نثری ادب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
نثری ادب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات, نومبر 05, 2009

مضامین پطرس

اردو ادب میں ہی نہیں بلکہ عالمی ادب میں کمیت اور کیفیت کی بحث ہمیشہ سے رہی ہے۔ بعض اوقات تخلیق کار کی مختصر سی کاوش ہمیشہ کی زندگی پاتی ہے اور کئی قلمکار ایسے بھی ہیں جنہوں نے بہت کچھ لکھا لیکن کام کی چیز بہت کم ملتی ہے۔ پطرس کا شمار تخلیق کاروں کی پہلی قسم سے ہے بلاشبہ مختصر سے مضامین کے مجموعے نے انھیں اردو ادب میں کلاسیک کا درجہ دیا ہے ان کے مزاح نے اردو کے خالی دامن کو بھر دیا ہے۔ اور ہماری ادبی روایت کو ان کی شمولیت سے یہ فائدہ ہوا کہ مزاح کے عامیانہ عناصر ختم ہوگئے اور اس کے ساتھ ساتھ مغربی مزاح کے حربے صورت واقعہ، موازنہ، پیروڈی اور مزاحیہ کردار سے اردو ظرافت کو ایک وقار او ر سنبھلی ہوئی حالت ملی۔
ڈاکٹر احسن فاروقی پطرس بخاری کو انشاءپرداز کی حیثیت سے بہت توانا گردانتے ہیں اُن کا خیال ہے کہ پطرس ہر موضوع پر بلا تکلف لکھ سکتے ہیں اور شروع سے لےکر آخر تک اپنا رنگ برقرار رکھ سکتے ہیں ۔ اُن کاکام کھیل دکھانا تھا۔ لفظوں کاکھیل ، فقروں کا کھیل ، چست جملوں کا کھیل ، وٹ (بذلہ سنجی) کا کھیل مگر یہ ان کا خاص کھیل نہیں اُن کا کھیل موقعوں کا کھیل ہے۔ ڈرامائی حالات کا کھیل ہے ہر مضمون یہی کھیل دکھاتا ہے۔بقول رشید احمد صدیقی،
اگر ہم ذہن میں کسی ایسی محفل کا نقشہ جمائیں جہاں تمام ملکوں کے مشاہیر اپنے اپنے شعر و ادب کا تعارف کرنے کے لئے جمع ہو ں تو اردو کی طرف سے یہ اتفاق آرا کس کو اپنا نمائندہ انتخاب کریں ؟ تو یقینا بخاری کو، بخاری نے اس قسم کے انتخاب کے معیار کو اتنا اونچا کر دیا ہے کہ نمائندہ کا حلقہ مختصر ہوتے ہوتے معدوم ہونے لگا ہے یہ بات کس وثوق سے ایسے شخص کے بارے میں کہہ رہا ہوں جس نے اردو ادب میں سب سے کم سرمایہ چھوڑا لیکن کتنا اونچا مقام پایا۔
پطرس کی دنیا محدود نہ تھی ان کا مزاح مشرقی ، ذہن مغربی اور سوچ عالمگیر تھی ۔ انھوں نے جو تخلیق کیا خوب غور و خوص کے بعد تخلیق کیا ۔ انکی ہر تحریر ایک کار نامہ ہے ۔ اُن کی عظمت کا اعتراف مغرب میں بھی ہوا انگریزی اخبار ”نیویارک ٹائمز“ ان کی وفات پر انھیں خرا ج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے
اُن کا تعلیمی پس منظر مشرق و مغرب ، پنجاب ہ کیمرج یونیورسٹی دونوں کو آغوش میں لیے ہوئے تھا وہ مشرق و مغرب کے عالم تھے لیکن اس خاصیت سے بڑھ کر ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ عظیم انسان تھے۔

