جمعہ, جولائی 19, 2013

خیبرپختونخواہ کی غزل

1947ءکے بعد سرحد کی غزل کی ابتداءکے بارے میں جو کوائف موجود ہیں اس کے بارے میں فارغ بخاری کی کتاب ”ادبیات سرحد “ ہماری مدد کرتی ہے۔ فارغ نے اس کتاب میں اردو غزل کی ابتدائی نقوش خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کی غزلوں میں دریافت کیے ہیں۔ ان دو شعراءکے ہاں کئی غزلیں ایسی ہیں جس پر اردو کے اثرات ہیں ۔ اور تقریباً 1700 تک اردو کا کوئی بھی باقاعدہ غزل گو شاعر ہمیں سرحد میں نہیں ملتا۔
اٹھارویں صدی عیسوی میں ”قاسم علی خان آفریدی“ کا دیوان ملتا ہے۔ اس شاعر کا سال ولادت 1763ءاور وفات 1823ءہے۔ یہ سرحد کا ایسا شاعر ہے جس نے پشتو اور اردو میں غزلیں لکھیں۔ اس لیے اسے ہم سرحد کا پہلا باقاعدہ اردو غزل گو شاعر قرار دے سکتے ہیں۔ ان کی غزل میں صاف پن اور سادگی موجود ہے جبکہ مقامی زبان کے بھی تھوڑے سے اثرات ان کی شاعری پر پڑے ہیں۔قاسم کے چند اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔
دیکھ کر عشق کی حالت میری مجنوں بولا
میں چلا شہر اجی لیجےے ویرانے کو
ہم جن کی محبت میں رسواءہوئے عالم میں
کب چھوڑ گلی ان کی بدنام نکلتے ہیں
قاسم کے بعد سرحد میں 1920ءسے 1930ءتک بہت سے شاعر آئے جن کا تذکرہ کرتے ہوئے فارغ بخاری نے کچھ ادوار مقرر کیے ہیں۔ مگر 47 تک کوئی بھی بڑا شاعر ہمارے سامنے نہیں۔ ادوار درجِ ذیل ہیں۔ پہلا دور 1700ءسے 1800ءکا ہے جس میں حید ر پشاوری ، غلام قادر قدیر، اور قیس پشاوری شامل ہیں۔
دوسرا دور 1800ءسے 1880ءتک ہے جس میں مدبر پشاوری ، گوہر پشاوری ، مرزا عباس ، عبدالعزیز خان عزیز شامل ہیں
تیسرا دور 1881ءسے 1920تک کا ہے جس میں سائیں احمد علی ، آسی سرحدی ، بیدل پشاوری، حاجی سرحدی شامل ہیں۔
چوتھا دور 1920ءسے 1935ءتک کا ہے۔ جس میں میر ولی اللہ ، رفت بخاری ، قمر سرحدی ، عنایت بخاری وغیرہ شامل ہیں۔
1935ءکے بعد جو دور آتا ہے فارغ بخاری نے اس دور کو جدید دور کا نام دیا ہے جن شعراءنے اپنا معیار متعین کیا ہے وہ 1947ءکے بعد آئے ہیں۔ آئیے 1947ءکے بعد کی غزل کا جائزہ ادوار کی صورت میں لیتے ہیں۔
پہلا دور
پہلے دور میں ضیا جعفری ، فارغ بخاری ، رضا ہمدانی ، قتیل شفائی اور شوکت واسطی شامل ہیں۔
ضیا جعفری
ضیا جعفری کی شناخت کی وجہ غزل نہیں ان کی رباعی ہے۔ ان کا مجموعہ کلام ”صبوحی “ ہے ۔چونکہ وہ ایک صوفی بزرگ تھے اس لیے ان کے ہاں تصوف کی چاشنی موجود ہے۔ ان کے کلام کا زیادہ تر حصہ خمریات پر مشتمل ہے جس پر کلاسکیت کے اثرات نمایاں ہیں۔ فارسیت کا ان کے ہاں غلبہ ہے موسیقیت اور لطافت ان کی غزل کے بنیادی عناصر ہیں۔
فارغ بخاری
فارغ بخاری بہت سے مجموعوں کے خالق ہیں اور ترقی پسند تحریک کا ایک اہم نام ہیں ان کی غزل میں تنوع بہت زیادہ ہے اس میں محبت بھی ہے اور ترقی پسندعناصر بھی ۔ اور فرد کی نفسیاتی جہتوں کے بھی انھوں نے بہت کچھ لکھا ہے ۔ محبت کے حوالے سے ان کا مشہور شعر ہے:
رفاقتیں کبھی زنجیر پا نہیں ہوتیں
نہ چل سکو تو بچھڑ جاؤ دوستوں کی طرح
وہ صرف روحانیت تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ گہرا مادی سفر اختیار کرتے ہیں اور محبو ب کو مادی پیکر میں پیش کرتے ہیں۔
ہم اپنے جسم کے سارے نشے اُسے دے دیں
کوئی خلوص سے آکر مطالبہ تو کرے
فارغ ایک انقلابی اور ترقی پسند سوچ کے مالک تھے اس لیے ہمارے سماج کے مسائل بیان کرتے ہوئے غریبوں ، مزدوروں ، کسانوں اور بے بسوں کی کہانی لکھتے ہوئے بعض اوقات جذباتی ہو جاتے ہیں ۔ اتنے کہ فن کی خوبصورت کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ اور وہ اس حالت میں ایک عام سے جذباتی انسان معلوم ہوتے ہیں۔لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا اُن کے ہاں اپنے دور کے مسائل کا سلیقے سے بھی بیان موجود ہے مثلاً
