افسانوی نثر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
افسانوی نثر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ, مئی 09, 2015

پریم چند کی افسانہ نگاری

پریم چند
یہ محض ایک اتفاق ہے کہ اردو افسانے کو ابتدائی دور میں ہی دو ایسے افسانہ نگار مل گئے جو ایک دوسرے سے قطعی مختلف مزاج رکھتے تھے۔ پریم چند ایک رجحان کی ترویج کر رہے تھے اور سجاد حید ر دوسرے نظریے کے علمبردار تھے ۔ لیکن پریم چند کی مقصدیت یلدرم کی رومانیت پر بازی لے گئی۔مقصدیت اور اصلاح کے پہلو نے پریم چند کے فن کو اتنا چمکا دیا کہ انہیں سجاد حیدر سے بہت زیادہ مقلد مل گئے۔ سجاد حیدر کی رومانیت کی نیاز فتح پوری ، مجنوں گوکھپوری ، مہدی الافادی اور قاضی عبدالغفار کے بعد کوئی خاص تقلید نہ کی جا سکی۔ جبکہ پریم چند کی مقصدیت کا سدرشن ، علی عباس حسینی ، اعظم کریوی وغیرہ نے تتبع کیا اور بعد کے افسانہ نگاروں نے اس روایت کو مزید آگے بڑھایا۔اسی لیے سمجھا جانے لگا کہ پریم چند اردو افسانے کے موجد ہیں۔ لیکن یہ خیال درست نہیں ہے۔ مختصر افسانے کی ابتداءکا سہرا تو سجاد حیدر یلدرم کے سر ہی باندھا جائے گا۔ البتہ فنی اعتبار سے پریم چند سجاد حیدر پر سبقت لے گئے ہیں۔ جس کا اعتراف خواجہ ذکریا بھی ان الفاظ میں کرتے ہیں۔ ”اردو کے بہت کم افسانہ نگار معیارمقدار میں ان کی برابری کر سکتے ہیں۔“
ادوار:۔
پریم چند کی افسانہ نگاری میں بتدریج ارتقاءنظر آتا ہے ۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ”سوز وطن “ سے لے کر آخری دور کے مجموعوں ”واردات “ اور ”زادراہ“ کے افسانوں میں بڑا واضح فرق محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے ہم ان کی افسانہ نگاری کومختلف ادوار میں تقسیم کرتے ہیں پہلا دور 1909ءسے لے کر 1920ءکے عرصہ پر محیط ہے۔ دوسرا دور 1930ءسے 1932ءتک اور تیسرا دور جو نسبتاً مختصر دور ہے1932ءسے 1936ءتک ان کی زندگی کے آخری چار سال کا احاطہ کرتا ہے۔ پہلے دور کے افسانوں میں رومانی تصورات نمایاں ہیں۔ دوسرے دور میں معاشرتی برائیوں کی اصلاح کی طرف توجہ دی ہے اسی طرح سیاسی موضوعات بھی اس دور کی اہم خصوصیت ہے ۔ اپنے مختصر اور آخری دور میں پریم چند کے ہاں فنی عظمت اور موضوعات کا تنوع نظر آتا ہے۔ اپنے آخری دور میں انہوں نے ناقابل ِ فراموش افسانے لکھے۔پریم چند کی افسانہ نگاری کا تجزیہ کرتے ہوئے ہم ان ادوار کو ملحوظ خاطر رکھیں گے اور انہی ادوار کو سامنے رکھ کر اُن کے فن کا تعین کرنے کوشش کریں گے۔
داستانوی رنگ اور ہندو تاریخ:۔
پہلے دور کے ابتدائی سالوں میں داستانوی اور رومانی رنگ غالب ہے۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر پریم چند اپنا پہلا افسانوی مجموعہ ”سوز وطن“ کے نام سے 1909ءمیں زمانہ پریس کانپور سے چھپواتے ہیں جو انگریز سرکا کو ”خطرہ کی گھنٹی “ محسوس ہوتا ہے اور اس کی تمام کاپیاں ضبط کر لی جاتی ہیں۔اس کے بعد وہ تاریخ اور اصلاح معاشرہ کی جانب متوجہ ہوتے ہیں ۔ اس وقت تک وہ افسانوی تکنیک سے ناواقف تھے اور طلسم ہو شربا کے اسیر تھے۔ 1909ءسے 1920 ءتک پریم چند ”ہوبا“ کے مقام پر ڈپٹی انسپکٹر آف سکولز تھے۔ جہاں کے کھنڈرات انہیں ہندوؤں کی عظمت ِ گذشتہ کی یاد دلاتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ حالی کی طرح انہیں بھی اپنے افسانوں کے ذریعہ ہندوقوم کی ماضی کی شان و شوکت اجاگرکرنا چاہیے ۔ چنانچہ ٠١٩١ءمیں ”رانی سارندھا“ 1911ءمیں ”راجہ ہردول“ اور 1912ءمیں ”آلھا“ جیسے افسانے اسی جذبے کے تحت لکھے گئے۔
پریم چند کے دل میں ہندو راجوں اور رانیوںکی حوصلہ مندی اور خاندانی روایات کی پاسداری کا بڑا احترام تھا ۔ ”رانی سارندھا“میں انہوں نے ہندو قوم کے ماضی کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ان سب افسانوں میں کسی نہ کسی تاریخی واقعہ کو دہرا کر ہندو قوم کو اسلاف کے کارنامے یاد دلانا مقصود ہے۔
اصلاح معاشرہ :۔
ان تاریخی اور نیم تاریخی افسانوں کے بعد اپنے دوسرے دور میں پریم چند نے قومی اور معاشرتی اصلاح کی طرف توجہ دی، انہوں نے ہندو معاشرے کی قبیح رسوم پر قلم اٹھایا اور بیوہ عورت کے مسائل ، بے جوڑ شادی ، جہیز کی لعنت اور چھوت چھات جیسے موضوعات پر افسانے لکھے۔ اس دور میں وہ ایک مصلح کی حیثیت سےاپنے معاشرے کو احترام ِ انسانیت اور مشرقی و مغربی تہذیب کے فرق اور اخلاق اقدار کی جانب متوجہ کرتے ہیں۔
سیاسی موضوعات:۔
افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند سیاست کے بکھیڑوں میں الجھ گئے تھے ۔ یہ دور برصغیر میں تحریکوں کا دور تھا ۔ تحریک ِ خلافت، تحریک عدم تعاون، تحریک ِ ستہ گرہ، سول نافرمانی وغیرہ۔ برصغیر کے تمام باشندےملک آزاد کرانے کا مطالبہ کررہے تھے پریم چند نے سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے قلم کے ذریعہ اس مہم میں شرکت کی ٹھانی اور سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ اگرچہ کوئی سیاسی آدمی نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے باقاعدہ طور پر سیاست میں حصہ لیا۔ لیکن شاید وہ سماجی موضوعات کے ساتھ ساتھ سیاسی موضوعات پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے سرکاری ملازمت کا جو اگلے سے اتار پھینکا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور کے افسانوں میں سیاست کا رنگ بھی جھلکتا ہے۔
دیہاتی زندگی:۔
افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند نے دیہی زندگی کی طرف بھی توجہ دی کیونکہ پریم چند کا تعلق دیہات سے تھا اس لیے انہوں نے دیہاتی زندگی کے مسائل کواپنے بیشتر افسانوں کا موضوع بنایا۔ وہ دیہاتیوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ تھے اس لیے کسانوں اور مزدوروں کے دکھوں کو اپنے نوکِ قلم سے معاشرے میں اجاگر کرتے ہیں۔ ”پوس کی رات “ ،”سواسیر گہیوں“ اور ان کے دیگر افسانے کسانوں کی غربت و افلاس کیعکاسی کرتے ہیں ۔ پریم چند نے غریب کسان اور کاشتکار کے رہن سہن ،اس کے افلاس اور دکھوں کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کی ہیں۔”سو ا سیر گیہوں“ پریم چند کا ایک ایسا افسانہ ہے جو دیہاتی کسان کی سادہ لوحی کے ساتھ ساتھ زمیندار مہاجن اور ساہوکار کی فریب کاری کا پردہ چاک کرتا ہے اور اس کے ظلم و تشدد اور مکرو فریب کے خلاف انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔بقول ڈاکٹر سلام سندیلوی ” پریم چند کے سب سے اہم پلاٹ وہ ہیں جن میں ہندوستان کے کسانوں کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کی گئی ہیں۔ پریم چند نے کسانوں کو ان کی گہری نیند سے بیدار کیا اور یہ محسوس کیا کہ ہندوستان کی آبادی کا بیشتر حصہ دیہاتوں پر مشتمل ہے۔ اگر دیہات کے باشندے بیدار ہو جاتے ہیں تو ہندوستان کی بیداری یقینی ہے۔“
