم سے پچھلے سو سالوں میں بیدلؔ پہ لکھے گئے نادر و وقیع مضامین و مقالات کو مختلف رسائل و جرائد سے ڈھونڈ کر تحقیق کی کسوٹی پر پرکھا جاتا اور پھر بیدلؔ کی سوانح و شخصیت ، فکر و فن اور غالبؔ و اقبالؔ کے ساتھ اُن کے موازنے و تقابل کے عنوانات کی روشنی میں مرتب کرکے شائع کر دیا جاتا تاکہ اردو میں بیدلؔ شناسی کی جھلملاتی شمع وقت اور زمانے کی شاہراہ پر سے گزرنے والے اردو اور فارسی کا کلاسیکی ذوق رکھنے والے سیاحوں کی تاریخ ، تہذیب ، ثقافت اور فکر و فن ایسی بے شمار منزلوں کا سراغ دکھا سکتے ۔ شوکت محمود نے ’’ قلزمِ فیض میرزا بیدلؔ ‘‘ کے عنوان سے مولانا محمد حسین آزاد ، سید سلیمان ندوی ، مولانا غلام رسول مہرؔ ، ڈاکٹر عبدا لغنی ، ڈاکٹر جمیل جالبی ، نعیم حامد علی الحامد ، مجنوں گورکھپوری ، ڈاکٹر سید عبداللہ ، ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی ، پروفیسر حمید احمد خان اور ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کے بیدلؔ کی سوانح و شخصیت ، فکر و فن اور موازنے و تقابل پہ مبنی ایسے ہی گیارہ نہایت وقیع اور گراں قدر مضامین و مقالات کو کتب و رسائل سے نکال کر ایک جلد میں جمع کرکے یہ کمی کسی حد تک پوری کرنے کی طرف پہلا قدم بڑھایا ہے کیونکہ بقول اُن کے یہ منصوبہ کئی جلدوں میں پایۂ تکمیل کو پہنچے گا ۔ اُمید ہے قارئین ِ اردو و فارسی ادب اس تحقیقی کاوش کا خیر مقدم کریں گے اور مؤلف سے بھی یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تحقیق و دریافت کے اس سلسلے کی مزید جلدوں پر اپنا کام جاری رکھیں گے۔
    جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا گیا کہ ’’ قلزمِ فیض میرزا بیدلؔ ‘‘ پنجاب کے قدیم تحقیقی دارے ’’ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ، 2 کلب روڈ ، لاہور ‘‘ سے شائع ہوئی ہے اور اس کی قیمت صرف ۔/350 روپے ہے۔

