جمعرات, ستمبر 08, 2011

سودا کی قصیدہ نگاری

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی قصیدے کی تعریف یوں کرتے ہیں،
” لفظ قصیدہ عربی لفظ قصد سے بنا ہے اس کے لغوی معنی قصد (ارادہ ) کرنے کے ہیں۔ گویا قصیدے میں شاعر کسی خاص موضوع پر اظہار خیال کرنے کا قصد کرتا ہے اس کے دوسرے معنی مغز کے ہیں یعنی قصیدہ اپنے موضوعات و مفاہیم کے اعتبار سے دیگر اصناف ِ شعر کے مقابلے میں وہی نمایاں اور امتیازی حیثیت رکھتا ہے جو انسانی جسم و اعضاءمیں مغز کو حاصل ہوتی ہے فارسی میں قصیدے کو چامہ بھی کہتے ہیں۔“
 قصیدہ ہیئت کے اعتبار سے غزل سے ملتا ہے بحر شروع سے آخر تک ایک ہی ہوتی ہے پہلے شعر کے دونوں مصرعی اور باقی اشعار کے آخری مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتے ہیں ۔ مگر قصیدے میں ردیف لازمی نہیں ہے۔ قصیدے کا آغاز مطلع سے ہوتا ہے۔ بعض اوقات درمیان میں بھی مطلعے لائے جاتے ہیں ایک قصیدے میں اشعار کی تعداد کم سے کم پانچ ہے زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر نہیں ۔ اُردو اور فارسی میں کئی کئی سو اشعار کے قصیدے بھی ملتے ہیں۔
اردو میں قصیدے کی ابتدا:۔
 فتح ایران کے بعد قصیدے کی صنف مسلمانوں کے ساتھ عرب سے ایران اور ایران سے سرزمین پاک و ہند میں آئی ۔ اردو قصیدے کی ابتداءدکن سے ہوئی ۔ دکن کا شاعر نصرتی اردو کا پہلا قصیدہ گو شاعر ہے۔
قصیدہ کی دو قسمیں ہیں (١) ا تمہید جس میں قصیدے کے چاروں اجزاء، تشبیب، مدح، گریز ، دعا، موجود ہوتے ہیں ۔ (٢) مدحیہ جو تشبیب اور گریز کے بغیر   براہ راست مدح سے شروع ہوتے ہیں

سودا کی قصیدہ نگاری:۔
 سودا اور ذوق دونوں نے ایک ہی فن پر طبع آزمائی کی ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سودا اس میدان میں ذوق سے سبقت لے گئے ہیں ۔ سودا نے پہلی بار فارسی کے طرز پر قصیدے کہے ۔ فارسی گو شعراءسے اس میدان میں ٹکر سبھی نے لی ہے اور اگر مولوی محمد حسین آزاد کے بیان پر اعتبار کیا جائے تو وہ ”اس میدان میں فارسی کے نامی شہسواروں کے ساتھ عناں در عناں ہی نہیں گئے بلکہ اکثر میدانوں میں آگے نگل گئے ۔“ بقول مولانا آزاد” ان کے کلام کا زور و اثر انوری اور خاقانی کو دبا جاتا ہے۔ اور نزاکت ِ مضمون میں عرفی اور ظہوری کو شرماتا ہے۔“ ممکن ہے کہ آزاد کے بیا ن میں کچھ مبالغہ ہو، تاہم اس سے تو انکار مشکل ہے کہ کم از کم شمالی ہند میں سودا پہلے قصیدہ نگارہیں۔ اس بناءپر مصحفی نے ان کو ”تذکرہ ہند“ میں ” نقاش اول کہا ہے اور ان کے قصیدوں پر قصیدہ کہنا باعث فخر سمجھا ہے اور اس طرح سودا نے صحیح معنوں میں اُردو میں قصیدہ نگاری کی بنیاد ڈالی ہے۔
