جمعہ, جولائی 22, 2011

آبِ حیات (محمد حسین آزاد)۔

 بقول احسن فاروقی
محمد حسین آزاد نے اُردو تنقید نگاری کی بنیاد رکھی ٹیڑھی مگر پھر بھی کیا کم ہے کہ انہوں نے بنیاد رکھی تو۔
آبِ حیات
 اردو ادب میں تذکرے معاصر شعراءکے کلام کو پرکھنے کی اولین معروضی کوشش ہیں۔ بعض اوقات تذکرہ نگاروں کے تعصبات ان کی فیصلو ں پر اثراانداز ہوتے ہیں اور اکثر جگہوں پر تذکرہ عربی و فارسی تنقید کی توسیع دکھائی دیتی ہے اردو میں مغربی تنقید کے اثرات قبول کرنے کا آغاز تحریکِ سرسید سے منسلک ہے۔ اور اس سلسلے میں مولانا حالی کی تصنیف کو عام طور پر جدید تنقید کا نقطہ آغاز قرار دیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کتاب میں مغربی تنقید کے حوالے جا بجا ملتے ہیں۔ مگر جدید اردو تنقید کے آغاز کا سہرا حالی کے بجائے آزاد کے سر ہے۔ جس کے ہاں پہلی بار اردو تنقید کے سلسلے میں مغرب سے متاثر ہونے کے شواہد ملتے ہیں ۔اس کے علاوہ محمد حسین آزاد قدیم اور جدید تنقید کے سنگم پر دکھائی دیتے ہیں۔ آزاد نے تنقیدی نظریات پر کوئی باقاعدہ کتاب نہیں چھوڑی لیکن اس کے تنقیدی خیالات آبِ حیات ، نیرنگ خیال ، سخندانِ فارس جیسی کتابوں میں بکھرے پڑے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف لیکچرز میں تنقید پر بالخصوص بات کی انہوں نے اپنی تنقیدی خیالات کا اظہار سب سے پہلے 15 اگست 1867ءمیں انجمنِ پنجاب کے مشاعرے میں اپنے ایک لیکچر بعنوان ”مشاعرے اور کلام ِ موزوں کے باب میں خیالات“ میں پیش کئے۔

آب حیات:۔
  چونکہ ”آب حیات “ نے تذکروں کے پس منظر میں وجود پایا اس لئے ضروری ہے کہ قدیم تذکروں میں تنقیدی رویوں کا جائزہ لیاجائے قدیم تذکروں میں اول تو تنقید کا عنصر کم تھا۔ بعض تذکروں میں محض شاعر کا کلام پیش کیا جاتا اگر کسی تذکرہ نگار کا جی چاہتا تو اس پر مزید جملوں میں تنقید کرتا اور اس تنقید میں شاعرکی زبان اور اسلوب کا جائزہ لیا جاتا۔ پرانے تذکروں میں جو ہمیں تھوڑی بہت تنقید ملتی ہے وہ محض ذوقی یا وجدانی ہے۔ آب حیات میں ہمیں جو تنقید ملتی ہے وہ روایتی ہے ۔ اس میں قدیم تذکروں کا لہجہ صاف طور پر نظر آتا ہے۔ آزاد کسی شاعر کی خصوصیات کا تجزیہ کرکے اس کے مماس کی کی وضاحت نہیں کرتا۔ بلکہ تاثراتی طریقے سے وضاحت کرتا ہے۔  آب حیات ایک ایسی کتاب ِ ضروری ہے جس نے اردو ادب کی ایک بہت بڑی کمی پورا کیا۔ اب تک اردو میں شعراءکیباقاعدہ تاریخ وار تذکرہ مرتب نہیں ہوا تھا۔ پرانے انداز کے تذکرے تو بہت تھے لےکن اکثر نا تمام اور ناقص کوئی عہدوار تاریخ موجود نہ تھی۔