فقیہہ شہر کا سکہ ہے کھوٹا
مگر اس شہر میں چلتا بہت ہے
ہماری ذات کی محرومیوں اور خوابوں کے حوالے سے فارغ نے بڑے زندہ اشعار کہے ہیں۔
ضبط کرتا ہوں تو درد اور سوا ہوتا ہے
میرے اندر کوئی بچوں کی طرح روتا ہے
یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے
جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے
یہ الگ بات کہ تعمیر نہ ہونے پائیں
ورنہ ہر ذہن میں کچھ تاج محل ہوتے ہیں
رضا ہمدانی
رضا ہمدانی کی غزل اتنی مضبوط نہیں ہے اس میں اتنا تنوع نہیں ہے جتنا فارغ کی غزل میں ہے۔ ان کے ہاں جدید ریوں کی کمی اور کلاسیکیت کا اثر بہت زیادہ ہے۔
چڑھتے ہوئے دریا کی علامت نظر آئے
غصے میں وہ کچھ اور قیامت نظر آئے
لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے دور کے مسائل کو بھی محسوس کیا اور تشکیل پاکستان کے حوالے سے انہوں نے فیض کی طرح سے ہی اظہار کیا ہے:
بجھے بجھے ہیں ابھی چراغ لالہ و گل
خزاں نہ ہو گی یہ لیکن بہار بھی تو نہیں
اپنی تکمیل کے لیے بھی رضا
ارتکابِ گناہ ضروری ہے
قتیل شفائی
قتیل شفائی کی غزلیں ہندوستان اور پاکستان دونوں میں یکساں طور پرمقبول ہیں۔ ان کی غزل پر فلمی گیتوں نے بڑے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کی غزل میں محبت اور اس کی لطافت دونوں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزل کو سننے کے بعد انسان سوچے یا نہ سوچے لطف ضرور محسوس کرتا ہے۔ ان کی غز ل موسیقیت سے بھرپور ہے جو کہ اُن کو دوسرے شعرا سے ایک انفرادی مقام بخشتی ہے۔
یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں بسالے مجھ کو
میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم
اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم
شوکت واسطی
شوکت کی غزل بڑی مضبوط ہے۔ ان کااور فارغ کا ایک زمانے میں بہت جھگڑا رہا ہے۔ شوکت کے ہاں رومانی قنوطیت پسند ی ہے۔ انہوں نے محبت کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی باریک بینی سے دیکھا اور ان کو اکلاسیکی استعاروں کے ساتھ بیان کیا۔ سفر اور مسافر کو انہوںنے ایک نئے انداز سے دیکھا ہے۔
روش پہ چمن کے بجھے بجھے منظر
یہ کہہ رہے ہیں یہاں سے بہار گذری ہے
مجھے تو رنج قباءہائے تارتار کا ہے
خزاں سے بڑھ کے گلوں پر ستم بہار کا ہے
اس طرح ہجرت کے حوالے سے کہتے ہیں
جن کا معیار عزم ہو منزل
ہم انھیں ہم سفر نہیں کرتے
دوسرا دور
دوسرے دور میں احمد فراز ، محسن احسان ، خاطر غزنوی ، جلیل حشمی ، سید احمد اختر اور سلطان سکون وغیرہ شامل ہیں۔
احمد فراز
احمد فراز کی غزل میں کلاسیکی نقطہ نظر مضبوط ہے۔ اور نئے دور کے اجتماعی مسائل بھی ہیں۔ کیونکہ وہ ذہنی طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے ۔ جذباتی طور پر فیض سے متفق رہے ۔ فراز بنیادی طور پر ایک رومانوی شاعر ہیں۔ ان کی غزل کے موضوعات حسن اور عشق پر مبنی ہیں۔ اور ساتھ ساتھ وہ کچھ دوسرے حوالے بھی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اُن کے ہاں محبت کے حوالے سے بے وفائی نظرآئے گی اور یہ تصور عشق غزل میں ایک نئی اور آگے کی چیز ہے۔
یہ غزل دین اس غزال کی ہے
جس میں ہم سے وفا زیاہ تھی
دل منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسا
اور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیسا
ہم نے جس جس کو بھی چاہا تیرے ہجراں میں وہ لوگ
آتے جاتے ہوئے موسم تھے زمانہ تو تھا
محسن احسان
محسن احسان کے بارے میں اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی غزل فراز کا چربہ ہے اور ان پر فراز کا اثر بہت زیادہ ہے۔ لیکن محسن احسان فراز کا ہمعصر تو ہے لیکن موضوع اور اسلوب کے حوالے سے وہ اُن سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے ۔ انھوںنے کئی کتابیں لکھیں ہیںمثلا، ”ناشنید“ ، ”ناگزیر“ ،”ناتمام“ وغیرہ اُن کی غزل کا بنیادی حوالہ محبت ہے۔