فنی عظمت :۔
پریم چند کے افسانوں کا آخری دور مختصر عرصے پرمحیط ہے لیکن یہی دور ان کی نظریات کی پختگی اور ترویج کا دور بھی ہے اس دور کے افسانوں کے موضوعات بھی سیاسی زندگی سے متعلق ہیں لیکن فن اور معیار کے اعتبار سے پچھلے دونوں ادوار کے مقابلے میں بہت بلند ہیں۔”سوز وطن“ کے افسانوں ک بعد پریم چند کے قلم سے حج اکبر ،بوڑھی کاکی، دو بیل ، دو بیل، نئی بیوی اور زادِ راہ جیسے افسانے تخلیق ہوئے اور پھر ان کا فن بتدریج ارتقائی منازل طے کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ”کفن “جیسا افسانہ لکھ کر انہوں نے دنیائے ادب میں اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا۔ ”کفن “ کی کہانی دو چماروں کی کہانی ہے جو بے حیائی اور ڈھٹائی میں اپنا جواب نہیں رکھتے ۔ یہ ننگے بھوکے چمار اپنی کاہلی و سستی کی وجہ سے پورے گاؤں میں بدنام ہیں ۔ بدھیا کے مرنے کے بعد اس کا شوہر مادھواور اس کا سسر گھیسواس کے کفن دفن کے لیے زمیندار سے پیسے مانگ کر لاتے ہیں اور پھر یہ سوچ کر کہ ”کفن تو لاش کے ساتھ جل جاتا ہے“وہ پیسے شراب و کباب میں اڑا دیتے ہیں۔
بہترین اسلوب:۔
آخری دور کے افسانوں میں پریم چند ایک عظیم افسانہ نگار دکھائی دیتے ہیں اس دور کے افسانے مقامی ہونے کے باوجود آفاقی کہلانے کے مستحق قرار دئیے جا سکتے ہیں کیونکہ اب ان کے افسانوں میں وہ تمام خوبیاں پیدا ہو گئی تھیں جو اچھے اور معیاری افسانوں کا خاصہ سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی زبان بھی صاف ہو گئی تھی اور اندازِبیان میں بھی دلکشی آگئی تھی ۔وہ چھوٹے چھوٹے خوبصورت جملے استعما ل کرنے لگے تھے۔ سادگی و پرکاری ، متانت و سنجیدگی ان کی تحریر کے جوہر تھے ۔ منظر کشی میں بھی انہیں کمال حاصل ہوگیا۔
تنوع :۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پریم چند نے اپنے افسانو ں میں زندگی کے ہر دو پہلوؤں المیہ و طربیہ کو سمو دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں ہر طبقے کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ وہ روہیلوں ، بندیلوں اور راجپوتوں کی جنگ جو یا نہ صفات اور جرات مندانہ اقدار کا ذکر بھی کرتے ہیں اور ہندو مہاجنوں ، ساہوکاروں ، سیٹھوں اور زمینداروں کے ظلم و تشدد اور گھناؤنے کرداروں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں اور غریب کسانوں ، مفلس کا شتکاروں اور نیچی ذات کے چماروں کی بے بسی اور بے کسی کی المناک داستانیں رقم کرتے ہیں۔ ان کے ہاں رانی سارندھا جیسی جاںباز اور آن پر مٹنے والی رانیاں بھی ہیں اور کام چور و کاہل گھیسو اور مادھوجیسے المیہ کردار بھی ملتے ہیں۔
انسانی نفسیات:۔
انسان ایک ہی قسم کے واقعات سے کس طرح متاثر ہوتا ہے؟ اس کے تعجب ، حیرت ، رنج، خوشی ،غصہ ، نفرت ، حسد، بغض ، رشک ، رقابت اور اس قسم کے فطری جذبات کا اظہار کس طرح ہوتا ہے؟ یہ چیزیں سب انسانوں کے لیے یکساں ہیں اور اس لیے افسانوی بلندی حاصل کرنے کے لیے افسانہ نگار نفسیات سے زیادہ سے زیادہ کام لیتے ہیں۔ پریم چند کے افسانے نفسیاتی مطالعہ اور مشاہدہ پر ہیں۔ اس چیز سے پریم چند نے اس قدر کام لیا ہے کہ وہ ان کے طرز بیان کی ایک خصوصیت بن گئی ہے۔ مثلاً وہ جملوں میں جہاں تشبیہات کا استعمال کرتے ہیں تو انہیں نفسیاتی محسوسات کو کام میں لاتے ہیں۔ ایک جگہ لکھا ہے:
” ایک یتیم بچہ ماں کا تذکرہ سن کر رونے لگتا ہے۔ اسی طرح اور چھاکی کی یا د سے چمپت رائے کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔
اس حیثیت سے پریم چند کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اردو افسانوں میں حقیقت شعاری کی بہترین مثالیںپیش کی ہیں جن میں ہر جگہ عالمگیر حقائق، عام فطرت انسانی کی نفسیات اور بلندی ¿ خیال کو مدنظر رکھا ہے۔
حقیقت اور مقصدیت:۔
اسی طرح مجموعی حوالے سے پریم چند کے ہاں جذبات نگاری بھی، تنقید ِحیات ہے اور ترغیب و اصلاح بھی ۔ اور یہی وہ معاشرتی اور سیاسی شعور تھا جس نے پریم چند کو حقیقت پسند افسانہ نگار بنایا اور پھر ان کے افسانے اخلاقی ، معاشرتی اور سیاسی تقاضوں کی ترجمانی کرنے لگے۔ان کے افسانوں میں ملک و قوم کے لیے ایثار و محبت کے جذبے بیدار ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پریم چند نے ایک ماہر نفسیات کی طرح محکوم قومیتوں کو عزم و ہمت کے گر سکھائے ہیں۔ انہوںنے اپنے افسانوں کے ذریعہ انسان دوستی اور وطن دوستی کی بہترین مثالیں پیش کی ہیں۔یوں پریم چند کے ہاں سچی وطن دوستی ، سماجی اصلاح کا جذبہ،دیہاتی زندگی کے مرقعے ، طبقاتی کشمکش اور کردار نگاری کے خوبصوت نمونے ملتے ہیں۔ انہوں نے تخلیقی جبلت کو محض افسانہ نگاری کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ اس میں مقصدیت کی روح کو سمو کر ایک مصلح قوم کا کردار بھی ادا کیاہے۔
مجموعی جائزہ:۔
اس حقیقت سے واقعی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ معیار و مقدار کے اعتبار سے پریم چند نے اردو ادب میں افسانے کی روایت کو مستحکم کیا اور انہوں نے ہی اردو افسانے کو ارتقائی منازل تک پہنچایا ۔ مختصر اردو افسانے کے لیے ان کی خدمات ناقابل ِ فراموش ہیں۔
بقول مولوی عبدالحق 
ہندوستانی ادب میں پریم چند کے بڑے احسانات ہیں انہوں نے ادب کو زندگی کا ترجمان بنایا۔ زندگی کو شہر کے تنگ گلی کوچوں میں نہیں بلکہ دیہات کے لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں جاکر دیکھا۔ انہوں نے بے زبانوں کو زبان دی ۔ ان کی بولی میں بولنے کی کوشش کی۔ پریم چند کے نزدیک آرٹ ایک کھونتی ہے۔ حقیقت کو لٹکانے کے لیے۔ سماج کو وہ بہتر اور برتر بنانا چاہتے تھے اور عدم تعاون کی تحریک کے بعد یہ ان کا مشن ہو گیا تھا ۔ پریم چند ہمارے ادب کے سرتاجوں میں سے تھے۔ وقتی مسائل کی اہمیت کو انہوں نے اس شدت سے محسوس کیا کہ فن کے معیار کو پر قربان کر دیا۔ افسانہ نگاری میں ان کا وہی مرتبہ ہے جو شاعری میں مولاناحالی کا۔“