اردو قصیدے کے نام کے ساتھ ہی سودا کا نام فوری طور پر ذہن میں آتا ہے ۔ سودا کو بلاشبہ اس میدان میں اولیت کا درجہ حاصل ہے، نہ صرف یہ کہ انہوں نے قصیدے کی روایت کو مضبوط کیا بلکہ اردو قصیدے میں بعض اضافے بھی کئے ۔ موضوع اور فن کے اعتبار سے بھی سودا نے قصیدے کو بہت کچھ دیا۔
 سودا کا شمار اردو کے بلند پایہ قصیدہ نگار شعراءمیں ہوتا ہے۔ سودا کی عظمت کا اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ انہی کے قصیدوں سے اردو قصائد نگاری ایک نئے موڑ میں داخل ہوتی ہے اردو قصیدہ کوپہلی بار سودا کی بدولت بلند مقام ، ایک بلند مرتبہ اور ایک بلند روایت ملی۔ سودا نے اردو قصیدہ کو ایک بھر پور اور توانا روایت سے آشنا کیا ا س میں نئے مضامین کا اضافہ کیا نئے خیالات ، نئے موضوعات داخل کئے اور ممکن حد تک اس کی حدود وسیع سے وسیع تر کر دیں ۔ سودا کی کلیات میں ٩٣ مدحیہ اور ٤ ہجویہ قصائد ملتے ہیں۔ بزرگانِ دین میں انہوں نے پیغمبر اسلام ، حضرت فاطمہ ، حضرت علی اور دیگر ائمہ کی تعریف کی ہے ۔ اربابِ دینوی میں ان کے ممدوح عالمگیر ثانی، شاہ عالم ، آصف جاہ، شجاع الدولہ، آصف الدولہ ، نواب نسبت خان وغیرہ اور اودھ کے انگریز ریڈنٹ رچرڈسن شامل ہیں۔
سودا کی عظمت کا اعتراف:۔
 اردو کے تما م نقادان سخن سود ا کے قصائد کی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں بعض لوگ تو سودا کے قصائد کے اس حد تک مداح ہیں کہ انہیں بنیادی طور پر قصیدہ گو شاعر مانتے ہیں اور اُن کے قصیدے کو غزل پر ترجیح دیتے ہیں ۔ یہ رجحان سودا کے زمانے میں بھی تھا۔ جس کا سودا کو احساس تھا چنانچہ سودا خود لکھتے ہیں،
لوگ کہتے ہیں کہ سودا کا قصیدہ ہے خوب
ان کی خدمت میں لئے میں یہ غزل جائوں گا
 شیفتہ ”گلشن ِ بے خار“ میں لکھتے ہیں،
” عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ سودا کا قصیدہ غزل سے بہتر ہے مہمل بات ہے، فقیر کے خیال میں اس کی غزل قصیدے سے بہتر ہے اور قصیدہ غزل سے ۔“
 بقول ڈاکٹر ضیاءاحمد بدایونی،
” سودا بلا شبہ ایک دیو پیکر(Genius)تھے۔ انہوں نے تقریباً ہر صنف شعر میں طبع آزمائی کی اور ہر ایک میں قدرت کلا م کے جوہر دکھائے ۔ وہ وسیع علم اور بے پناہ تخیل کے مالک تھے۔ نادر تشبیہات اور طرفہ اسالیب ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے۔ جدھر اشہب قلم کی با گ موڑتے ایک تہلکہ مچا دیتے ۔“
قصائد ِ سودا کی فنی خصوصیات:۔
 اگر سودا اردو کی قصیدے کے امام ہیں تو ان کے قصیدوں کو دیکھناہوگا کہ وہ فنی نقطہ نظر سے کس مقام پر فائز ہونے کے لائق ہیں۔
مطلع:۔