جب آفتاب محبت غروب ہونے کو تھا
تو ایک شخص بڑے پیار سے بلانے لگا
دوسرا رویہ سماج کا ہے اور سماج میں موجود قباحتیں اور طباقاتی تقسم کا حوالہ اُن کی غزل کا خاصہ ہے۔
امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر
سمندروں کے سفر پہ کیا روانہ ہمیں
اس کے علاوہ حلقہ احبا ب کے دکھ کا بھی حوالہ ان کے ہاں موجود ہے۔
ایک ایک کرکے ستاروں کی طرح ڈوب گئے
ہائے کیا لوگ میرے حلقہ احباب میں تھے
کندا تھے جتنے حرف وہ کتبوں سے مٹ گئے
قبروں سے پوچھتا ہوں میرے یار کیا ہوئے
جلیل ہشمی
ہشمی کی ایک کتاب ہے ”سایہ دیوار “ یہ ایک مختلف شاعر ہیں۔ اس لیے کہ اس نے اپنی ذات کو یعنیانسان کی ذات کو بنیاد بنیا اس کے ہاں غم ِ جاناں سے غمِ دوراں اور اس سے غمِ جاناں کا سلسلہ زیادہ ہے اس نے انسان کی محرومیوں اور دکھ کو موضوع بنایا ہے۔ اس کے بعد سماج کے رویوں کو محسوس کیا اور اس کا رشتہ انسان کے جذبات و احساسات سے جوڑا وہ اس لیے مختلف نہیں کہ اس نے انسان کے اندر جھانکنے کے بعد ٹوٹی ہوئی دنیا دریافت کی ہے۔
ہشمی گلی میں کوئی بھی درنیم وانہ تھا
اور وہ تھکان تھی کہ قدم اُٹھ رہا تھا
اک عمر جن سے ہاملاتے ہوئے کٹی
ہشمی کوئی بھی ان میں مرا آشنا نہ تھا
ایک شخص نے کل کہا ہے مجھ سے
ہم لوگ تو ہیں خزاں کے پتے
سید احمد اختر
اختر کی غزل میں انقلابی رویے موجود ہیں اور بہت سے حوالوں سے انہوں نے رومانی کیفیات بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے دور کے مسائل پیش کیے ہیں اور پھر رومان سے انقلاب کی طرف اور انقلاب کی خارجی کیفیات سے آگے بڑھتے ہوئے بہت سے داخلی مسائل کا تجزیہ کیا ہے۔ اور ان مسائل کے گھیرے میں کھڑا ہوا انسان جو کچھ سوچ رہا ہے و ہ اس کی غزل میں موجود ہے۔
گھر بچے گا نہ کوئی قبر بچے گی اُس سے
شہر پھیلے گا تو بستی کو نگل جائے گا
ستاروں پہ تم ڈالتے ہو کمندیں
میرے گھر میں پینے کا پانی نہیں ہے
سلطان سکون
سلطان سکون کا شعری مجموعہ 2001ءمیں شائع ہوا ”نہ کوئی خواب ہے نہ خیال ہے“ ان کی غزل میں جذبوں کا بڑا بے ساختہ اظہار ہے۔ بڑے بے ساختگی سے وہ اپنے جذبوں کو سادہ اور پرلطف اندازمیں بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ عشق کے باب میں ان کے اشعار زیادہ ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ محبت کی بات کرتے ہوئے بھی کبھی ایسا رویہ اختیار نہیں کرتے جس سے انسان دوستی پر کوئی حرف آتا ہو ہمارے ہاں محبوب کے ظلم ستم کا شکوہ کرتے ہوئے اکثر اشخاص نے معروضی حالات کو منفی کر دیا وہ ان حالات میں محبوب کا تجزیہ نہیں کرتے بلکہ اپنی خدمات کی روشنی میں محبوب کو جانچنا چاہتے ہیں۔ جدید دور کے عاشق میں تھوڑا سا حقیقت پسندی کا رویہ موجود ہے۔ اور وہ محبوب کو معروضی حالات کی روشنی میں سمجھنے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
سوچا ہے بے وفائی کا شکوہ بجا نہیں
آخر اسی جہان کا انسان وہ بھی تھا
یہاں اس کی غزل میں محبت میں بھی انسان دوستی کا رویہ ہے پھر یہ دوستی آگے کی طرف سفر کرتے ہوئے بہت سے دوسرے عناصر کا تجزیہ بھی کرتے ہیں۔ تجزیہ کرتے وقت محض محبوب کا کردار نہیں رہتا بلکہ دنیا کے دوسرے کردار بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ لیکن پھر آگے وہ بڑھتا ہے اور اس روشنی میں ہمارے تہذیبی ، معاشی اور معاشرتی رویوں کے ٹوٹنے کا ماتم کرتا ہے۔ لیکن مرکز ان کا محبت ہے۔ محبوب مرکز نگا ہ ہے اس لیے وہ کہتا ہے۔
میری مشکل کا حل کوئی نہیں ہے
تیرا نعم البدل کوئی نہیں ہے
خدا کو حاضر و ناظر سمجھ کر یہ تو بتا
کہ ہم نے تجھ سے محبت میں انتہا نہیں کی
تیسرا دور