جمعہ, مئی 16, 2014

جنت کی تلاش (رحیم گل)

تحریر فقیرا خان فقری
ناول جنت کی تلاش بیک وقت رومانوی ، سیاسی اور سماجی ناول ہے۔ جس میں تاریخی حوالوں کو بھی بروئے کار لایا گیا
ہے۔ چنانچہ ہم اسے تاریخی عنصرسے خالی بھی نہیں کہہ سکتے ۔ ناول کاآغاز کوئی چونکا دینے والا یا پر کشش نہیں ہے۔ اس کا آغاز سیدھے سادے انداز میں سفر نامے جیسا ہے۔ کہانی نگار نے شروع میں تشریحات کے ذریعے قاری کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ جس کی وجہ سے فنی طور پر ناول کے انداز کو دھچکا سا لگا ہے۔ ناول کی پوری فضاءپر تین بڑے کرداروں میں شامل امتل چھائی ہوئی ہے۔ امتل کا بھائی عاطف اور دوست وسیم بھی کہانی کے بڑے کردار ہیں لیکن مرکزی حیثیت امتل کو ہی حاصل ہے۔
امتل اور اس کا بھائی پڑھنے والے کو ہر وقت شکوک و شبہات اور پس و پیش میں مبتلا رکھتے ہیں۔ یہ بات الجھا دیتی ہے کہ مانسہرہ کے ڈاک بنگلے اجنبیوں کی طرح رہتے ہوئے جبکہ اس سے پہلے امتل اور اس کے بھائی عاطف کی وسیم کے ساتھ دعا و سلام بھی نہیں ہوئی تھی اچانک عاطف وسیم سے آکر کہتاہے کہ میرا روالپنڈی میں ضروری کام ہے میری بہن میرے ساتھ نہیں جانا چاہتی تم اس کا خیال رکھنا یہاں آپ سے بہتر ہمیں کوئی نظر نہیں آتا وغیرہ ۔ اور امتل کا کھلنڈرے چھوکروں کی طرح وسیم کی جیپ میں اگلی سیٹ پر بیٹھ جانا سچا سہی لیکن ہمیں ضرور عجیب سا لگتا ہے۔
اسی طرح رات کو امتل کا بیمار پڑ جانا اور عاطف کا وسیم کے پاس آنا اور کہنا کہ میں اور چوکیدار ڈاکٹر کو لانے جارہے ہیں اُن کے پاس گاڑی موجود ہے اور بیمار کو جلد ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ جائیں اور ڈاکٹر کو لائیں اور تب ڈاکٹر بیمار کا معائنہ کرے بھائی جاتے ہوئے اپنی بہن کو ڈاکٹر ہی کے پاس کیوں نہیں لے کے جاتا۔ تاکہ جلد از جلد ڈاکٹر کی رائے لی جا سکے۔ لیکن شاید جان بوجھ کر امتل کو کسی مرد کے حوالے کرنا چاہتا ہے اس لیے کہ آئندہ بھی وہ اس قسم کے مواقع فراہم کرتا رہتا ہے۔ گلگت اور سکردودریائوں سے خوف کھانے کا حیلہ بناتے ہوئے وہ امتل اور وسیم کو اکیلا چھوڑ دیتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ امتل لڑکی ہو کر دریائوں سے نہیں ڈرتی اور عاطف مرد ہو کر دریائوں سے لرزاں ہے۔ یہ ایسے واقعات اور حالات ہیں کہ جن میں کوئی فطری پن دکھائی نہیں دیتا۔بلکہ ایک زبردستی اور جبر دکھائی دیتا ہے۔ جیسے ٹھنڈے سریے کو کسی نے طاقت سے ٹیڑھا کر دیا ہو۔
علاوہ ازیں امتل اور وسیم سے روالپنڈی سے جہازمیں بیٹھ کر کراچی چلے جاتے ہیں یہاں (مانسہرہ ) وہ جس فوکسی میں سڑکوں پر فراٹے بھرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں وہ کراچی میں بھی ان کے پاس ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ جہاز میں فوکسی کو نہیں لے جاسکتے تھے۔ آیا ان کے پاس اس طرح کی دو گاڑیاں تھیں یا ایک ہی گاڑی کراچی کیسے پہنچی یہ وہ کڑیاں ہیں جو کہانی میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے خلا کا باعث بنتی ہے۔ امتل کا کردار خود کشی کی ناکام کوشش بھی کرتا ہے۔ ذاتی طورپر مجھے اور تمام انسانوں کو چاہیے کہ وہ ایسی نامراد شخص کے ساتھ ٹوٹ کر ہمدردی کرے لیکن وہ خود کشی کرنے میں ناکام رہی ہو۔ جس نے خود کشی کی آرزو میں بھی ناکامی کا منہ دیکھا۔ اس کی مایوسی اور حسرت ناگفتہ بہ ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ امتل سے ہمیں ذرہ برابر ہمدردی یا محبت نہیں ہوتی۔ ہم اس کی اس نامرادی اور مایوسی کے پس منظر میں کارفرما حالات و واقعات کی طرف بالکل متوجہ نہیں ہوتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کردار میں کہیں بھی کمزوری یا مظلومیت دکھائی نہیں دیتی ۔