جمعرات, جولائی 02, 2009

مختار مسعود (آوازِ دوست)۔

چند علمی خیالات کو ایک منظم شکل دینا اور اختصار کے ساتھ بیان کرنا مضمون کہلایا۔ سرسید تحریک کے زیر اثر مضمون میں اصلاحی رنگ نمایاں رہا ۔ سرسید کے سارے مضامین یورپ کی تہذیب و تمدن سے متاثر ہو کر لکھے گئے ۔ اور ایک واضح شکل اختیار کرنے سے قاصر رہے۔ سرسید کے بعد اس صنف نے مزید ترقی کی اور تاریخی ، علمی ، سائنسی ، نفسیاتی اور سماجی تمام پہلوئوں کواپنے اندر سمو دیا۔ سرسید نے جن مضامین کی ابتداءکی اسکا نقطہ عروج جدید اردو ادب میں ”آواز دوست“ کی صورت میں سامنے آیا۔ ”آواز دوست“ اپنے اندر کئی ایسے پہلو رکھتی ہے جو اس سے پہلے مضامین کا موضوع نہیں رہے ۔ مثلاً جس طرح ادب، فلسفے اور تاریخ کو ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کرکے پیش کیا گیا ہے اس پہلے ایسی مثال نہیں ملتی ، ”آواز دوست“ کے مضامین ہمہ پہلو اور ہمہ جہت ہے۔ ”آواز دوست“ کی صحیح قدر متعین کرنے کے لئے ایک نقاد کو اس کے منصب کے تمام حوالوں کو بروئے کار لانا پڑے گا۔بقول محمد طفیل ایڈیٹرنقوش
اس کتاب کے بارے میں چھت پھاڑ قسم کی تعریفیں ہوئیں ، بے شک یہ کتاب تعریف کے قابل ہے ۔ جتنا چاہیں جھوٹ بول لیں ،جتنا چاہیں سچ بول لیں۔ دونوں چکر چل جائیں گے۔ یہ گنجائش میں نے تو محمد حسین آزاد کی کتاب”آب حیات“ میں دیکھی یا پھر مختار مسعود کی کتاب ”آواز دوست“ میں۔
مختا ر مسعود علی گڑھ سے تعلیم یافتہ ہیں وہ محکمہ مالیات کے ایڈیشنل سیکرٹری تھے۔ یعنی پاکستانی بیورو کریسی کاایک حصہ تھے۔ اس کے علاوہ وہ مینار پاکستان کی تعمیر ی کمیٹی کے صدر بھی تھے۔ اُن کے والد صاحب علی گڑھ یونیورسٹی میں معاشیات کے استاد رہ چکے تھے۔ مختا ر مسعود آج کل لاہور میں مقیم ہیں اور اپنے فرائض منصبی سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔ آواز دوست کے علاوہ ”لوح ایام“ اور ”سفر نصیب“ کے عنوا ن سے اُن کے دو سفر نامے منظر عام پر آچکے ہیں۔

ہفتہ, جون 20, 2009

ممتاز مفتی (لبیک)۔

اردو میں حج کے سفر ناموں کی روایت کافی قدیم اور بھر پور ہے یہ روایت بھی فارسی کی دین ہے اردو حج ناموں میں ” حاجی محمد منصب علی خان کا سفر نامہ ماہ مغرب پہلا حج نامہ تسلیم کیا جاتاہے ۔ یہ معلوماتی اور واقعاتی سفرنامہ ہے ۔ اس سفر نامے کا اسلوب سیدھا سادھا ہے یعنی اردو کایہ پہلاحج نامہ رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔
برصغیر دیار مقدس سے خاصے فاصلے پر ہے اور انیسویں صدی کے آخر تک سفر کی مناسب سہولتیں بھی میسر نہ تھیں ۔ چنانچہ کم زائرین کو یہ سہولتیں اور سعادت نصیب ہوتی تھی ۔ اس دور نے آتش شوق کو فروزاں کئے رکھا۔ اور حج کے سفر نامے لکھے گئے تو انہیں وصل کا ایک ذریعہ سمجھ کر پڑھا گیا وہ تمام زائرین جو مقدس مقامات دیکھنے کے بعد لوٹتے ہجر و فراق کی کیفیت سے بھی گزرتے اور اس بیان نے حج کے سفر ناموں کے اسلوب کو گداز بنا دیا ۔ اس عہد کے قاری کے لئے حج کے سفر نامے نعمت عظمیٰ سے کم نہ تھے۔ اور پھر ذرائع آمدورفت کی بدولت یہ سفر آسان ہواتو حج کے سفر نامے داخلی کیفیت سے آشنا ہوئے ۔ حج کے ابتدائی سفر ناموں میں معلومات اور مناسک کی تفصیل ہوتی تھی۔ موجودہ دور کے حج کے سفر ناموں میں تاثرات کی بہتات ملتی ہے۔ آج زبان و بیان کا قرینہ اور سلیقہ خالق کو اپنی باطنی تجربات تحریری شکل میں لانے میں مدد دیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ابتدائی سفر نامے ”کیا ہے“ کی تفصیل تھے جبکہ موجودہ حج ناموں میں ”کیا پایا “ کی تشریح ملتی ہے۔ اس دور کے حج نامے آپ بیتی کے قریب ہیں۔ تکنیکی اعتبار سے اُ ن کا اندازڈائری جیسا ہے اور مقصد محسوسات ، قلب اور تجربات روحانی کا بیا ن کرنا ہے۔
ان حج ناموں میں ذات کی خود نمائی کا احساس نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر جگہ ذات کی نفی کا پہلو نمایاں رہتا ہے۔ عاجزی انکساری حج ناموں کی بنیادی خصوصیت رہی ہے۔ شور ش کاشمیری کا حج نامہ ” شب جائے کہ من بودم‘ ‘ غلام ثقلین کا ” ارض ِ تمنا“ عبداللہ ملک کا ” حدیث دل“ اور ممتاز مفتی کا لبیک جدید حج ناموں کی چند نمایاں جہتیں پیش کرتی ہیں۔
لبیک
ممتاز مفتی کا ”لبیک“ منفرد حیثیت و اہمیت کا حامل ہے یہ ایک باغی شخص کی قلبی واردات ہے جو اسرار کھولنا چاہتا ہے ۔ پردہ اٹھانا چاہتا ہے ہر لمحہ قاری کو اپنا ہمنوا بنائے رکھتا ہے ۔ بقول ظہور احمد اعوان
مفتی ایک مہم جو کی طرح اپنی ذات کی تسخیری مہم پر رواں تھا۔ اس نے جگہ جگہ رسمی تصورات پر چوٹیں کی ہیں ۔ فرسودہ رسومات پر طنزکے تیر برسائے ہیں ۔ خارجی رسمیات سے آگے گزر کر داخلی اور روحانی دنیا میں جھانکنے کی کوشش بھی کی ہے۔

بدھ, مئی 27, 2009

ملا وجہی (سب رس)۔

پروفیسر افتخار احمد شاہ اپنے مضمون ”دکن میں اسالیب نثر “ میں لکھتے ہیں
سب رس اپنے موضوع ، زبان اور اسلوب کے اعتبار سے ایک ایسی تصنیف ہے کہ جسے اس دور کی جملہ تصانیف میں سب سے زیادہ ادبی اہمیت کی مالک ہونے کا مقام حاصل ہے۔ جسے موضوع کی دلچسپی ، جذبے کی موجودگی، زبان کی دلکشی اور اسلوب کی انفرادیت پر خالص ادبی تحریر قرار دیا جاسکتا ہے۔
سب رس ایک تمثیل:۔
سب رس کو عبداللہ قطب شاہ کی فرمائش پر وجہی نے لکھا۔ اس کتاب کو اردو نثر کی اولین کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔یہ وجہی کہ اپنی طبع ذاد نہیں اس کتاب میں فتاحی نیشاپوری کی مثنوی ”دستور العشاق“(نظم )اور ”قصہ حسن ودل “ کو نثر کےپیرائے میں تمثیل کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ تمثیل انشاءپردازی کی اس طرز کو کہتے ہیں جس میں کسی تشبیہ یا استعارہ کو یا انسان کے کسی جذبے مثلاً غصہ،نفرت، محبت وغیرہ کو مجسم کرکے یا دیوی دیوتاؤں کے پردے میں کوئی قصہ گھڑ لیا جاتا ہے۔ یہ قصہ صوفیانہ مسلک کا آئینہ دار ہے۔ مگر اپنے اسلوب اور بیان میں سب رس ایک کامیاب تمثیل ہے۔ اس میں حسن و دل اور عقل و دل کی جنگ کو بڑی خوبصورت اور کامیاب تمثیل کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔
سنگ میل:۔
سب رس اردو نثر کا سب سے ممتاز اور ترقی یافتہ شاہکارہے۔ اس میں اسلوب بیان نے ایک خاص انگڑائی لی ہے اور زندگی کی آنکھ کھولی ہے۔ سب رس سے پہلے جو نمونے اردو نثر میں ملتے ہیں ۔ اسے اردو نثر کا دور بدویت کہا جاسکتا ہے۔ یعنی اس دور میں وہ انداز بیان تھا جس میں لہجے کا دیہاتی پن، کہنے کا سادہ بے تکلف اور درست انداز اور آرائش کی ہر کوشش سے آزاد تھا ۔جتنے لوگوں نے اس زمانے میں لکھا، مذہبی مسائل پر لکھا اور ان کے مخاطب عوام تھے جن تک بات پہنچانا مقصود تھا۔ اس لیے سادگی ، سلاست و راست بیانی کے علاوہ شیرازہ بندی اور فقروں کی ساخت سے بے پروائی کا رویہ عام تھا۔ مگر ”سب رس“ اردو نثر کا ایک ایسا سنگ میل ہے جس میں اس بات کی کوشش نظر آتی ہے کہ مصنف اپنی بات کو موثر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
اسلوب:۔
سب رس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی ترقی یافتہ زبان اور اس کا اسلوب بیان ہے۔ سب رس میں پہلی دفعہ زبان اردو کی ایک ترقی یافتہ صورت ہمارے سامنے آئی اور پہلی دفعہ زبان کے ایسے اسالیب اور زبان کے ایسے ایسے خصائص وجودمیں آئے جن کی بنا پر ”سب رس“ کی زبان اس سے پہلے کے مصنفوں کی زبان سے اور اپنے معاصروں کی زبان و اسلوب سے علیحدہ ہو گئی۔ پروفیسر شیرانی لکھتے ہیں
جو چیز ”سب رس “ کو ہماری نگاہ میں سب سے زیادہ قیمتی بناتی ہے۔ وہ اس کے اسالیب ہیں۔ جب ہم ان اسالیب کا موجودہ زبان سے مقابلہ کرتے ہیں توآج کی زبان میں اور اس زبان میں خفیف سا فرق معلوم ہوتا ہے۔