  قصیدے کی ابتداءمطلع سے ہوتی ہے قصدے کی فنی خوبیوں اور خامیوں کا انحصار مطلع پر ہے۔ اس لئے شاعر کی کوشش ہوتی ہے کہ مطلع دلکش ہو اور جدت خیال اور جدت بیان سے ایسی ندرت اور ایسی شیفتگی پیدا کردے کہ سننے اور پڑھنے والا چونک جائے اوراس کی توجہ جذب کرے۔ سودا اس فن کے ماہر ہیں ان کے مطلعے اس فن پر پورے اُترتے ہیں اور کامیابی سے تاثر پیدا کرتے ہیں۔
جوں غنچہ آسماں نے مجھے بہر عرض حال
دیں سو زیاں و دہن و لیکن سبھی ہیں لال
 سرفراز الدولہ کی شان میں لکھے گئے قصدے کے مطلع میں جدت نے لطف پیدا کر دیا ہے۔
 صباح عید ہے اور یہ سخن ہے شہرہ  عام                                          
جلال دختررز بے نکاح و روزہ حرام
 حضرت فاطمہ کی مدح میں قصیدے کا مطلع
بکھرے سے اپنے زلف کے پردے کو تو اُٹھا
ابر سیہ میں ماہ درخشاں کو مت چھپا
 ڈاکٹرشمس الدین صدیقی فرماتے ہیں،
” قصیدوں کے لئے جو معیار سودا کے پیش نظر تھے ۔ ان کے لحاظ سے ان کے قصیدے جانچے جائیں تو معلوم ہوگا کہ وہ ہر طرح معیاری ہیں اکثر قصیدوں کے مطلعے ایسے ہیں جو قاری کی توجہ کو فوراً اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں ۔ خواہ خیال کی ندرت کی وجہ سے خواہ بیان کی جدت یا زبان کی برجستگی و شگفتگی کے سبب۔“
تشبیب:۔
 تشبیب قصیدے کی تمہید ہوتی ہے ۔ اکثر و بیشتر تشبیب کا مدح سے کوئی تعلق نہیں ہوتا چونکہ اس میں ہر طرح کے موضوعات کی گنجائش ہے اس لئے شعراءکواپنی قابلیت کے اظہار اور قادر الکلامی کے جوہر دکھانے کا پورا پورا موقع ملتا ہے۔ سودا نے قصیدہ کے اس حصے کو کیسے استعمال کیا۔ بقول ڈاکٹر شمس الدین صدیقی،
” تشبیب میں سودا نے اس قدر تنوع برتا ہے ایسی ایسی جدتیں پیدا کیں ہیں ایسے زور بیان ، مضمون آفرینی ، خیال بندی اور نُدرت ادا تشبیہ استعارہ کا صرف کیا ہے کہ اپنی نظیر آپ بن گئی ہے۔“
            سودا کی بعض تشبیبیں بہاریہ ہیں، بعض رندانہ ، بعض عاشقانہ ، بعض میں شکایت زمانہ ہے بعض میں حکیمانہ و اخلاقی نکات ، بعض میں شاعرانہ تعلی ہے ۔ بعض میں معاصر شعرا ءپر تعریض ، بعض میں خوشی کو مجسم کیا ہے۔ یہ تشبیبیں بجائے خود چھوٹی چھوٹی نظمیں تصور کی جا سکتی ہیں جن میں موضوع کی وحدت ہے اور سودا کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ بہاریہ تشبیب ان الفاظ میں باندھی گئی ہے۔
 اُٹھ کیا بہمن ووے کا چمنستان سے عمل
 تیغ اُردی نے کیا ملک ِخزاں مستاصل
 قوتِ نامیہ لیتی ہے ، نباتات کا عرض
ڈال سے پات تلک ، پھول سے لےکر تا پھل
 واسطے خلعتِ نوروز کے ہرباغ کی بیچ 
آب جو قطع لگی کرنے روش پر مخمل
 ایک اور جگہ عاشقانہ تشبیب ان الفاظ میں باندھی گئی ہے۔
چہرہ مہر وش ہے ، ایک سنبل مشک فام دو
حسن بتاں کے دور میں ہے سحر ایک شام دو
خون جو کیا ہے بے گنہ تو نے مرا دل و جگر
لیویں گے تجھ سے حشر میں اپنے یہ انتقام دو