ہفتہ, اپریل 26, 2014

امراؤ جان ادا ۔۔۔۔۔۔۔ مرزا ہادی رسواؔ

تحریر : فقیرا خان فقریؔ
امراؤ جان ادا مرزا محمد ہادی رسوا لکھنوی کا معرکۃ الآرا معاشرتی ناول ہے۔ جس میں انیسویں صدی کے لکھنو کی سماجی اور ثقافتی جھلکیاں بڑے دلکش انداز میں دکھلائی گئی ہیں۔ لکھنو اُس زمانے میں موسیقی اور علم و ادب کا گہوارہ تھا۔ رسوا نے اس خوب صورت محفل کی تصویریں بڑی مہارت اور خوش اسلوبی سے کھینچی ہیں۔ اس ناول کو ہمارے ادب میں ایک تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ ”شرر“ کے خیالی قصوں اور نذیر احمد کی اصلاح پسندی کے خلاف یہ ناول اردو ناو ل نگاری میں زندگی کی واقعیت اور فن کی حسن کاری کو جنم دیتاہے۔ آئیے ناول کا فنی اور فکری جائزہ لیتے ہیں۔
فنی جائزہ
کردار نگاری
فنی لحاظ سے ناول امراؤ جان ادا میں بہت زیادہ کردار ہیں۔ ناول کا مطالعہ کرتے ہوئے احسا س ہونے لگتا ہے کہ اس ناول میں قدم قدم پر نئے نئے کردار رونما ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کرداروں کے نام ان گنت ہو کر رہ گئے ہیں۔ اتنے زیادہ کردار شائد ہی اردو کے کسی ناول میں ہوں۔ لیکن اتنے زیادہ کردار ہونے کے باجود کرداروں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ہر لحاظ سے مکمل نبھاہ کیا گیاہے۔ رسوائکے ہاں اس ناول میں بڑا کردار ہویا چھوٹا کردار ، ناول نگار نے اسے اپنے تمام تر نفسیات و جذبات عادات و اطوار خاندانی پس منظر اور موجودہ حیثیت و عمر کے ساتھ پیش کر دیاہے۔
امراؤ جان ادا
ناول کا سب سے بڑا کردار امراؤ کا ہے ۔ اس کی اہمیت مسلم ہے۔ وہ قصے کی ہیروئن ہے۔ اس لئے پور ے قصے پر چھائی ہوئی ہے۔ بقول ڈاکٹر میمونہ انصاری:
”امراؤ جان ادا کا کردار اردو زبان میں اہم ترین کردار ہے۔ یہ پہلا سنجیدہ کردار ہے جو اپنی زندگی کا ضامن ہے۔ اب تک اس کردار کا ثانی کردار تخلیق نہیں ہوا۔“
امراؤ جا ن پیدائشی طوائف نہ تھی وہ شریف ذادی تھی اور شریف گھرانے میں پیدا ہوئی تھی ۔ دس برس تک شریف والدین کے زیرسایہ زندگی بسر کی ۔ پھر ایک منتقم مزاج شخص کے انتقام کی بھینٹ چڑھ کر اغوا ہوکر خانم کے کھوٹے پر پہنچی ۔ جہاں تعلیم و تربیت پا کر طوائف بنا دی گئی۔ شاعرہ تھی۔ ادب سے مس تھا۔ قبول صورت تھی ، رقص و سرور میں ماہر تھی۔ ان خوبیوں کی بنا پر مشہور ہوئی جہاں جاتی سر آنکھوں پر بٹھائی جاتی ۔امراؤ جان ادا کے کردار پر مراز رسوا نے بڑی محنت کی ہے۔ امراؤ کے کردار میں تدریجی تبدیلیاں دراصل اس کی فطرت کی شریفانہ جوہر کی پیداوار ہیں۔ یہ جو ہر اسے ورثہ میں ملاتھا۔اب اس کی زندگی میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب وہ چکلے کے گھناونے ماحول سے متنفر ہو چکی ہے اور اسے رنڈی بن کر جینا پسند نہیں۔ اس کردار کا یہ ارتقاءاس کی شخصیت و کردار میں عجیب مقناطیسی کشش پیدا کر دیتا ہے۔ اور قاری کی نظر میں مطعون اور مقہور ہونے کی بجائے رحم اور ہمدردی کی مستحق ٹھہر تی ہے۔ آخر ی عمر میں وہ سب کچھ ترک کر دیتی ہے۔ اور عام لوگوں سے بھی ملنے جلنے سے احتراز کرتی ہے۔ اور نماز روزے کی سختی سے پابندی کرنے لگتی ہے۔ آخر ی عمر میں کربلا معلی کی زیارت سے بھی فیض یا ب ہوئی۔ اس طرح اس کردار کی تشکیل میں رسوا نے گہرا نفسیاتی مطالعے سے کام لیا ہے۔