 اب ایک ایسی کتاب کی ضرورت تھی جس میں شعراءکے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کئی گئی ہوں جدید انداز میں تنقید بھی ہو اور تحقیق پر مبنی سیر حاصل اور مستند حالات بھی ہوں یہ کمی آب حیات نے پوری کردی ۔ آب حیات محض شاعری کی تاریخ نہیں بلکہ توانا متحرک اور زندگی سے لبریز دستاویز بھی ہے۔ جو عہدِ ماضی کو ازسرنو زندہ کرکے ہمارے آنکھوں کے سامنے لاکھڑا کرتی ہے۔ آب حیات پرانی محبتوں اور وفاداریوں کی لافانی یادگار ہے۔ آزاد نے خود محسوس کیا کہ قدیم تذکرے عہد جدید کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے موزوں نہیں ہے اور اس سلسلے میں وہ خود لکھتے ہیں۔
مجھ پرواجب تھا کہ جو حالات ان بزرگوں کے معلوم ہیں یا متفرق تذکروں میں متفرق مزکور ہیں انھیں جمع کرکے ایک جگہ لکھوں اور جہاں تک ممکن ہواس طرح لکھوں کہ ان کی زندگی کی بولتی چلتی پھرتی تصویریں سامنے آن کھڑی ہوں اور انھےں حیاتِ جاودانی حاصل ہو۔
فہرست مضامین:۔
 آب ِ حیات میں سب سے پہلے ”لسانیات“ کے زمرے میں اردو زبان کے ماخذ پر توجہ دی گئی پھر عہد بہ عہد شعراءکا تذکرہ ملتا ہے۔ اس طرح ان کے مطالب کی فہرست یوں ہے۔ دیباچے میں اردو زبان کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ دراصل یہ غلطی ہمارے آج کے ناقدین بھی کرتے ہیں کہ تاریخ ادب مرتب کرتے وقت تاریخ زبان لکھنا شروع کر دیتے ہیں تاریخ ادب اورچیز ہے اور لسانی تاریخ اور چیز ۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر احسن فاروقی اپنی کتاب ”اردو تنقید“ میں آزاد پر پہلا اعتراض یہی کرتے ہیں کہ وہ اردو شعراءکی تاریخ مرتب کر رہے تھے نہ کہ اردو زبان کی تاریخ ۔
 بہر طور آزاد نے زبان کے سلسلے میں جن نظریات کا اعتبار کیا وہ بھی کم اہمیت کے حامل نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے برج بھاشا پر فارسی نے اثر کیااور یہ زبان وجود میں آئی۔ اس کے علاوہ دو قوموں کے ملنے سے زبانوں میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں اس کا تفصیلاً جائزہ لیا گیا ہے۔
 نظم اردو کے عنوان سے مختلف ادوار کی تقسیم کی گئی ہے۔ اور ہر دور کے شاعر کو تاریخی لحاظ سے جگہ دی گئی ہے۔
پہلا دور۔                  
تمہید۔ولی۔ شاہِ آبرو۔مضمون۔ ناجی ۔ احسن۔ یکرنگ۔ قدما ءکے اوضاع و لباس
دوسرا دور۔            
تمہید۔شاہ حاتم۔خان آرزو۔ فغاں
تیسرا دور۔  
تمہید۔مرزا جانِ جاناں مظہر۔ تاباں ۔ سید انشاء(ملاقات)۔سودا۔خواجہ میر درد۔میر سوز۔ میر تقی میر
چوتھا دور۔            
تمہید۔جرات ۔ سید انشاء۔ مصحفی
پانچواں دور۔
تمہید ۔ ناسخ۔ آتش۔ شاہ نصیر۔ ذوق۔ غالب ۔ مومن۔ دبیر ۔ انیس