تیسرے دور میں غلام محمد قاصر ، سجاد بابر ، شجاعت علی راہی اور سورج نارائن شامل ہیں۔
غلام محمد قاصر
ان کے ہاں بہت سے نئے حوالے اور رویے موجود ہیں۔ جب ہم کسی شاعر کا تجزیہ کرتے ہیں تو سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ اس کا مرکزی نقطہ کیا ہے ۔ اس کا موضوع کیا ہے۔ قاصر کی شاعری میں جو موضوعاتی اکائی ہے۔ وہ تاریخی اور اساطیری ہے۔ 1970ءکی دہائی میں جو شاعر آئے ہیں ان میں غلا م محمد قاصر ، جمال احسانی ، ثروت حسین ، جلیل عالی اور اظہار الحق کے ہاں تاریخی روےے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ۔ نئے دور میں بہت سی چیزوں کی معنویت ختم ہو گئی ہے ان کو سمجھنے کے لیے سائنس اور سیکولر نظام ہماری مدد نہیں کرتا لہٰذا ہمیں ماضی اور تاریخ کی طرف اپنا رخ پھیر نا پڑتا ہے۔ 70 کی دہائی میں شاعروں نے یہی کیا غلام محمد قاصر کا رویہ بھی یہی ہے۔
کتاب ِ زندگی رکھتے ہیں تاب زندگی کم ہے
نئے کردار ہیں ہم لوگ اگلی داستانوں کے
اس رویے کی وجہ سے ان کی غزل کے ہر پہلو پر اثرات پڑے اور حسن سے لے کر محبت اور محبت سے ذات کی دریافت تک ان کا نظام فکر مادی نہیں رہا بلکہ روحانی رہا۔ محبت کے حوالے سے وہ کہتے ہیں:
یوں مصوری میں گم ہو رہی ہے خطاطی
نام جب لکھوں اپنا تیری شکل بنتی ہے
اکیلا دن ہے کوئی اور تنہا رات ہوتی ہے
میں جس پل سے گزرتا ہوں محبت ساتھ ہوتی ہے
وہ دنیا میں ہونے والے ظلم کو محبت میں بدلنا چاہتا ہے
بارود کے بدلے ہاتھوں میں آجائے کتا ب تو اچھا ہو
اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو
انسان کو جانچنے کے حوالے سے کہتے ہیں:
بدن پہ روح کا ہر کرب لکھ رہے ہو تو کیا
وہ مل گیا تو توجہ لباس پر دے گا
سجادبابر
سجاد بابر کے دو مجموعے ”راہرو “ اور ”مراحل “ منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان کی غزل میں ہمیں جو بنیادی عنصر ملتا ہے ۔ وہ دھند اور آسیب کی فضا ہے ۔ وہاں ایک پراسراریت کا احساس ہوتا ہے۔ وہ سماج کو ایک اور پس منظر سے دیکھ رہا ہے جو قطعاً خارجی نہیں ہے۔ بلکہ و پس منظر جو خارجی دنیا سے الگ روھانی سایوں اور دھند کی فضا میں ہے اس لیے ان کی غزل میں بہت وضاحت نہیں ہے۔ پھر وطن سے دوری مٹی سے محبت کا احساس ان سب نے ان کی غزل میں ایک اور کیفیت اختیار کی ہے اور وہ کیفیت ہے اداسی کی ، اندرونی فضا کی، خوف اور تنہائی کی وہ زندگی کے سفر کے بارے میں سوچ رہا ہے ۔ اور اس پورے نظام میں اس خارجی دنیا کا ایک باطنی دنیا سے موازنہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس سارے حوالوں کا اشتراک انسانی زندگی کے سفر سے ملتا ہے۔ جب ہم کسی اور دنیا میں رہتے ہوں اور اس کا اس سے تجزیہ کرتے ہیں تو بہت سے اجنبی عناصر ہماری شاعری میں آجاتے ہیں۔ اور پھرانسان آسیب اور خوف کی فضا میں کھو جاتا ہے۔ پھر یہاں ایک اور المیہ شروع ہوتا ہے پھر وطن اور مٹی سے تعلق کٹ کر ایک اور وطن سے تعلق بنتا ہے ۔ اور وطن سے دوری کا احساس ہوتا ہے۔
جب یہ دیکھا ہے کہ گلدان میں انگارے ہیں
ہاتھ کے پھول بھی دیوار پے دے مارے ہیں
شجاعت علی راہی
شجاعت کی غزل میں بہت سے حوالے موجود ہیں۔ ہمارے ماحول کے بدلتے ہوئے مناظر انسان کو مقدر اس کی فکر ، اڑان ، نفسیاتی محرومیاں ، خوف ، تنہائی اور نئے سماج کے حوالے سے مسائل جس کی وجہ سے باشعور انسان کی شخصیت تشکیل پاتے ہیں۔ وہ حوالے ان کی غزل میں موجود ہیں ۔اس لیے ان کا کوئی مستقل مرکزی رویہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ ان مسائل سے ایک وسیع تصویر بناتا ہے۔ ایک ایسی تصویر جس میں نئے دور کے تقریباً سارے رنگ موجود ہیں۔
شہر کے خاموش قبرستان میں ہم رات بھر
ایک اکیلے چھوٹے بچے کی طرح ڈرتے رہے
اس شہر سنگ و خشت میں رہتے ہیں آپ بھی