ابروئے یار کاخیال دل میں رہے ہے روز شب
کاش یہ تیغ آبدار ، کر بھی چکے نیا م دو
اس کے علاوہ سودا کی وہ تشبیب بہت دلکش ہوتی ہے جس میں وہ قناعت اور خوداری کی تعلیم دیتے ہیں ، وہ خود ایک خودار انسان تھے اس لئے ان کے اخلاقی اشعار محض رسمی نہیں ہیں۔
خوشامد کب کریں عالی طبیعت اہل دولت کی
نہ جھاڑے آستیں کہکشاں شاہوں کی پیشانی
اکیلا ہو کے رہ دنیا میں گر چاہے بہت جینا
ہوئی ہے فیض تنہائی سے عمر خضر طولانی
گریز:۔
 تشبیب اور مدح کے درمیان غیر محسوس جوڑ لگانا گریز کہلاتا ہے۔ اس میں شاعر کی قادر لکلامی کا پتہ چلتا ہے ۔ تاہم سودا اس پل صراط سے بڑی مہارت سے گزر گئے ہیں۔ ایک قصیدہ جو حضرت علی کی شان میں ہے اس کی تشبیب میں معشوق کی بے وفائی کا گلہ کرتے ہوئے حضرت علی کی مدح کی طرف آنے میں گریز کا حسن ملاحظہ فرمائیے
فریاد کروں کس سے رواداری کی تیرے
کہنے کے لئے گبر ُ و مسلماں ہے برابر
نالش کروں اب واں کہ جہاں حق بطرف میں
مور و ملخ و دیو و سلیماں ہے برابر
 سودا نہ صرف اس فن کے ماہر بلکہ امام ہےں ۔ ان کے ہاں ممدوح کا ذکر اس طرح آتا ہے جیسے تشبیب کا لازمی نتیجہ ہو۔ اس قسم کی گریز زیادہ تر سودا کے ہاں پائی جاتی ہے۔ سودا نے جس قصیدے میں خوشی کو مجسم کیا ہے ۔ اس میں گریز نہایت فطر ی طریقے پر استعمال کی ہے۔
آج اس شخص کی ہے سالگرہ کی شادی
کہ بہ صورت ہے وہ انسان بہ سیرت ہے ملک
یعنی نواب سلیماں فرد نام آصف جاہ
عہد میں جس کے یہ غیور و بزرگ و کوچک
مدح:۔
 گریز کے بعد قصیدے کا اہم حصہ آتا ہے یعنی مدح ، قصیدہ دراصل کسی کی مدح کے لئے لکھا جاتا ہے۔ اس لئے شاعر اپنی ساری توانائیاں اس میں صرف کرتا ہے۔ اس میں شاعر ممدوح کے جلال و جمال عظمت و بزرگی ، شجاعت و جرا ت اور عدل و انصاف کی تعریف کرتا ہے جب قصیدہ نعت و منقبت کے رنگ میں ہوتا ہے۔ تو ممدوح کے مزار اور روضہ کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔ لیکن قصیدہ نگار کو مدح میں ایک بات کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے سلاطین ، اُمرا اور اہل ِ دین کی مدح کے انداز میں فرق مراتب قائم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ سودا کے مدح میں یہ فرق مراتب قائم رہتا ہے۔ مثلاً ایک قصیدے میں رسول اکرم کی مدح کرتے ہیں وہ رسول کی عظمت اور تقدس کا ذکر کرتے ہیں۔
ملک سجدہ نہ کرتے آدم خاکی کو ، گر اُس کی     
امانت دار نور احمدی ہوتی نہ پیشانی
 مگرجب سودا حضرت علی کی مدح کرتے ہیں تو زیادہ تر ان کی شجاعت پر روشنی ڈالتے ہیں۔
اسکے قبضے پہ جو ہو دستِ مبارک تیرا 
نہ رہیں دین ِ محمد کے سوا اور ملل
 جمع کب رہ سکیں اعدا کے حواس ِ خمسہ
دیکھ کر اس کو علم ہاتھ میں تیرے یک پل