 ابتدائی اشاعت کے بعد آزاد نے اس تفصیل میں مزید اضافے کئے۔ بالخصوص مومن اور غالب کے بارے میں بہت زیادہ معلومات پیش کیں۔ مومن کو آزاد نے ابتدائی فہرست میں شامل نہیں کیا تھا۔ محمد حسین آزاد خود شیعہ مسلک سے تھے اس لئے ان پر اعتراضات کی بوچھاڑ ہوئی کہ انہوں نے مومن کوجو سُنی مسلک سے تعلق رکھتے تھے کے سلسلے میں تعصب برتا۔ آزاد نے مومن کی کمی دوسرے ایڈیشن مطبوعہ 1883ءمیں پوری کردی۔ اولین اشاعت میں انہیں شامل نہ کرنے کہ وجہ یہ بتائی کہ وہ اس عہد کے شعراءمیں موزوں نہ تھے۔ اس کے علاوہ مومن کے متعلق مواد بروقت دستیاب نہ تھا۔ وجہ چاہے جو بھی ہو اس کی جو وجہ آزاد پر اعتراض کرنے والوں نے بتائی ہرگز نہیں ہو سکتی کیونکہ آزاد نے اپنی دوسری کتاب ”شہرت ِ عام اور بقائے دوام “ میں مومن کو جرات اور ناسخ کے دوش بدوش جگہ دی ہے۔
آب حیات تذکروں سے آگے:۔
 آب حیات سے پہلے تذکرے اپنے عہد کے اندر کھڑے تھے جبکہ آب حیات ، متعدد زمانوں پر محیط ہے اور بڑے ڈرامائی اور تمثیلی انداز میں بدلتے ہوئے ادبی منظر نامے کی عکاسی کرتی ہے۔ کلیم الدین احمد نے آب حیات کو تذکر ہ کہہ کر محض چونکانے کی کوشش کی ہے حقیقت یہ ہے کہ آبِ حیات تاریخی تنقید کا ایک نمونہ ہے چونکہ آزاد کے عہد میں تنقید کا تاریخی پہلو مغربی ادب میں بھی رائج تھا اس لئے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ حالی کے مقابلے میں آزاد مغربی تنقید کی تاریخی جہت سے زیاد ہ واقفیت رکھتے تھے۔
 کتاب کا پہلا حصہ جس میں اردو زبان کی نشونما اور بتدریج ِ ارتقاءکا ذکر ہے نہایت عالمانہ ہے۔ آزاد پہلے شخص تھے جنہوں نے اس میدان میں قدم رکھا اس کے باوجود کہ اس کے پاس مواد کم تھا ۔ اس مہم میں اس کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ لسانیات کے بارے میں معلومات انگریزی کتابوں سے حاصل کی گئی ہیں۔ اور جو مثالیں درج کی گئی ہیں وہ آزاد کی ذہنی دریافت ہیں۔ اور ان کے اردو اور ہندی مطالعے کا پتہ دیتی ہیں۔ برج بھاشا کے افکار ذخیرہ الفاظ اور گرامر پر فارسی کا جائزہ بھی قابلِ غور ہے۔ یہاں وہ ایک محقق کے روپ میں سامنے آتے ہیں ۔ کتاب کے دوسرے حصے میں ان کے تنقید میں بھی ان کا انداز وہی ہے۔ جو تحقیق میں نظرآتا ہے۔
آب حیات کے تنقید ی مباحث:۔
  انہوں نے شعراءکے بارے میں جو رائے دی ہے وہ نہایت پر مغز ہے اور بعد کی تنقید پر ان کا اثر دیکھا جا سکتا ہے ۔ وہ کبھی کبھی جذبات کے رو میں بہہ جاتے ہیں۔ ” جیسا کہ ذوق کے سلسلے میں ، لیکن ایک بار جب سنجیدہ تنقید پر کمر بستہ ہو جاتے ہے تو اپنی ساری بذلہ سنجی اور لطیفہ گوئی بھو ل جاتے ہیں اور سنجیدگی سے ادبی اقدار کے فہم و شعور کا ثبوت دیتے ہیں۔ مثلاً تشبیہ ، استعارہ ، فصاحت و بلاغت اور مضمون وغیرہ کے بارے میں آزاد شاعروں پر تنقید کرتے ہوئے تحقیق کے عادی نہیں بلکہ اپنے ذوق اور پسند کو معیار بنا کر چند جملوں میں اپنی رائے دیتے ہیں مثلاً میر تقی میر کی شاعری کے بارے میں ان کی یہ رائے ہے۔
