محسن کاکوروی کا عہد کشاکش حیات، رنگین بوالہواسی کا دور تھا۔ مغل سلطنت کا خاتمہ اور ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہو رہا تھا۔ انگریز ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں کا جانی دشمن بن گیا تھا افراتفری کے باوجود میرضمیر ، میر خلیق ، میر انیس ، مرزا دبیر ، امیر مینائی اور محسن کاکوروی نے زمانے کی کج روی کے خلاف اُردو ادب کو اعلیٰ خیالات و جذبات سے مالا مال کیا محسن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کی ابتداءنعت سے کی۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اُردو شاعری میں نعت گوئی کا حقیقی دور محسن کاکوروی کی نعتیہ شاعری سے ہی شروع ہوتا ہے۔
سخن کو رتبہ ملا ہے میری زبان کے لئے
زباں ملی ہے مجھے نعت کے بیاں کے لئے
ازل میں جب ہوئیں تقسیم نعمیتں محسن
کلام ِ نعتیہ رکھا میری زباں کے لئے
زباں ملی ہے مجھے نعت کے بیاں کے لئے
ازل میں جب ہوئیں تقسیم نعمیتں محسن
کلام ِ نعتیہ رکھا میری زباں کے لئے
محسن نے اپنی زندگی نعت کے لئے وقف کر دی ۔ اُن کا نعتیہ قصیدہ ”گلدستہ کلامِ رحمت “ کے نام سے ٢٥٩١ءکی تصنیف ہے یہ ان کا پہلا قصیدہ ہے اس سے پہلے قصیدے کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں
13) حلیہ مبارک سراپا رسول 14)رعبایاں 1857ءکے دوران
ہر صنف ِ شاعری ایک مخصوص مزاج کی حامل ہوتی ہے اور یہ مزاج درحقیقت ان عناصر سے ترتیب پاکر تیار ہوتا ہے جنہیں بہ اعتبار موضوع کی بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ہر صنف کا مزاج دوسری صنف ادب سے مختلف ہوتا ہے قصیدے کا مزاج غزل اور دیگر اصنافِ سخن سے الگ ہے ۔قصیدے کی صنف کو بام عروج پر پہنچانے والے شعراءمیں محسن کا نام سر فہرست ہے ان کے تصنیف کردہ چند قصائد ہیں لیکن فنی محاسن کے بہترین نمونے ہیں ۔
ان کے قصائد مسدس ، مخمس اور مثنویاں نعتیہ ادب کے ایسے شہپارے ہیں کہ جن کا جواب اب تک نہ ہوسکا ۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ،
آج کس صاحبِ شوکت کی میں تکتا ہوں راہ
کہ فرشتے ہیں اُٹھائے ہوئے در کی چلمن
رنگ و بو کس گل ِ رعنا کی پسند آئی ہے
نہ مجھے خواہش ِ گل ہے نہ ہے پروائے چمن
ان کا شعری سرمایہ ذیل ہے۔ ١) گلدستہ ِ کلام رحمت ٢) ابیات ِ نعت ٣) مدیح خیر المرسلین ٤) نظم دل افروز ٥) انیس آخرت ٢)مثنویات ٧) صبح تجلی ٨) فغانِ محسن ٩)چراغ کعبہ ٠١) نگارستانِ الفت ١١) شفاعت و نجات 12) اسرار معنی در عشق 13) حلیہ مبارک سراپا رسول 14)رعبایاں 1857ءکے دوران
ہر صنف ِ شاعری ایک مخصوص مزاج کی حامل ہوتی ہے اور یہ مزاج درحقیقت ان عناصر سے ترتیب پاکر تیار ہوتا ہے جنہیں بہ اعتبار موضوع کی بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ہر صنف کا مزاج دوسری صنف ادب سے مختلف ہوتا ہے قصیدے کا مزاج غزل اور دیگر اصنافِ سخن سے الگ ہے ۔قصیدے کی صنف کو بام عروج پر پہنچانے والے شعراءمیں محسن کا نام سر فہرست ہے ان کے تصنیف کردہ چند قصائد ہیں لیکن فنی محاسن کے بہترین نمونے ہیں ۔
ان کے قصائد مسدس ، مخمس اور مثنویاں نعتیہ ادب کے ایسے شہپارے ہیں کہ جن کا جواب اب تک نہ ہوسکا ۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ،