سوچا کہ بلاگ کے عنوان کے متعلق کچھ بات ہو جائے۔ دراصل غبار خاطر کا عنوان سب سے پہلی مرتبہ میر عظمت اللہ بے خبر بلگرامی نے اپنے رسالہ کے لیے استعمال کیا۔ جو کہ صوفی ، شاعر اور حقائق گو تھے۔
مپرس تاچہ نوشت ست کلک قاصر ما
خطِ غبارِ من ست ایں غبار خاطر ما
ترجمہ:مت پوچھ کہ ہمارے قلم فرومایہ نے کیا کچھ لکھ ڈالا، یہ تو ہمارے دل کا غبار تھا جس نے ان شکستہ حروف کی شکل اختیار کر لی۔
اس کے بعد عبدالکلام آزاد نے اپنے نجی خطوط کے مجموعے کا نام غبارِ خاطر رکھا یہ خطوط مولانا نے قلعہ احمد نگر سے اپنی اسیری کے دوران اپنے دوست کو لکھے۔اردو ادب میں آج یہ مجموعہ ایک کلاسک کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کتاب کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب ممتاز اورنامور ادیب اعصابی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو ’’غبارِ خاطر‘‘ کا مطالعہ شروع کردیتے ہیں اور پھر ایسی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں کہ جہاں کیف و سرور ہے ، جذب و سوز ہے اور فرحت و شگفتگی ہے۔ مولانا کی اسی کتاب سے متاثر ہو کر میں نے اپنے بلاگ کا نام غبارِ خاطر رکھا ہے۔