’ ’ میر صاحب کی زبان شستہ ، کلام صاف، بیان ایسا پاکیزہ جیسے باتیں کرتے ہیں دل کے خیالات کو جو کہ سب کے طبیعتوں کے مطابق ہیں محاورے کا رنگ دیگر باتوں باتوں میں اد ا کر جاتے ہیں۔ اور زبان میں خدا نے ایسی تاثیر دی کہ وہی باتیں ایک مضمون بن جاتی ہیں۔“
 اس طرح ذوق کے بابت لکھتے ہیں۔
”کام کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ستارے آسمان سے اتارے ہیں مگر لفظوں کی ترکیب سے انھیں ایسی شان و شکوہ کی کرسیوں پر بٹھائے اس کے پہلے سے بھی اونچے نظر آتے ہیں انھیں قادر کلامی کے دربار سے ملک سخن پر حکومت مل گئی ہے ہر قسم کے خیال کو جس رنگ میں چاہتے ہیں کہہ جاتے ہیں۔“
 ان تصاویر میں محض تاثراتی رائے۔ جانبداری اور مبالغہ آرائی ہے اورلفظکا بے دریغ استعمال کیا گیاہے ۔ اس لئے ڈاکٹر احسن فاروقی ان کے بارے میں لکھتے ہیں۔
” تنقید میں آزاد نے لفظوں کے طوطے بنا بناکراُڑائے ہیں۔“
اعتراضات:۔
آزاد کو ان کی تنقیدی آراءمیں اتنے اعتراضات کا سامنا نہیں رہا جتنا کہ تنقید میں انشاءپردازی پرلے د ے ہوئی ۔ دراصل آزاد کی تنقید کو ان کی انشاءپردازی نے سخت نقصان پہنچایا۔ تنقیدی اسلوب سیدھے سادھے مدلل اسلوب کا متقاضی ہوتا ہے۔ جبکہ آزاد کے ہاں رنگینی بیاں اولین اہمیت رکھتی ہے ۔ وہ بات سے بات پیدا کرتے ہیں جس سے تنقید میں تجزیے کی طرف سے ان کی توجہ ہٹ جاتی ہے وہ انداز کو زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی تنقید لفظی ہو کر رہ جاتی ہے۔ تاثراتی تنقید کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی شاعر کی انفرادیت کے خدوخال نمایاں ہونے کے بجائے نقاد کی شخصیت کی انفرادیت کے خدوخال نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ بالکل یہی بات آبِ حیات کے بارے میں کہی جا سکتی ہے آزاد کی انشاءپردازی نے ان کی شخصیت کو ہر جگہ منفرد بنا ڈالا ہے۔ لیکن شاعروں کی شخصیت کو مٹا دیا ہے۔ اس طرح ان کی تنقید میں ہر جگہ آزاد کے مزاج کا عکس ہے۔ اسلوب کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ آزاد کی طرح طرز اڑانا محال ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک ان کا مقلد نظر نہیں آتا یہ بات صرف آزاد پر صادق نہیں آتی بلکہ اس کا اطلاق ہر صاحب ِطرز پر ہوتا ہے کسی ادیب کے طرز تحریر کی ظاہری خصوصیات کا چربہ اتار لینا کچھ مشکل نہیں لیکن اس کے باطنی جوہر تک رسائی دشوار ہے اسلوب کا بعض اوقات تخلیق کار کی غیر معمولی صلاحیتوں سے تعلق ہوتا ہے۔ اور اس لحاظ سے آزاد کی خوبی تحریر کا راز ان کی غیر معمولی صلاحیتوں اور تخیل کی شادابی و بوقلمونی میں پوشیدہ ہے۔ ان کی انشاءپردازی ایسے بلیغ انسان کی انشاءپردازی ہے ۔ جو نہایت اعلیٰ تخیل کا مالک ہے ۔ ان کا نثر ی اسلوب بھر پورتخیل سے مزین ہے۔ وہ جیسے چاہیں سادہ ، پرکار، پر شکوہ ، پر جوش یا محاکاتی عبارت لکھ سکتے ہیں۔ او ربسا اوقات خوبی و رعنائی کے غیر معمولی مقامات تک پہنچ جاتے ہیں ۔ تصویر حقیقی ہو یا خیالی شاعرانہ نوک جھونک دلچسپ حکایات اور لطائف ظرائف کو پیش کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں اس کے مقابلے دوسرے امور پر انھیں وہ قدرت حاصل نہیں جس کا تقاضہ تنقید کرتی ہے۔ نقشہ کھینچنے یا واقعہ بیان کرنے میں آزاد خاص مہارت رکھتے ہیں۔ یہاں ا ن کا قلم جادو کی چھڑی کا کام کرتا ہے۔ واقعہ نگاری میں آزاد کی کامیابی کئی باتوں پر منحصر ہے ان میں نمایاں ان کا ڈرمائی انداز ہے ۔ وہ کوئی ماجرہ بیان کرنے یا حلیہ کھینچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے بلکہ براہ راست اپنے کردار کو اسٹیج پر لے آتے ہیں تاکہ وہ الفاظ کے ذریعے اپنا پاٹ ادا کر سکے۔
 آزاد کی ایک اہم خصوصیت برجستہ لطائف و حکایات کا بیان ہے۔ یہ لطائف و حکایات آب حیات کی روح ہیں آزاد واقعے کو ذوق و شوق سے چٹخارے لے لے کر بیان کرتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آزاد کوئی کہانی نہیں بیان کر رہے ہیں بلکہ حقیقی روداد پیش کر رہے ہیں۔ ان تمام خوبیوں سے بڑھ کر ان کی اہم خصوصیت نفسیاتی حقیقت آرائی ہے۔ انسانی طبیعت سے گہری واقفیت نے انھیں بیان میں واقفیت پیدا کرنے میں مدد دی ہے۔ ان کی تاریخ نگاری ماضی کی ازسرنو بازیافت ہے وہ ماضی میں کچھ اس طرح سفر کرتے ہیں کہ خود کو قدما سے یک جان کرتے ہیں اور انہی کے خیالات و احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں آب حیات جو شعراءکی تاریخ ہے۔ اس میں وہ شاعروں کے حالات و کلام پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں انوکھے انداز میں سامنے لانے کا باعث بنتے ہیں۔ ناقدین کا یہ کہنا درست ہے کہ آزاد کا اسلوب تنقید کے لئے موزوں نہیں لیکن اسلوب کی مندرجہ بالا خصوصیا ت کی وجہ سے وہ قدیم تذکرہ نگاروں سے آگے نکل جاتے ہیں۔
متن:۔
 متن کے حوالے سے آب حیات پر ناقدین کا اہم اعتراض مومن کواس تذکرے میں جگہ نہ دینے پر ہے آزاد کو بعض نامعلوم وجوہ کی بناءپر مومن کو آب حیات میں جگہ دینے کو تیار نہیں زبان خلق سے بچنے کے لئے طبع ثانی میں ان کو جگہ دی ۔ خلش اور ناپسندیدگی کے باوجود بھی یہ بات قابل ِذکر ہے کہ آزاد نے مومن کا تذکرہ بڑے سلیقے سے کیا ہے۔ اور مومن کی غزلوں پر بڑی متوازن رائے دی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔
غزلوں میں ا ن کے خیالات نہایت نازک اور مضامین عالی ہیں اور استعارہ تشبیہ نے بھی اعلی درجے پر پہنچایا ہے اور ان میں معاملاتِ عاشقانہ مزے سے بیان کئے گئے ہیں۔
