طنز و مزاح لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
طنز و مزاح لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات, نومبر 05, 2009

مضامین پطرس

اردو ادب میں ہی نہیں بلکہ عالمی ادب میں کمیت اور کیفیت کی بحث ہمیشہ سے رہی ہے۔ بعض اوقات تخلیق کار کی مختصر سی کاوش ہمیشہ کی زندگی پاتی ہے اور کئی قلمکار ایسے بھی ہیں جنہوں نے بہت کچھ لکھا لیکن کام کی چیز بہت کم ملتی ہے۔ پطرس کا شمار تخلیق کاروں کی پہلی قسم سے ہے بلاشبہ مختصر سے مضامین کے مجموعے نے انھیں اردو ادب میں کلاسیک کا درجہ دیا ہے ان کے مزاح نے اردو کے خالی دامن کو بھر دیا ہے۔ اور ہماری ادبی روایت کو ان کی شمولیت سے یہ فائدہ ہوا کہ مزاح کے عامیانہ عناصر ختم ہوگئے اور اس کے ساتھ ساتھ مغربی مزاح کے حربے صورت واقعہ، موازنہ، پیروڈی اور مزاحیہ کردار سے اردو ظرافت کو ایک وقار او ر سنبھلی ہوئی حالت ملی۔
ڈاکٹر احسن فاروقی پطرس بخاری کو انشاءپرداز کی حیثیت سے بہت توانا گردانتے ہیں اُن کا خیال ہے کہ پطرس ہر موضوع پر بلا تکلف لکھ سکتے ہیں اور شروع سے لےکر آخر تک اپنا رنگ برقرار رکھ سکتے ہیں ۔ اُن کاکام کھیل دکھانا تھا۔ لفظوں کاکھیل ، فقروں کا کھیل ، چست جملوں کا کھیل ، وٹ (بذلہ سنجی) کا کھیل مگر یہ ان کا خاص کھیل نہیں اُن کا کھیل موقعوں کا کھیل ہے۔ ڈرامائی حالات کا کھیل ہے ہر مضمون یہی کھیل دکھاتا ہے۔بقول رشید احمد صدیقی،
اگر ہم ذہن میں کسی ایسی محفل کا نقشہ جمائیں جہاں تمام ملکوں کے مشاہیر اپنے اپنے شعر و ادب کا تعارف کرنے کے لئے جمع ہو ں تو اردو کی طرف سے یہ اتفاق آرا کس کو اپنا نمائندہ انتخاب کریں ؟ تو یقینا بخاری کو، بخاری نے اس قسم کے انتخاب کے معیار کو اتنا اونچا کر دیا ہے کہ نمائندہ کا حلقہ مختصر ہوتے ہوتے معدوم ہونے لگا ہے یہ بات کس وثوق سے ایسے شخص کے بارے میں کہہ رہا ہوں جس نے اردو ادب میں سب سے کم سرمایہ چھوڑا لیکن کتنا اونچا مقام پایا۔
پطرس کی دنیا محدود نہ تھی ان کا مزاح مشرقی ، ذہن مغربی اور سوچ عالمگیر تھی ۔ انھوں نے جو تخلیق کیا خوب غور و خوص کے بعد تخلیق کیا ۔ انکی ہر تحریر ایک کار نامہ ہے ۔ اُن کی عظمت کا اعتراف مغرب میں بھی ہوا انگریزی اخبار ”نیویارک ٹائمز“ ان کی وفات پر انھیں خرا ج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے
اُن کا تعلیمی پس منظر مشرق و مغرب ، پنجاب ہ کیمرج یونیورسٹی دونوں کو آغوش میں لیے ہوئے تھا وہ مشرق و مغرب کے عالم تھے لیکن اس خاصیت سے بڑھ کر ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ عظیم انسان تھے۔