کیوں چپ ہیں آپ ، آپ بھی پتھر آٹھائیے
قتیل ہوکے بھی میں اپنے قاتلوں سے لڑا
کہ میرے بعد میرے دوستوں کی باری تھی
سورج نرائن
سورج نرائن کوہاٹ کا شاعر ہے۔ ان کے کئی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ان کی غزل کا بنیادی حوالہ غلامی کا ہے وہ پوری نسل کو غلامی کے دائرے میں دیکھتا ہے۔ اور جب وہ غلامی کا ذکر کرتا ہے ۔ تو آگے بہت سے راستے نظرآتے ہیں ۔ بنیادی حوالہ بے چہرگی کا ہے۔ اپنی شناخت کا ہے۔ غلامی کے دور میں انسان چاہے کتنی ہی عیش و عشر ت میں زندگی بسر کرے ایک بات ضرور ہوتی ہے کہ وہ اپنا آپ گم کر دیتا ہے۔ اور اس کے بعد غلامی میں ظلم و ستم سامنے آتے ہیں۔ ان کے ہاں غلامی بے چہرگی کا مسئلہ اور معاشرتی ظلم و ستم کی تصویر نظرآتی ہے۔ پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ ایسا محسوس کرتا ہے جیسے وہ اپنی تہذیب سے کٹ کر زندگی بسر کرتا ہے۔ لہٰذا اپنی غزل میں بار بار ان کا ذہن ہندو تہذیب کی طرف جاتا ہے۔ ہندو مت کے حوالے سے ان کے ہاں زیادہ ہیں۔ خواہ وہ ان کی فکر ہو یا لفظیات سب پر ہندو فکر غلاب نظرآتی ہے۔
بڑا طویل ہے قصہ میری غلامی کا
یہ ایک لفظ کے اندر سمٹ نہیں سکتا
بانٹ دیتا ہوں غریبوں میں تبسم اپنا
عہد گریہ میں کوئی دیکھے سخاوت میری
چوتھا دور
اس دور میں چار شاعر اہم ہیں جس میں نذیر تبسم ، عزیز اعجاز ، مقبول عامر اور خاور احمد شامل ہیں۔
نذیر تبسم
نذیر تبسم کا شعری مجموعہ ”تم اداس مت ہونا“ کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے۔ ان کا بنیادی رویہ محبت ہے ان کی غزل میں بنیادی کردار دو ہیں ایک عاشق اور دوسرا محبوب ۔ تیسرا کردار نظر نہیں آتا جسے ہماری غزل میں بہت اہمیت دی گئی اور جس سے محبت کی مثلث بنتی ہے یعنی عاشق ، محبوب اور رقیب کردار۔ ان کی غزل میں رقیب کا کردار نہیں ہے۔ اور بہت حد تک اب وہ زمانہ زمانہ بھی نہیں رہا جو رکاوٹیں پیدا کرتا ہے اور معاشرتی حوالہ بھی کم ہے لہٰذا سکھ ہو یا دکھ اس کی ذمہ داردونوں خود ہیں ایک جگہ ایسا ہے کہ اس کا محبوب باوفا ہے وصل سے بھی نوازتا ہے لہٰذا وصل کی اور حسن کی بہت سی کیفیات اس کی غزل میں شامل ہیں۔
اتنی سی بات تھی جسے پر لگ گئے نذیر
میں نے اسے خیالوں میں چوما تھا اور بس
کسی کے قرب نے اتنا وقار تو بخشا
کہ اپنے لہجے سے ہم بے ہنر نہیں لگتے
اس کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں سماجی حوالہ بھی موجود ہے کچھ مسائل بھی ہیں جس میں معاشرہ اور فرد دونوں شریک ہیں جو کیفیات کو دکھ عطا کرتے ہیں جو خالصتاً ترقی پسند نہیں بلکہ اس میں ہماری ذاتی اور اجتماعی مسائل ہیں جس میں ہجرت کا دکھ ، بھوک کا المیہ اور بہت سے دکھ موجود ہیں۔
مجھے بچوں سے خوف آنے لگا ہے
وہ بچپن ہی میں بوڑھے ہو گئے ہیں
کتنی فصلیں میرے آنگن میں پکیں پھر بھی نذیر
میرے بچوں کے بدن میں بھوک کا سرطان تھا
عزیز اعجاز
عزیز اعجاز کے دو شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ۔ جن میں ”اجاڑرتیں “ اور ”پندھار “ شامل ہیں ۔ ان کا ایک شعر بہت زیادہ مقبول ہوا ۔
جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے
اس کی غزل میں جو بنیادی رویے ہیں ان میں محبت مرکزی رویہ ہے ایسی محبت جو حاصل ہونے کے بعد بھی شادابی اور سیرابی نہیں دیتی ۔ اس لیے کہ ان کے ہاں محبت انتہا نہیں ہے اس ساتھ بہت سے معاشرتی اور معاشی حوالے آجاتے ہیں پھر بہت سے خوف ہوتے ہیں جو انسان کو سیراب نہیں ہونے دیتے بڑا خوف ہمارا معاشرتی سیٹ آپ ہے جس میں ہم وارفتگی نہیں دکھا سکتے ہم ہر خوف سے آزاد ہو کر نہیں رہ سکتے ۔
میں رکھ رکھائو کی حد سے نہ بڑھ سکا آگے
یہ اور بات میرا عشق والہانہ تھا