پیر, جنوری 27, 2014

مراۃ العروس : ڈپٹی نذیر احمد

پروفیسر افتخار احمد صدیقی نذیر احمد کی ناول نگاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ، ” نذیر احمد کے فن کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ناولوں میں مسلمانوں کی معاشرتی زندگی کی بالکل سچی تصویر کشی کی ہے۔ اور یہی خصوصیت ان کے نالوں کی دائمی قدرو قیمت کی ضامن ہے۔“
اردو زبان میں سب سے پہلے جس شخصیت نے باقاعدہ طور پر ناول نگاری کا آغاز کیا اس کا نام مولوی نذیر احمد ہے۔ ناقدین کی اکثریت نے مولوی صاحب کو اردو زبان کا پہلا ناول نویس تسلیم کیا ہے۔ کیونکہ ان کے ناول ، ناول نگاری کے فنی اور تکنےکی لوازمات پر پورے اترتے ہیں۔ اردو کا پہلا ناول مراۃ العروس 1869ء ہے۔ جو کہ مولوی نذیر احمد نے لکھا۔ اس کے بعد بناالنعش ، توبتہ النصوح، فسانہ مبتلا، ابن الوقت، رویائے صادقہ ، ایامی ٰ لکھے۔نذیر احمد نے یہ ناول انگریز ی اد ب سے متاثر ہو کر لکھے ۔لیکن ا ن کا ایک خاص مقصد بھی تھا۔ خصوصاً جب 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمان اپنا قومی وجود برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف تھی۔ نذیر احمد نے اپنے قصوں کے ذریعے سے جمہور کی معاشرتی اصلاحی اور نئی نسلوں ، خصوصاً طبقہ نسوا ں کی تعلیم و تربیت کا بیڑہ اٹھایا۔اُن کے ناولوں کا مقصد مسلمانان ہند کا اصلاح اور ان کو صحیح راستے پر ڈالنا تھا۔
لیکن اصلاح کے ساتھ ساتھ انھوں نے اردو ادب کو اپنے ناولوں کے ذریعے بہترین کرداروں سے نوازا۔ ان کے ہاں دہلی کی ٹکسالی زبان کی فراوانی ہے۔ لیکن ان پر ایک اعتراض یہ ہے کہ وہ اپنے ناولوں میں ناصح بن جاتے ہیں اور لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں۔ لیکن اُن کے سامنے ایک مقصد ہے اور و ہ مقصد فن سے زیادہ اُن کے ہاں اہم ہے۔
مراۃ العروس کا تنقیدی جائزہ
مراۃ العروس اردو زبان کا پہلا ناول ہے۔ جسے مولوی نذیر احمد نے تخلیق کیا۔ اگرچہ مراۃ العروس میں بہت سی خامیاں ہیں لیکن چونکہ اس سے پہلے اردو میں کوئی ناول نہیں لکھا گیا تھا جو نذیر احمد کے لئے ایک نمونہ کی حیثیت رکھتا ۔ پھر بھی ناقدین نے اسے ایک کامیاب ناو ل قرار دیتے ہیں۔ آئیے ناول کا فنی اور فکری جائزہ لیتے ہیں،
کردار نگاری
مولوی نذیر احمد کے اس ناول کی امتیازی خصوصیت کردار نگاری ہے۔ ویسے تو مراۃ العروس میں بہت سے نمایاں کردار ہیں لیکن چند ایک اہم کردار وں کے نام یہ ہیں۔ دور اندیش خان ، اکبری ، اصغری، خیراندیش خان ، اکبر اور اصغری کی ساس ، ماما عظمت ، محمد عاقل ، محمد کامل ، محمد فاضل ۔ سیٹھ ہزاری مل ، تماشا خانم ، حسن آرائ، جمال آراء، شاہ زمانی بیگم ، سلطانی بیگم ، سفہن ، جیمس صاحب ، کٹنی لیکن یہاں پر چند ایک جاندار اور جن کے گرد کہانی گھومتی ہے کاذکر تفصیل کے ساتھ کیا جاتاہے۔