سودا نے حضرت امام حسین کی بھی منقبت میں اشعار کہے ہیں چونکہ وہ شہید الشہدا ہیں اس لئے سودا نے زمین کربلا کی عظمت پر روشنی ڈالی ہے۔
غرض میں کیا کہوں یارو چمن میں قدرت کے
عجب ہے لطف کی اس قطعہ زمیں پہ بہار
دراصل سودا کی نظر میں ہر ممدوح کا مرتبہ رہا ہے اس لئے انہوں نے بیشتر حالات میں ان کی خصوصیات کا ذکر کیا ہے۔مذہبی قصائد میں جتنا بھی مبالغہ ہو وہ مناسب ہوتا ہے۔ کیونکہ بزرگانِ دین کے مرتبے بلند ہوتے ہی ہیں لیکن بادشاہوں اور وزیروں کے مرتبے ان کے مقابلے میں پست ہیں لیکن قصیدہ گوئی کا مفہوم ہی مبالغہ آمیز مدح ہے اس لئے سودا اس فن کے لوازمات سے مجبور تھے۔ بہر حال وہ عالمگیر ثانی کی مدح مندرجہ زیل اشعار میں کرتے ہیں۔
 یہ عد ل ہے ترا کہ قوی کو ضعیف پر
 کرنے سے اب تعدی کے آتا ہے اجتناب
سامان تیرہ روزی ہے بہرِ سرِ عدو
 تیری وہ تیغ قبضہ ہے جس کا سیاہ تاب
 سودا کے قصائد میں مختلف لوگوں کے مختلف خصوصیات کابیان ہے شجاع الدولہ کے عدل پر قصیدہ لکھا تو آصف الدولہ کی مدح میں بھی قلم اُٹھا یا ۔ آصف الدولہ کے بارے میں ضرب المثل مشہور ہے۔
 ” جس کو دے مولا ، اس کو دے آصف الدولہ“          
جبکہ سودا ان کے بارے میں لکھتے ہیں،
 خلق کو اس قدر ہے استغناء
نہیں ممکن کہ وہ بیاں ہووے
 کھبو دیکھا نہ یوں کہ زر بے قدر
 اس قدر زیر آسماں ہووے
 سودا کی قصیدہ گوئی میں اہم خوبی یہ ہے کہ اپنے دور کے حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس لئے تاریخی نقطہ نظر سے سودا کی مدح کی بہت اہمیت حاصل ہے۔
حسن ِ خاتمہ یا دُعائیہ:۔
 قصیدے کے آخری حصہ حسن ِ خاتمہ یا دعائیہ کہلاتا ہے ۔ اس میں شاعرممدوح کو دعا دیتا ہے اور اس کے دشمنوں کو بددعا دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپنا مدعا بھی بیان کرتا ہے۔ یہ بالکل رسمی چیز ہے۔ سودا نے بھی اس رسم کو برتا ہے سودا کے ایک قصیدے کا دُعائیہ ملاحظہ ہو ۔ سودا عالمگیر ثانی کو یوں دعا دیتے ہیں۔
  سودا کرے ہے ختم دُعائیہ پر سخن
اس جا نہیں ہے طول سخن مقتضائے داب
اس تخت پر بہ مسند اقبال بیٹھ کر
کرتا رہے تو شادی نور روز ای جناب
 ان اشعار میں سودا نے عالمگیر شاہ ثانی کو صرف دعا دی ہے مگر ان کے اعدا کو بددعا نہیں دی ہے۔ سودا نے جو قصیدہ نواب عماد الدین لملک کی شان میں کہا ہے اس میں ان کے اعدا کو انہوں نے بددعا بھی دی ہے وہ کہتے ہیں
ختم کر اب تو دعائیہ پہ سودا یہ کلام
آمین کرنے کو گئے باب ِ اجابت پہ ملک
 یاا لہٰی جو یہ تیرا ہے چراغِ دولت
تا ابد اس سے منور رہے قندل فلک
 کاتب دستِ قضا مشکل عدو کی تیرے
صفحہ ہستی سے جوں حرف غلط کردے فلک
پروفیسر عبدالباری عباسی اپنے مضمون میں فرماتے ہیں ،