پھر جدید دور میں محبوب کی شخصیت ہے جس میں لاتعداد تضادات ہیں وہ بھی سیرابی سے روکتے ہیں مثلا جب پتہ چلتا ہے کہ اس دور میں ایک جدید محبوب کے روےے وقت اور مفادات ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے ایسے مقام پر چاہےے تو یہ تھا کہ اُن فرد چیختا اور احتجاج کرتا اس معاشرتی روےے کے خلاف لیکن پھر وہی رکھ رکھائو تہذیب و شائستگی آڑے آگئی اور وہ کھل کر احتجاج نہ کرسکا۔ لیکن اس کی اپنی بھی کچھ وجوہات تھیں ایک طرف حقیقت کے تصورات ذہن میں رکھتے ہوئے وہ سوچتا ہے کہ وہ بھی اسی جہان کا انسان ہے جب اس نے اپنے آپ کو دیکھا تو محسوس ہوا کہ میں بھی تو ایسا ہوں وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہوں کبھی عشق کرتا ہوں کبھی نفرت۔
میں نفرتوں سے بھر اہوں وہ پیار دیتا ہے
مجھے وہ شخص محبت کی مار دیتا ہے
ایک زمانے تک ان کی غزل میں یہ حوالہ تھا جس ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ لیکن ان کی غزل میں محبت اور حسن کی ستائش کے ایسے حوالے بھی آئے ہیں جس کے بعد ان کی غزلوں میں محبت کی سیرابی کی شکل واضح ہو گئی ہے اور وصل کے راستوں پر چلتے چلتے بڑی حد تک مادیت کی جانب سفر کرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔
بازوئوں کی ٹہنی پر جھولتا بدن اس کا
ہم کبھی نہیں بھولے والہانہ پن اس کا
جسم کے تناسب سے شاعری ٹپکتی ہے
میر کی غزل اعجاز اور بانکپن اس کا
مقبول عامر
مقبول عامر اس دور کا اہم شاعر ہے ”دیئے کی آنکھ “ ایک شعری مجموعہ منظر عام پر آسکا ۔ ان کی غزل میں نئی باتیں ہیں بنوں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ان کی غزل کی ساری راہیں بنوں سے ہی پھوٹتی ہیں اور وہاں کی سرزمین کے مسائل ، ماحول اور غربت کی مکمل عکاسی کرتی ہیں۔ ہماری غزلوں میں محبو ب ظالم اور عاشق مظلوم ہوتا ہے ان کے ہاں ایسا نہیں ہے اس کے ہاں دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں عاشق اور محبوب دونوں باوفا ہیں ۔
پل بھر وہ چشم تر سے مجھے دیکھتا رہا
پھر اس کے آنسوئوں سے میری آنکھ بھر گئی
میں شبِ شہر میں تھا اور ادھر گائوں میں
جلتی شمعیں لیے پھرتا رہا گالوں میں کوئی
دونوں اپنے ماحول میں بے بس ہیں محبت دونوں کرتے ہیں لیکن وہاں کی غربت نے دونوں کو بے بس کر دیا ہے۔
مجھے خود اپنی نہیں اس کی فکر لاحق ہے
بچھڑنے والا بھی مجھ سا ہی بے سہارا تھا
ان کی غزل میں دونوں اپنے حالات پر رو رہے ہیں اس کی وجہ محبت نہیں ہے بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی تشنگی ہے اپنے مسائل دیکھ کر وہ بین الاقوامی مسائل کی طرف جاتا ہے۔
دشت بے آب سے پوچھو کہ وہاں کے اشجار
کن مراحل سے گزرتے ہیں نمو پانے تک
تشنگی اپنے نصیبوں میں لکھی تھی ورنہ
فاصلہ کچھ بھی نہ تھا ہونٹ سے پیمانے تک
میں ایسے دیس کا دہقان ہوں جہاں عامر
زمین بھوک اگاتی رہی بشر کے لیے
خاور احمد
خاور ایک شاعر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں اپنا موضوع محبت کو بنایا لیکن محبت کے باب میں اس نے ایسی نئی جہتوں کو پیش کیا کہ اس کے اشعار کبھی پرانے نہیں لگتے ۔ محبت کے نفسیاتی حوالے روزمرہ حوالے محبت کی کہانی اور گھریلو باتیں بیان کی ہیں۔ لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خاور نفسیاتی اور نئی جہتوں کا شاعر ہے۔ ان کے دو شعری مجموعے ہیں اس نے سماجی اور معاشرتی حالات کو جینیس کی نظر سے دیکھا ہے ۔ لیکن ان کا المیہ محبت ہے۔
کون سے دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں کون سی ہیں وصل کی راحت کے سوا
وہ مجھے ٹوٹ کے بھی ملتی تھی
مجھ سے پیار ا نہ تھا بد ن اس کو
وہ مل گئی تو فقط ایک دائرہ ہوں میں
بچھڑ گئی تو مجھے کائنات کر دے گی
ساجن کی یادیں بھی خاور کن لمحوں میں آجاتی ہیں
گوری آٹا گوندھ رہی تھی نمک ملانا بھول گئی
آؤ چپ کی زبان میں خاور
اتنی باتیں کریں کہ تھک جائیں