منگل, نومبر 26, 2013

فسانۂ آزاد

مولانا عبدالحلیم شرر پنڈت رتن ناتھ سرشار کو ایک خط میں لکھتے ہیں کہ:
” آپ نے ”فسانہ آزا د کیا لکھا زبان اردو کے حق میں مسیحائی کی ہے۔“
بیگم صالحہ عابد حسین ”فسانہ آزاد کے متعلق لکھتی ہیں،
”اردو زبان سمجھنے کے ليے ”فسانہ آزاد“ پڑھنا چاہیے۔“
فسانہ آزاد اودھ اخبار میں مسلسل ایک سال تک شائع ہوتا رہا۔ اور کافی مقبول ہوا ۔ قارئین اخبار ہر قسط کے ليے بے تاب رہتے ۔ اور شوق سے اسے پڑھتے ۔ اردو ادب میں دراصل یہ پہلا موقع تھا کہ کسی اخبار میں باقاعدہ طور پر ناول کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ لیکن آج تک یہ بات متنازعہ ہے کہ فسانہ آزاد کو کس صنف نثر میں شمار کیا جائے۔ اسے ناول کہا جائے یا داستان اس بارے میں ڈاکٹر انور سیدید لکھتے ہیں، ” فسانہ آزاد“ ناول کی تکنیک سے باہر کی چیز ہے۔ نہ پلاٹ ہے اور نہ واقعات ہیں۔ ربط اور تسلسل بھی نہیں ملتا ۔ بلکہ بعض واقعات تو ایسے ہیں کہ ان کا مرکز ی قصے سے کوئی تعلق نہیں اس ليے ان کے نکال دینے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔“ اب جبکہ یہ ناول بھی نہیں تو اس کا شمار کونسی صنف ِ ادب میں ہوتا ہے اس بارے میں پریم پال اشک لکھتے ہیں، ” دراصل ”فسانہ آزاد “ناول اور افسانے کی کڑی ہے جس کو ہم دوسر ے لفظوں میں صحافتی ناول Serial fictionبھی کہتے ہیں۔ پریم پال کے اس رائے سے بات واضح ہو جاتی ہے کہ فسانہ آزا د ایک صحافتی ناول ہے۔ اور جو مرتبہ اور مقام فسانہ آزاد کو حاصل ہوا وہ کسی اور صحافتی ناول کو نہ مل سکا
اسلوب
بقول ایک محقق ،
” فسانہ آزاد میں کردار بولتے ہیں انسا ن باتیں کرتے ہیں، خود سرشار نہیں۔ اس ليے ان کے اسلوب میں توانائی ، اوریجنیلیٹی اور اصلیت ہے۔“
تقلید
پروفیسر آل احمد سرور نے سرشار کی نثر کو فسانہ عجائب کی ترقی یافتہ صورت قرار دیا ہے۔ یعنی انھوں نے اپنی اس کتاب میں رجب علی بیگ سرور کی اسلوب کے حوالے سے تھوڑی بہت تقلید ضرور کی ہے۔ مثال کے طور پر ” دیکھتے کیا ہیں کہ ابر نور بہار ، نسیم مشکبار نے تما م شہر کو نمونہ ارم بنا دیا ہے۔“
اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں جن میں ہمیں سرور کے اسلوب کا رنگ ملتا ہے۔ اس ليے اس بارے میں پریم پال اشک لکھتے ہیں،
” فسانہ آزاد میں جہاں تقلیدی انداز ملتا ہے وہاں صاف اور صحیح طور پر منشی رجب علی بیگ سرور کی جھلک نظر آتی ہے۔“
لیکن ناول میں سرشار کا اپنا تخلیقی رنگ بھی نمایاں ہے۔ پریم پا ل اشک نے سرشار کے اسلوب کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے ایک تقلیدی انداز اور دوسرا تخلیقی ۔ تقلیدی انداز میں صریحاً رجب علی بیگ کے اسلوب اور زبان کی جھلک نظرآتی ہے۔ اور سرور کی سی مسجع اور مقفٰی عبارت ملتی ہے۔ مگر سرشار ایسا اسلوب صرف منظر نگاری کے وقت اختیار کرتے ہیں۔ اس کے علاو ہ انھوں نے ناول میں اپنا انفرادی اسلوب برتا ہے جو کہ اُن کا اپنا تخلیقی رنگ ہے۔
بیگماتی زبان
پنڈت رتن ناتھ سرشار نے فسانہ آزاد میں خاکروب سے لے کر نواب تک اور کنجڑوں سے لے کر بیگم تک ہر طبقے کی زبان استعمال کی ہے۔ اور یہ لطف یہ کہ ہر طبقہ اور پیشے کے مطابق بو ل چال کا انداز برتا ہے۔محققین کی تحقیق کے مطابق سرشار نے بیگماتی زبان بچپن سے اپنے پڑوس میں رہنے والی مسلمان مستورات سے سیکھی تھی ۔ یہی وہ درسگاہ تھی جہاں اسے انہیں زبان ورثے میں ملی۔ اور انہوں نے اپنے سینے میں سال ہا سال چھپائے رکھا اور آخر اتنے سالوں کے بعد اسے فسانہ آزاد کی شکل میں پیش کردیا۔

جمعرات, مئی 02, 2013

پاکستانی ناول

اردو ادب میں پہلا ناول ڈپٹی نذیر احمد کا مراۃ العروس ہے جو کہ 1869ءمیں لکھا گیا ۔ مراۃ العروس میں ناول کے سارے لوازمات تو شامل نہیں کیوں کہ نذیر کے سامنے ناول کا کوئی نمونہ موجود نہیں تھا ۔ اُن کے ناولوں میں اہم پہلو مقصدیت کا ہے۔اس کے بعد ہمار ے پاس سرشار کا ناول ”فسانہ آزاد “ آتا ہے جس میں لکھنو معاشرت کی عکاسی نظر آتی ہے۔ پھر عبدالحلیم شرر نے تاریخی ناولوں کے ذریعے مسلمانوں کو جگانے کی کوشش کی ۔ جبکہ علامہ راشد الخیری بھی معاشرے کی اصلاح پر زور دیتے ہیں ۔
مرزا ہادی رسوا کاناول ”امرا ؤجان ادا“ کو اردو ادب کا پہلا مکمل ناول کہا جاتا ہے جس میں مربوط پلاٹ کے ساتھ ساتھ انسان کی داخلیت اور نفسیاتی پرتوں کو بھی بیان کیا ہے۔رسوا کے بعد پریم چند کا نام بڑا مضبوط ہے انھوں نے کل 13 ناول لکھے ۔ جس میں بیوہ ، بازارِ حسن ، اور میدان ِعمل مشہور ہوئے۔ پریم چند کے ہاں بھی مقصدیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان کے ہاں جنسی موضوعات کے ساتھ ساتھ ترقی پسند سوچ اور انقلاب کے موضوعا ت بھی ملتے ہیں۔
اس کے بعد ہمارے سامنے سجاد ظہیر کا نام آتا ہے جنہوں نے ایک ناول”لندن کی ایک رات “ لکھا۔ یہ اردو ادب کا پہلا ناول ہے جس میں شعور کی رو کی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔ اس کے بعد قاضی عبدالغفار کا نام آتا ہے جنہوں نے پہلی مرتبہ ناول کی ہیئت میں تبدیلی کی اور خطوط کی ہیئت میں ناول لکھے ان کے مشہور ناولوں میں سے ”لیلی کے خطوط “ اور ”مجنوں کی ڈائری “ شامل ہیں۔اس کے بعد کرشن چندر ہیں جنہوں نے افسانوں کے ساتھ ساتھ ناول بھی لکھے ان کے ناولوں میں”سڑک “، ”غدار “، ”جب کھیت جاگ اُٹھے“ ۔ ان کے ہاں خوبصورت انداز بیان تو موجود ہے لیکن کہانیاں زیادہ تر فلمی قسم کی ہیں۔ جس پرترقی پسند سوچ کا غلبہ ہے۔
عزیزاحمد نے بھی کئی ناول لکھے مثلاً ”خون “ ، ”مرمر“ ، ”گریز“ ، ”آگ“ اور ”شبنم “ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے ناولوں میں جدیدانسان کے ذہن کے اندر جو انتشار ہے اُس کی عکاسی ملتی ہے۔ اس کے بعد عصمت چغتائی جنسی اور نفسیاتی حوالے سے بہت مشہور ہیں۔ انھوںنے ”مصومہ “ ، ”ضدی “ ، ” ٹیڑھی لکیر“ اور ”سودائی “جیسے ناول لکھے ۔ان کے ہاں جنسی حوالے ضرور ہیں لیکن ان کے پس منظر میں ہمیشہ نفسیاتی اور اشتراکی نقطہ نظر کارفرمارہتا ہے۔
اس طرح ناول ارتقائی سفر کرتا ہوا 47 تک پہنچا جس میں ترقی پسند سوچ کے ساتھ اصلاح معاشرہ اور جنسی اور نفسیاتی رجحانات غالب رہے۔
1947ء کے بعد جو رجحانات ہمارے سامنے آتے ہیںاُن کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا لیکن اس سے پہلے ایک نام کاذکر بہت ضرور ی ہے جنہوں نے ہندوستان میں رہتے ہوئے ایک بڑا ناول ” آگ کا دریا “ تخلیق کیا۔ وہ نام ہے قراة العین حیدر کا ۔ انہوں نے اس ناول میں قدیم ہندوئوں کے دور سے شروع کرکے ٧٤ کے بعد کے دور کوموضوع بنایا ہے۔ انگریز کا آنا اور پھر پاکستان کا بننا سب حالات اس ناول میں موجود ہیں موضوع کے حوالے سے یہ ایک بہت بڑا ناول ہے۔ آئےے اب پاکستانی ناول کا جائزہ لیتے ہیں ۔
فسادات اور ہجرت کا حوالہ
پاکستان بننے کے بعد ایک طرح سے خون کی ہولی کھیلی گئی بہت سے لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا انسانیت کو پامال کیا گیا اور پھر ان تمام مصیبتوں کے بعد ہجرت کا واقعہ ایک طرف تو خون کی ندیاں دیکھنے کا تجربہ اور پھر دوسرا بڑا المیہ ایک تہذیبی حوالہ تھا۔ کیونکہ جن لوگوں کی نسلیں جہاں پر رہیں جہاں اُن کے تہذیبی روےے پروان چڑھے اُن کو اچانک کسی دوسری جگہ ہجرت پر مجبور کردینا لوگوں کے لیے معمولی بات نہیں ۔ اس کے پس منظر میں بہت سے دکھ ہوتے ہیں ایک تہذیب و تاریخ رہ جاتی ہے۔ لوگوں کے آباواجداد کی قبریں رہ جاتی ہیں۔ اور وہ نشانیاں جن کے تحت ان کی زندگی کا تسلسل قائم ہوا تھا وہ سب کہیں اور رہ جاتا ہے۔ یہ دونوں حوالے ہمارے ناول میں موجود ہیں۔ فسادات کے حوالے سے اُس دور کے ظلم و ستم اور قتل عام نے ادب کو بہت زیادہ متاثر کیا ۔ اس دور میں فسادات میں ہونے والے ظلم وستم پر ایم اسلم نے ایک ناول ” رقص ابلیس “ ،نسیم حجازی نےک ”خاک و خون “ ، فکر تونسوی نے ”چھٹا دریا “ اور فیض رام پورنے ”خون اور بے آبرو “جیسے ناول لکھے ۔جس میں اُس دور میں انسان کی بربریت اور ظلم کی داستان کو ناول کی شکل میں پیش کیاگیا ۔ اس طرح اُس دور میں فسادات کے حوالے سے اور بھی بہت سے ناول لکھے گئے جو کہ ہنگامی نوعیت کے رہے۔ اور ہنگامی موضوعات میں فنی پختگی کم ہو جاتی ہے۔ اور جذباتی پن زیادہ اور بصیرت کم نظرآتی ہے۔ لیکن اس دور میں ایک ناول ایسا لکھا گیا جس میں ہنگامی موضوع ہونے کے باجود ناول میں خوبصورتی اور اسلوب کے حوالے سے بڑی حد تک بڑائی پیدا کی گئی ہے۔ او ر یہ ناول قدرت اللہ شہاب کا ”یاخدا “ ہے۔
”یاخدا “ 1948ءمیں لکھا گیا ۔ جس میں مرکزی کردار ”دلشاد “ کے زبانی پوری کہانی بیان کی گئی ہے۔ اُس کے ساتھ تقسیم کے بعد سکھوں نے کیا کچھ کیا اور پھر ہجرت کے بعد اُس کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا تمام واقعات کو اُس کردار سے وابستہ کرکے ایک وسیع پس منظر میں ان حالات و واقعات کی عکاسی کی گئی ہے۔ دلشاد کے ساتھ سکھوں نے جو کچھ کیا وہی لاہور والوں نے بھی کیا۔ قدرت اللہ شہاب نے فسادات کو دراصل ایک نئے انداز سے لیا اور تقسیم کے بعد بننے والے معاشرے کو لپیٹ کر ہمارے سامنے رکھ دیا۔
اس سلسلے کا ایک او ر اہم ناول خدیجہ مستور کا ”آنگن “ ہے۔ اس ناول میں انہوں نے ٧٤ سے پہلے اور بعد کے حالات کا ذکر کیاہے۔ ان کا موضوع ایک خاندان ہے ۔ یہ خاندان برصغیر کے مخصوص حالات سے کس طرح متاثر ہوا ۔ اس ایک خاندان کے توسط سے 47کے واقعات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اُن کے ہاں براہ راست فسادات ناول کا موضوع نہیں بنے بلکہ تمام حالات کو پس منظر میں رکھ کر اُس سے نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔ کہ کس طرح یہ مسلمان خاندانوں پر اثرانداز ہوئے۔