بدھ, اپریل 29, 2009

ابن انشاء’’اردو کی آخری کتاب‘‘۔

اردو ادب میں مزاحیہ اور طنزیہ ادب لکھنے والوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ صرف نام گنوانے کے لئے ہی کئی صفحات چاہئیں۔ اس فہرست میں ایک چمکتا ہوا نام ”ابن انشاء“ کا ہے ابن انشاءادب مزاح کی گراں قدر مالا کا وہ خوبصورت موتی ہے۔ جو موزنیت اور مناسبت کے لحاظ سے ہر رنگ میں اپنا جواب آپ ہیں ۔ اس نگینے سے نکلنے والی چمک خواہ شاعری میں ہو ، خواہ نثر میں ہر جگہ منفرد اور نمایاں ہے۔بقول محمد اختر صاحب
ابن انشاءایک قدرتی مزاح نگار ہے جتنا زیادہ وہ لکھتا ہے اس کا اسلوب نکھرتا جاتا ہے۔
دور جدید کے عظیم مزاح نگار ”مشتاق احمد یوسفی “ ابن انشاءکے بارے میں لکھتے ہیں
بچھو کا کاٹا روتا ہے اور سانپ کا کاٹا سوتا ہے انشاءجی کا کاٹا سوتے میں مسکراتا بھی ہے۔
ابن انشاءاردو ادب میں ایک رومانی شاعر، ایک حساس کالم نویس، سفرنامہ نگاراور طنز و مزاح کے حوالے سے منفرد حیثیت رکھتے ہیں ۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ خود فنکار ادب میں ایک سے زائد اصناف میں کام کرتے ہیں تو اُن کی تخلیقی قوت منتشر ہو جاتی ہے لیکن ابن انشاءکا کمال یہ ہے کہ انھوں نے ہر صنف ادب میںاپنا لوہا منوایا ہے اگرچہ اپنے اظہار کے لئے انہوں نے کئی میدانوں کا انتخاب کیا ۔اور یہی وجہ ہے کہ ان کا دل شاعر ہے اور دماغ بہترین نثرنگار ۔اُن کے سفرنامے ”چلتے ہو تو چین کو چلیے ،”دنیا گو ل ہے“، ”آوارہ گرد کی ڈائری“ ، ”ابن بطوطہ کے تعاقب میں “ ، طنزیہ اور مزاحیہ اسلوب کے حامل ہیں ۔ لیکن ان دو کتابوں کومکمل طور پر مزاح کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں ۔ ایک ”اردو کی آخری کتا ب“ اور دوسری ”خمار گندم“ ۔آئیے اُن کی کتاب ”اردو کی آخری کتاب “ کا جائزہ لیتے ہیں۔

اتوار, اپریل 26, 2009

مشتاق احمد یوسفی ’’چراغ تلے‘‘۔

اردو مزاح نگاری کی تاریخ میں مشتاق احمد یوسفی کا فن توجہ اور سنجیدہ توجہ کا حامل ہے ۔ کیونکہ ان کافن محض وقت گزاری کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ عمل ہے۔بقول احسن فاروقی،
وہ مزاح کو محض حماقت نہیں سمجھتے اور نہ محض حماقت ہی سمجھ کو پیش کرتے ہیں بلکہ اُسے زندگی کی اہم حقیقت شمار کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کے مطابق
ہم اردو مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں۔
ابن انشاءبھی مشتاق یوسفی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
اگر مزاحیہ ادب کے موجودہ دور کو ہم کسی نام سے منسوب کر سکتے ہیں تو وہ یوسفی ہی کا نام ہے
ہربڑ افنکار اپنے عہد کے لئے نئے پیمانے متعین کرتا ہے اور پہلے سے موجودہ روایت کی ازسرنو تشکیل کرتا ہے۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ بڑا ادب خود کسوٹی بن جاتا ہے۔ اور اس کسوٹی پر بعد میں آنے والوں کی تخلیقات کو پرکھا جاتا ہے۔ بلا شبہ یوسفی اپنے عہد کی ایک ایسی ہی کسوٹی ہے۔ جس میں نہ صرف یہ کہ پہلے سے موجود روایت جمع روایات جمع ہو گئی ہیں بلکہ جدید اسلوب سے انہو ں نے اس کی خوبصورت تشکیل بھی کی ہے۔ انھوں نے ”چراغ تلے“ ،”خاکم بدہن“ ، ”زرگزشت“ کی صورت میں اردو ادب کو مزا ح کے بہترین نمونوں سے نوازا۔
اپنے ان تخلیقات میں یوسفی اول سے آخر تک لوگوں سے پیار کرنے والے فنکار نظر آتے ہیں اور اس سے بڑھ کر ایک تخلیق کار کی کامیابی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ جھنجلاہٹ میں مبتلا نہیں ہوتا ۔ بلکہ ہنس ہنس کر اور ہنسا کر زندگی کو گلے لگاتا ہے۔ اس طرح وہ زندگی کو نئے زاویہ نظر سے دیکھتا بھی ہے اور قاری کو بھی دکھاتا ہے۔ لیکن صرف ہنسنے اور ہنسانے کا عمل مزاح نگاری نہیں کہلاتا ۔ اس کے لئے لہجے کی ظرافت، عظمت خیال اور کلاسیکی رچائو کے ساتھ مہذب جملوں کی ضرورت ہے۔ اگر مزاحیہ ادب کی روایت کو بغور دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مزاح نگاری نے وقت کی آواز بن کر سچا کردار ادا کیا ہے۔ مرزا غالب ، فرحت اللہ بیگ ، رشید احمد صدیقی ، پطرس بخاری ، مجید لاہوری، کرنل محمدخان ، شفیق الرحمن اور ابن انشاءوغیر ہ کی تخلیقات میں معاشرے کی ناہمواریوں کا پہلو کبھی نظر انداز نہیں ہوا۔ یوسفی بھی اس صف میں نظر آتے ہیں۔ کہ انہوں نے مزاحیہ نثر میں بدنظمی کا شائبہ تک پیدا نہیں ہونے دیا۔

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...