پانچواں دور
غزل کے اس آخری دور میں احمد فواد، ابرار سالک ، نرجس افروز زیدی ، اظہار اللہ اظہار، امجد بہزاد،شہاب صفدر اور اختر رضا سلیمی جیسے نام شامل ہیں۔
احمد فواد
ان کا تعلق سوا ت سے ہے ۔ ایک عالم آدمیں ہیں ان کا پہلا مجموعہ ”یہ کوئی کتاب نہیں “ اور دوسرا مجموعہ ”دل ورق ورق دے آ“ ہے۔ ان کی غزل میں محبت ملتی ہے ۔ محبت کے تصورات ہیں اس میں کلاسیکی روایات کا اثر بہت زیادہ ہے۔ جدید شاعروں کے ہاں وہ جدید یت نہیں ملتی جو نظم میں ہو میراجی ، ن ۔م راشد کی نظم جدید میں ہے۔ لیکن غزل پر قدامت کا اثر ہے۔ احمد فواد ی غزل میں بھی عشقیہ کلاسیکی اور کلاسیکی رویے اور ہجر کی وہ کیفیت موجود ہے۔ جو ہماری غزل میں شروع ہی سے موجود ہے ۔کہیں کہیں احتجاج کا رویہ بھی موجود ہے۔ محبت کے باب میں ان کے ہاں بہت داخلیت اور گہرائی نظرآتی ہے۔
دفن کرنا مجھے ان آنکھوں میں
یہ میری آخری وصیت ہے
ان کی غزل کا مضبوط حصہ فلسفیانہ افکار کا ہے۔ کائنات اور اس کے عناصر کو کائنات کی لامحدودیت کو انہوں نے زمین کی باطن میں اتر کر دیکھنے کی کوشش کی ہے ۔ ان کے ہاں جو افکار اور خیالات ہیں وہ ہماری سرحد کی غزل میں کم ہیں۔ فلسفہ ہمارا بنیادی موضوع کم ہے لیکن فواد نے کائنات کی معنویت کو تلاش کرنے کے لیے کچھ باتیں کی ہیں اور بتایا ہے کہ یہ کائنات نہیں بلکہ ایک فلسفے کا خواب ہے۔
سب کمالات ہیں تخیل کے
ورنہ کچھ بھی نہیں حقیقت میں
پھر کائنات کے بارے میں کثر سوچتے ہوئے ہمارا ذہن ایک خاص تصور میں کھو جاتا ہے۔ وہ دنیا جس کی یہ دنیا ایک عکس ہے۔
وہ مکمل کتاب کیا ہوگی
یہ جہاں جس سے ایک عبارت ہے
ان مسائل کی طرف چلتے چلتے وہ اس روشنی میں دنیا کے انسان کو دیکھتا ہے۔ اور اس کی بقا کے حوالے سے باتیں سوچتا ہے۔ انسان اس کا مقدر اس کی بقا اور فنا کا بڑا موضوع رہا ہے۔
زندگی سخت کام ہے ایک دن
سانس لینا تجھے تھکا دے گا
ابرار سالک
ان کے شعری مجموعے کا نام”مسافت کم نہیں ہوتی “ ہے۔ ان کا بنیادی محور ان کی ذات ہے۔ انسانی ذات اور اس سے پیدا ہونے والے احساسات اور اس معاشرے میں احساسات اور جذبات کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی صورت میں جو روےے جنم لیتے ہیں جو تشنگی سامنے آتی ہے وہی دکھ ابرار کا موضوع ہے۔ ان کی غزل پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے محبت انسان کو سمیٹ لیتی ہے۔ ان کے ہاں بہت سے کائناتی دکھ ہیں جن سے ہم محبت کی وجہ سے بچے رہتے ہیں۔ گویا محبت ایک سائبان ہے۔ ایک سایہ ایک گھنی چھائوں ہے جب تک ہم اس میں رہتے ہیں بچے رہتے ہیں جب سر سے سائبان اڑ جاتا ہے تو پھر زندگی کے پسینے سے شرابور ہوتا ہے۔
لطف کر اتنا ہوجائوں محبت سے نہال
تشنگی دل کی وگرنہ در بدر لے جائے گی
جسم کی کٹیا میں سالک بس یہی ایک خوف ہے
اب اگر آنھی چلی تو بام ودر لے جائے گی
ابرار محبت کے حوالے سے بڑے روحانی اور غیر مادی نظر آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا رومانی فرد معجزوں کے انتظار میں ہے۔ ایک خاص مقام پر کھڑا ہوا محبت پر یقین رکھتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جب جذبے صادق ہوں تو اس کی تکمیل خود بخود ہو جاتی ہے۔ لیکن شاید انہیں نئی محبت کا اندازہ نہیں ہے۔ لہٰذا ان میں انتشار کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
معجزہ ہو گاکوئی یہ سوچتا ہی رہ گیا
وہ کسی کی ہو گئی میں دیکھتا ہی رہ گیا
بس ایک دیا گھر میں ہے وہ آئے تو اس کو
رکھ دیں گے سرِ بام زیادہ سے زیادہ
نرجس افروز زیدی
نرجس کے دو مجموعے ہیں پہلا ”نازش“ اور دوسرا ”ریشم“ ان کی غزل میں خاص طور پر محبت اور محبت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تنہائی اور اداسی موجود ہے۔ ان کی شاعری میں جدا ہونے کے بعد جو منظر سامنے آتا ہے اس میں ذات اور محبت کی تنہائی مل جاتی ہے۔