جمعرات, جنوری 24, 2013

ترقی پسند تحریک


1926ءمیں اردو ادب میں ایک نئی تحریک نے جنم لیا ، اور ترقی پسند تحریک کے نام سے مشہور ہوئی ابتداءمیں اس تحریک کا پر جوش خیر مقدم ہوا۔
پس منظر
1917ءمیں روس میں انقلاب کا واقعہ ، تاریخ کا ایک بہت ہی اہم واقعہ ثابت ہوا ۔ اس واقعہ نے پوری دنیا پر اثرات مرتب کئے ۔ دیگر ممالک کی طرح ہندوستان پر بھی اس واقعہ کے گہرے اثرات پڑے اور ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد میں تیزی آئی ۔ دوسری طرف ہندو مسلم اختلاف میں اضافہ ہوا ۔ ان حالات اور سیاسی کشمش کی بدولت مایوسی کی فضا چھانے لگی ، جس کی بنا پر حساس نوجوان طبقہ میں اشتراکی رجحانات فروغ پانے لگے ۔ شاعر اور ادیب طالسطائے کے برعکس لینن اور کارل مارکس کے اثر کو قبول کرنے لگے ۔ جبکہ روسی ادب کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ مذہب کی حیثیت افیون کی سی ہے۔ مذہب باطل تصور ہے۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ معاش ہے۔ اس طرح اس ادب کی رو سے سب سے بڑا مذہب انسانیت ہے اور ادب کا کام مذہب سے متنفر کر کے انسانیت میں اعتقاد پیدا کرنا ہے ۔ اس طرح یہ نظریات ترقی پسند تحریک کے آغاز کا سبب بنے۔
دوسری طرف 1923ء میں جرمنی میں ہٹلر کی سرکردگی میں فسطائیت نے سر اُٹھایا ، جس کی وجہ سے پورے یورپ کو ایک بحران سے گزرنا پڑا۔ ہٹلر نے جرمنی میں تہذیب و تمدن کی اعلیٰ اقدار پر حملہ کیا ۔ بڑے بڑے شاعروں اور ادبیوں کو گرفتار کر لیا۔ ان شعراء و ادباء میں آئن سٹائن اور ارنسٹ ووکر بھی شامل تھے۔ ہٹلر کے اس اقدام پر جولائی 1935ء میں پیرس میں بعض شہرہ آفاق شخصیتوں مثلاً رومن رولان ، ٹامس مان اور آندر مالرو نے ثقافت کے تحفظ کے لیے تمام دنیا کے ادیبوں کی ایک کانفرنس بلالی ۔اس کانفرس کا نام تھا:
The world congress of the writers for the defence of culture.
ہندوستان سے اگر چہ کسی بڑے ادیب نے اس کانفرس میں شرکت نہیں کہ البتہ سجاد ظہیر اور ملک راج آنند نے ہندوستان کی نمائند گی کی ۔ اس طرح بعد میں سجاد ظہیر اور ملک راج آنند نے کچھ دیگر ہندوستانی طلبا کی مدد سے جو لندن میں مقیم تھے۔ ”انجمن ترقی پسند مصنفین“ کی بنیاد رکھی۔ اس انجمن کا پہلا جلسہ لندن کے نانکنگ ریستوران میں ہوا۔ جہاں اس انجمن کا منشور یا اعلان مرتب کیا گیا ۔ اس اجلاس میں جن لوگوں نے شرکت کی ان میں سجاد ظہیر ، ملک راج آنند ، ڈاکٹر جیوتی گھوش اور ڈاکٹر دین محمد تاثیر وغیرہ شامل تھے۔ انجمن کا صدر ملک راج آنند کومنتخب کیا گیا ۔ اس طرح انجمن ترقی پسند مصنفین جو ترقی پسند تحریک کے نام سے مشہور ہوئی وجود میں آئی ۔
مقاصد
ترقی پسندتحریک نے اپنے منشور کے ذریعے جن مقاصد کا بیان کیا وہ کچھ یوں ہیں:
فن اور ادب کو رجعت پرستوں کے چنگل سے نجات دلانا اور فنون لطیفہ کو عوام کے قریب لانا۔
ادب میں بھوک، افلاس، غربت، سماجی پستی اور سیاسی غلامی سے بحث کرنا۔
واقعیت اور حقیقت نگاری پر زور دینا۔ بے مقصد روحانیت اور بے روح تصوف پرستی سے پرہیز کرنا۔
ایسی ادبی تنقید کو رواج دینا جو ترقی پسند اور سائینٹیفک رجحانات کو فروغ دے۔
ماضی کی اقدار اور روایات کا ازسر نو جائزہ لے کر صر ف ان اقدار اور روایتوں کو اپنانا جو صحت مند ہوں اور زندگی کی تعمیر میں کام آسکتی ہوں۔
بیمار فرسودہ روایات جو سماج و ادب کی ترقی میں رکاوٹ ہیں ان کو ترک کرنا وغیرہ۔
مقبولیت
ترقی پسند تحریک کے مذکورہ بالا مقاصد سے ایسا ظاہر ہوتا تھا کہ جس سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریک کے منشور کے منظر عام پر آتے ہی اس کا خیر مقدم کیا گیا۔ چنانچہ ہندوستان میں سب سے پہلے مشہور ادیب اور افسانہ نگار منشی پریم چند نے اسے خوش آمدید کہا۔ علامہ اقبال اور ڈاکٹر مولوی عبدالحق جیسے حضرات نے اس تحریک کی حمایت کی اور اس تحریک کے منشور پر دستخط کرنے والوں میں منشی پریم چند، جوش، ڈاکٹر عابد حسین، نیاز فتح پوری، قاضی عبدالغفار، فراق گورکھپوری، مجنوں گورکھپوری، علی عباس حسینی کے علاوہ نوجوان طبقہ میں سے جعفری، جاں نثار اختر، مجاز حیات اللہ انصاری اور خواجہ احمد عباس کے نام قابل ذکر ہیں۔
نتائج
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس تحریک نے جن مقاصد اور موضوعات کا تعین کیا تھا ان کے حصول میں یہ لوگ ادبی سطح پر کس حد تک کامیاب ہوئے ۔ اور حصول مقاصد کی کوشش میں فن کے تقاضے کہاں تک ملحوظ رکھے اس نقطۂ نظر سے جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ اس تحریک نے جو بلند بانگ دعوئے کئے تھے ، ان کے مقابلے میں ان لوگوں نے جو ادبی سرمایہ پیش کیا وہ مایوس کن ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس تحریک میں دو قسم کے لوگ شامل تھے۔ ایک وہ لوگ جو اس تحریک کے آغاز سے پہلے بھی اچھے فنکار تھے اور اس کے خاتمے کے بعد بھی اچھے فنکار رہے۔
وہ لوگ جنہوں نے اس تحریک کے نظریات کو غور و تدبر کے بعد اپنی فکر ی تربیت کرکے اپنے احساس کا حصہ بنایا اور فنی خلوص کو مارکسی نظریہ کے لیے کام کرتے ہوئے بھی مد نظر رکھا ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ ان لوگوں میں کرشن چندر، فراق، فیض، احسان دانش ،ندیم، ساحر وغیرہ شامل ہیں۔ دراصل یہ لوگ تحریک کے وجود سے پہلے بھی اچھے فنکار تھے اور تحریک کے خاتمے کے بعد بھی اچھے فنکار تھے۔
بعد میں تحریک کے خلاف ایک ردعمل اُٹھا جس کے کئی اسباب تھے مثلاً منشور کو نظرانداز کرنا ، روسی ادب کی سستی نقل، اپنی زمین سے کمزور ناطہ ، ماضی سے انحراف ، دوغلا پن، غزل کی مخالفت، آمرانہ حکمت عملی وغیرہ۔

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...