ہفتہ, اپریل 20, 2013

پاکستانی افسانہ

جہاں تک اردو ادب کے پہلے افسانہ نگار کا تعلق ہے تو اس کے متعلق مختلف آرا ءہیں ۔ ڈاکٹر معین الدین نے سجاد حیدر یلدرم کو پہلا افسانہ نگار قرار دایا ہے۔ جبکہ بعض کے خیال میں پریم چند پہلے افسانہ نگار ہیں لیکن جدید تحقیق کے مطابق بقول ڈاکٹر مرزا حامد بیگ ”راشد الخیری “ اردو ادب کے پہلے افسانہ نگار ہیں جن کا افسانہ ”خدیجہ اور نصیر “ 1903ءکو مخزن میں شائع ہوا۔ اولیت جیسے بھی حاصل ہو لیکن سجاد حیدر یلدرم اور پریم چند اردو افسانے کے دو اہم نام اور ستون ہیں ۔ یہ دو نام ہیں بلکہ دورجحانات ہیں ایک رومانیت کا اور دوسرا حقیقت نگاری کا ۔ لہٰذا بعد میں ہم دیکھتے ہیں کہ کئی ایسے نام ہیں جن کے ہاں یلدرم کا رومانی مزاج ہے اور بعض کے ہاں پریم چند کی طرح حقیقت نگاری کا رجحان غالب ہے۔ اور1947تک انہی دو رجحانات کی بازگشت اردو افسانے میں سنائی دیتی ہے۔ مثلا نیاز فتح پوری ، حجاب امتیاز علی ، مجنوں گورکھپوری ، کے افسانوں میں رومانوی مزاج ملتا ہے۔ جبکہ باقی ترقی پسند افسانہ نگاروں کا مزاجحقیقت نگاری سے ملتا ہے۔ لیکن ان رجحانات میں حقیقت نگاری کا رجحان غالب ہے۔
مثلا رشید جہاں ، احمد علی اور محمود الظفر کے افسانوں کا مجموعہ ”انگار ے “ جو کہ موجود ہ دور کے انتشار اور ناہموار حالات سے پیدا ہونے والی بغاوت کا آئینہ دار ہے۔ خصوصا 1936ءکے بعد تو چار افسانہ نگاروں جن میں کرشن چندر ، راجندر سنگھ بیدی ، سعادت حسن منٹو ، اور عصمت چغتائی کے ہاں حقیقت کے زاوےے زیادہ مضبوط ہیں۔ کرشن چندر نے حقیقت میں رومان کا امتزاج پیداکرنے کی کوشش کی لیکن ان کا رومان بھی رومانیت کے ذیل میں نہیں آتا۔ اور ان کے رومان کا تعلق حقیقت سے ہے۔ کرشن کے کردار اسی حقیقی دنیا میں محبت کرتے ہیں اسی لیے انہیں اکثر جدائی کا صدمہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس جدائی کے پس منظر میں معاشی معاشرتی حالات بھی موجود ہوتے ہیں۔
راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کا تعلق بھی حقیقت نگاری کی طرف زیادہ او ررومان کی طرف کم ہے۔ اُن کے ہاں موضوعات کا مکمل تنوع موجود ہے۔ اور انہوں نے نے معاشیات ، نفسیات ، معاشرت ، ہمارے رشتے ، پھر سماج ہر حوالے سے لکھا اور حقیقت سے اُن کا گہرا رشتہ موجود ہے۔
جبکہ منٹو کا تعلق ہماری معاشرتی حقیقتوں سے گہرا ہے وہ ساری زندگی ہماری سماجی ، معاشرتی منافقتوں اور غلاظتوں کی نشاندہی کرتا رہا۔ عصمت چغتائی نے بھی معاشی اور معاشرتی حالات کے تحت پیدا ہونے والی جنسی محرمیوں پر کہانیاں لکھیں۔ اور متوسط گھرانے کی زندگی پر قلم اٹھایا۔
حیات اللہ انصاری کا افسانہ ”آخری کوشش“ اس حوالے کی شاید بہترین مثال ہے جو معاشی مسائل سے پیدا ہونے والی انسان کی بے بسی کی تصویر ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے دیہات کی عکاسی کی ہمارے داخلی اور خارجی مشکلات کی کہانیاں بھی بیان کیں۔ اور اپندرناتھ اشک اور خواجہ احمد عباس کے افسانوں کا رشتہ خلاءسے نہیں زمین سے رہا ۔ لہذا ٧٤ تک جو افسانہ سفر کرتے ہوئے پہنچا وہ ان رومان اور حقیقت دونوں رجحانات کے ساتھ آیا لیکن اس کی بنیاد زندگی اور اس کے مسائل ہی رہے ۔ افسانوں میں رومان کی فضاءبھی اس قسم کی ہے کہ اس کو سماج سے الگ نہیں کر سکتے ۔ یعنی رومان اور حقیقت ساتھ ساتھ سفر کر رہے ہیں۔

منگل, فروری 21, 2012

آنگن

  اردو کی خواتین افسانہ نگاروں میں خدیجہ مستور کا نام بے حد اہمیت کا حامل ہے ۔ یوں تو ان کے ناولوں اور افسانوی مجموعوں کی تعداد سات ہے ۔ مگر ان کا ناول ’ آنگن ہی اس قدر توانا ثابت ہواکہ اس نے ان کے نام کو زندہ جاوید کر دیا ۔ نہ صرف یہ کہ یہ ناول ہمیشہ اردو ادب میں زندہ رہے گا بلکہ اس کے خالق کی حیثیت سے خدیجہ مستور کا نام بھی اردو ادب میں اپنا مقام بنا چکا ہے ۔ آنگن ‘ پر انہیں پاکستان کا سب سے بڑا ادبی انعام ’ آدم جی پرائز ‘ بھی ملا ۔ اس ناول میں خدیجہ مستور کا فن اپنے عروج پرنظرآتا ہے ۔ انہوں نے کئی سماجی ، تہذیبی ، معاشرتی ، سیاسی اور معاشی تحریکوں کاجائزہ لیا ہے اور ان کا ماہرانہ تجزیہ پیش کیا ہے ۔ اس ناول کے بعد ہی ان کا شما رایک سنجیدہ اور گہری سوچ رکھنے والی تخلیق کار کی حیثیت سے ہونے لگا تھا کیونکہ ’ آنگن ‘ صرف ایک گھر کا آنگن نہیں پورے معاشرے کا آنگن ہے جس کا پر تو ہر دور میں نظر آتا ہے ۔

فنی جائزہ
فنی لحاظ سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے ”آنگن “ کی کردار نگاری ہمارے سامنے آتی ہے۔ اس سلسلے میں یہ ناول بہت سے کرداروں پر مشتمل ہے۔ ان کرداروں میں ایسے کردار بھی ہیں، جو شروع سے لے کر آخر تک قدم قدم پر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے نہ صرف ایک دوسرے کے قدموں ، بلکہ اپنے قدموں کی آہٹیں بھی سنتے چلے جاتے ہیں لیکن آہٹوں کی اس معیت میں بھی ہر کردار اپنی جگہ تنہا اور بے یار و مدگار دکھائی دیتا ہے۔ کچھ ایسے کردار بھی ہیں جو پل بھر کے لئے رونما ہوتے ہیں او رپھر ناول کی دنیا سے غائب ہو جاتے ہیں۔ عالیہ کے والد مظہر چچا، تہمینہ باجی ، عالیہ ، چھمی ، اماں ، صفدر بھائی ، بڑ ے چچا ، بڑی چچی ، جمیل بھائی ، کریمن بواء، شکیل ، اسرار میاں ، ظفر چچا اماں کے بھائی ، اور انگریز بھابی اس ناول کے دائمی کردار ہیں جو شروع سے لے کر آخر تک ناول کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتے پھرتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ رائے صاحب ، کسم دیدی ، شیام ، شیام کے والدین ، تھانیدار کا بیٹا منظور صفدر بھائی کی ماں سلمیٰ ، بڑے چچا کی بیٹی ، ڈیم پھول کہنے والا انگریز افسرمسز ہاروڈ ، نجمہ اور دادی اماں آنگن کے ضمنی کردار ہیں۔ سب سے پہلے ہم چند اہم اور بڑے کرداروں کا جائزہ لیتے ہیں،

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...