اس بھرے گھر میں تیرے بعد یہ پاگل لڑکی
تجھ کو احساس نہیںکتنی اکیلی ہوگی
اصل میں تنہائی کا مداوا اس نئے دور میں کیا جا سکتا ہے جدید دور میں ملنا آسان ہے لیکن ایک مصیبت اس دور کی یہ ہے کہ آج کے انسان کے لیے محبوب کے سامنے اناکا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ اس مسئلے نے وصل کو مٹانے میں بناید کرداراد ا کیا ہے۔
وفا کی بات نہیں مسئلہ انا کا ہے
وگر نہ دل تو اسے روکنا ہی چاہتا ہے
اظہار اللہ اظہار
اظہار کے مجموعوں میں ”ہم آئنوں کے قیدی “، ”گرفت “ ،” لمس کا خواب زندہ رہنے دے “ شامل ہیں۔ لیکن لوگو ں نے اسے تسلیم نہیں کیا ان کے ہاں روایت جدید یت رومان اور انقلاب سب حوالے موجود ہیں۔ ایک چیز کی کمی ہے اور وہ ہے تنقیدی شعور ان کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ وہ مشکل شاعری کرنا چاہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کا اپنا رویہ ختم ہوجاتا ہے۔ رومان کے حوالے سے اشعار ملاحظہ ہوں
محبت کی کہانی کا نجانے
تسلسل ٹوٹ جاتا ہے کہاں سے
اس دور کے بنیادی المےے ان کے ہاں موجودہیں ۔ وہ مادیت اور سائنس اور صنعت کے مسائل بیان کرتے ہیں ۔ روحانی انسان کی مشکلات ان کے ہاں موجود ہیں۔ اس لیے ان کی غزل میں نیا معاشرہ اور نیا فرد سانس لیتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
شہر کی آوارگی کو چھوڑ کر جائوں کہاں
میرے گھر میں میری تنہائی کا آسیب ہے
پرندے کوچ کرتے جا رہے ہیں
محبت کا کوئی امکاں نہیں ہے
امجد بہزاد
بہزاد کا ایک شعری مجموعہ ”بارش کی ساتویں شام “ کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے۔ ان کی غزل کا بنیادی حوالہ اس جدید دور کے روےے ہیں وہ محبت سماج فرد اور اس کی داخلیت کے حوالے سے ایک خاص سوچ رکھتا ہے اور اسے پیش کرتا ہے۔ محبت کے بارے میں ان کے اپنے کچھ نظریات ہیں۔ لیکن وہ جس قسم کی محبت کے طالب ہیں وہ اس زمانے کی چیز نہیں۔
یہ شہر اوہا م ہے یہاں پر محبتوں کا نصیب ہجرت
یہ میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ آسمانوں کی بات ہے یہ
یہ ایک روحانی قسم کی محبت ہے اس کے نزدیک محبت کا ایک پیکر مادی اور زمینی حقائق سے وابستہ ہے لیکن اس طرح نہیں کہ محبت ہوس بن جائے بلکہ اس طرح کہ محبت جسم اور روح کے امتزاج سے تشکیل پائے۔
یہ میں بھی کیا ہوں کہ عاشقی سے ہوس کی تہذیب کر رہا ہوں
میں آدمی ہوں بہت پرانا نئے زمانوں کی بات ہے یہ
اس کے بعد وہ آگے بڑھتے ہیں اور یہاں مادی حوالہ بھی ان کے ہاں در آتے ہیں۔
وہ میرے جسم کے اسرار لے کے بچھڑا تھا
اکیلی راتوں کو کیسے وہ کاٹتا ہو گا
اس نے پرانی روایت کو چھوڑ کر نئی روایت لانے کی کوشش کی ہے:
آؤ سکوت ِ عشق کی دیوار توڑ دیں
پر امن رہ چکے ہیں بہت لڑنا چاہیے
ان شعراءکے علاوہ طارق ہاشمی جس کا مجموعہ ”دل دسواں سیارہ “ ”بشری فرح کا مجموعہ ” ایک قیامت لمحہ موج” ود شہاب صفدر کا مجموعہ ’لہریں بنتی پیاس “ اور اختر رضا سلیمی کے مجموعے ” اختراع“ اور “ارتفاع“ بھی ایسے شعراءکی کتابیں جو کہ آج کل لکھ رہے ہیں ۔ اور بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔
مجموعی جائزہ
سرحد کی غزل کا مجموعی جائزہ لیتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملکی سطح پر جو مسائل آتے رہے ان کا ذکر سرحد کی غزل میں ملتا ہے۔ رومان سماجی شعور ، نفسیاتی حوالے یا ذات کے مسائل سب کا تذکرہ سرحد کی غزل میں موجود ہے۔ 1947ءسے لے کر آج تک جتنے بھی انقلاب آئے ہیں۔ سب نے سرحد کی غزل کو متاثر کیا ہے۔ صرف سماجی شعور نہیں بلکہ محبت اور ذات کی کیفیات کے حوالے بھی سرحد کی غزل میں موجو دہیں۔

1 تبصرہ:

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...