” اردو شاعری کا زریں عہد جہاں میر حسن کی مثنوی نگاری اور میر و درد کی غزل گوئی سے جگمگاتا نظر آتا ہے وہاں سودا کی قصیدہ نگاری اس کی تابندگی اور درخشندگی کو چار چاند لگاتی نظر آتی ہے۔“
مجموعی جائزہ:۔
 مندرہ بالا سطور میں سودا کے قصائد کاتجزیہ مختلف انداز میں کیا گیا ہے اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ سودا قصیدہ نگاری کے بادشاہ ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سودا کے قصیدوں میں مبالغہ موجود ہے مگر یہ مبالغہ جسم اور جلد کا تعلق ہے ذوق کے ہاں مبالغہ سودا سے بھی زیادہ ہے۔ جہاں تک اردو میں قصیدہ نگاری کا تعلق ہے سودا کو مجتہد کی حیثیت حاصل ہے۔ سودا سے واقعہ نگاری اور مصوری سے کام لیتے ہیں اور ان کے ہاں بعض تشبیہات تو نہایت سادہ اور فطری ہیں۔ سودا کی طبیعت دراصل قصیدے کے جملہ محاسن کے لئے نہایت موزوں تھی گویا قصیدہ نگاری کا فن سودا کے ہاں بالکل فطری ہے۔ اردو قصیدہ میں سودا کا نام اسی طرح ہے جس طرح جسم کے لئے دل۔ڈاکٹر رام بابو سکسینہ ”تاریخ ادب اردو “ میں فرماتے ہیں،
” ان کے قصائد بڑے بڑے فارسی استادوں کے قصائد کے ٹکر کے ہیںاور بعض تو عرفی و خاقانی کے قصیدوں کو بھلا دیتے ہیں ۔ “
 بہر حال اردو میں قصیدہ نگاری سودا کی ذات سے عبارت ہے جب کبھی مورخ اردو قصائد پر قلم اُٹھائے گا تو سودا کو نظر انداز نہیں کر سکے گا۔اور وہ ان کو بلند ترین مرتبے پر فائز کرے گا۔ سودا نے اردو قصیدہ نگاری کو وزن و وقار بخشا ہے انہوں نے اس فن کو اتنا بلند کیا ہے کہ وہ فارسی کی قصیدہ نگاری تک پہنچ گیاہے۔ دراصل سودا نے فن قصدہ نگاری کی سرمستی میں اتنا اُچھال دیا ہے کہ جس کو ”ثریا “ کہہ سکتے ہیں،ان کے بارے میں امام اثر فرماتے ہیں،
” ارد و میں جو کچھ ہیں سودا ہیں۔ اگر سودا نہ ہوتے تو اردو قصیدہ نگاری کو زیر بحث لانا فضول ہوتا۔“
 اور آخر میں شیخ چاند کی رائے پر اپنی بات ختم کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں،
”اُس نے قصیدے میں متنوع مضامین و موضوعات کو داخل کیا اور داخلی و خارجی شاعری کا کمال دکھایا ہے حکیمانہ خیالات اور اخلاقی تعلیمات کو بڑے موثر انداز میں پیش کیا۔ اس کے قصیدوں میں لفظی ،نحوی، صرفی و عروضی خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ ہر چیز ہمارے قدیم معیار پر پوری اُترتی ہے۔ اس کے قصائد کا جواب ہماری زبان میں موجود نہیں۔ اور اب چونکہ زمانے کا مذاق بدل گیا ہے اس لئے توقع نہیں کہ اس رنگ میں آئندہ بھی اس کا کوئی جواب پیدا ہو۔“

1 تبصرہ:

  1. بہترین ۔۔۔ شکریہ ایم اے اردو کا سوال یاد ہو گیا آسان اردو میں ۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...