 عذر و معذرت کے باوجود آزاد نے ایک حقیقی فنکار کی طرح مومن کا تذکرہ ایسے سلیقے سے مرتب کیا کہ ان کی تصویر آب حیات میں اہم و دلکش اضافہ بن گئی ہے۔ اسطرح آزاد ذوق پسند تھے اور ذوق کی شاگردی کا اعزاز بھی انہیں حاصل تھا۔ غالب او رذوق کی چپقلش بھی مشہور ہے لیکن اس کے باوجود آزاد نے غالب کا تذکرہ بڑی محنت اور عرق ریزی سے مرتب کیا اور ان کے خاندانی حالات جمع کرنے کے لئے ان کے قریبی احباب سے ستفادہ کیا۔
ان کی انشاءپردازی نے اپنا کمال دکھاتے ہوئے غالب کی شخصیت کے نمایاں خدوخال کو سامنے لایا۔یہاں آزاد کے اسلوب میں زندگی کا جوش و خروش ہے آزاد کے بیا ن میں اثر پذیری اور دلکشی کا ثبوت یہ ہے کہ آزادکے بیانات کو حالی نے کمی بیشی کے ساتھ یادگارِغالب میں جگہ دی۔ درحقیقت آزاد کو اپنے مخصوص اسلوب اور انشاءپر دازی کے بدولت ہی یہ مقام حاصل ہے۔ ان کی تخلیقات زیادہ پائیدار ہیں کیونکہ وہ ہمارے تخیل اور ذوق کے لئے باعث کشش ہیں۔ انھوں نے ماضی کے واقعات ، حالات اور شخصیات کو اسطرح پیش کیا کہ وہ واقعی ہماری آنکھوں کے سامنے زندہ ہیں اس لئے جو باتیں آزاد کو آج جاذب توجہ بناتی ہیں کل بھی ان کو جاذب توجہ بنائیں گی۔اس کے علاوہ آبِ حیات نہ صرف تاثراتی بلکہ حقیقی تنقید کا بھی نمونہ ہے جہاں یہ قدیم شعراءکی عہد وار دستاویزہے وہاں دلچسپ حالات و واقعات کا مجموعہ بھی ہے آب حیات میں آزاد کا تخیل بیانیہ قوت سے بھرپور نظر آتا ہے۔
 حرف آخر:
 رومانیت ایک اعتبار سے وہ کشش ہے جو دوری سے پیدا ہوتی ہے۔ خواہ یہ فاصلے زمانی ہوں یا مکانی آزاد بھی ماضی پر رومان کا رنگ چڑھاتے ہیں۔ وہ زمانی مکانی حیثیت سے دور کی چیزوں کے ساتھ بھی اتنا ہی لگائو رکھتے ہیں۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی کا ذکر ان کے تخیل کو مہمیز کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ادبی اقدار کا تصور آزاد کے ذوق و شوق اور تخیل کی بلند پروازی میں توازن پیدا کر دیتا ہے۔ لہٰذا جب کوئی شاعر واقعی تعریف کا مستحق ہو تو وہ اس کی بڑھ چڑھ کر مدح کرتے ہیں۔ اور ساتھ ہی قدیم شاعروں کی خامیوں پر کڑی مگر مختصر تنقید بھی کرتے ہیں۔ وہ قدیم اردو شاعری کے نہایت بالغ نظر نقاد ہیں۔ ان کی رائے میں ادب اور تہذیب میں گہرا تعلق ہے اس لئے وہ اردو شاعری کے پر تصنع ہونے پر افسوس کرتے ہیں۔ لیکن اس با ت پر زور نہیں دیتے کہ اردو شاعری اپنے عہد کی کمزوریوں سے کیوں آزاد نہ ہو سکی انھوں نے اردو شاعری اس کے موضوعات ، اسلوب بیاں اور زبان و بیان کے متعلق وہی باتیں کہی ہیں جو اس کے سخت سے سخت نقاد کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ان کا لب و لہجہ درست نہیں ۔ وہ اپنی ادا کی بنیاد حقائق پر رکھتے ہیں اور یہ بات انھیں بعض جدید نقادوں سے منفرد بنا دیتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...