جمعرات, مئی 21, 2009

مقدماتِ عبدالحق

مقدمہ عربی کی اصطلاح ہے جو دوسری زبانوں کی کتابوں کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی بہت استعمال ہوتی ہے۔ اور اس کا تعلق مقدمہ الجیش سے ہے۔ جیش کہتے ہیں لشکر کو۔ وہ ہر اول لشکر جو کہ فوج کے آگے چلتا تھا۔ اس کومقدمہ الجیش کہا جاتا تھا۔
جہاں تک ادبی مفہوم کا تعلق ہے تو مقدمہ سے مردا یہ ہے کہ کتاب کے شروع میں کتاب کے مصنف یا مولف کا تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ اس تعارف میں اُس کے زندگی کے حالات اور اُس کے کردار کی تصویر کشی کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں اُس کی مختلف تصانیف پر بھی اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی جاتی ہے۔ حالات اور سیرت پر روشنی ڈالنے کے بعد کتاب کی ادبی، فنی اور لسانی حیثیت بھی متعین کی جاتی ہے۔ اردو ادب میں مقدمہ نگاری کی باقاعدہ ابتداءکے سہرا مولوی عبد الحق کے سر ہے۔ اُن کے مشہور مقدمات میں ” سب رس کا مقدمہ“ ’انتخاب کلام میر“ اور ”باغ و بہار کا مقدمہ شامل ہیں۔
مولوی صاحب کے مقدمات:۔
مقدمات عبدالحق میں سب سے اہم وہ مقدمے ہیں جو خود ان کی مرتب کی ہوئی کتابوں پر لکھے گئے ہیں۔ یہ کتابیں اردو کے قدیم کلاسیکی ادب سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کتابوں پر مولوی صاحب کے مقدمے تحقیقی اور تنقیدی نقطہ نظر سے روشنی ڈالتے ہیں۔ جس سے ان کی کتابوں کے مصنفوں کے حالات ، شخصیت ، ماحول اور ادبی مرتبے کے تمام خدوخال واضح ہو جاتے ہیں ۔ ان مقدمات میں مولوی صاحب کے ذوق تحقیق نے عہد ماضی کے بیشتر مخفی حقائق کی نقاب کشائی کی ہے۔ جس کے نتیجے میں ہماری ادبی اور تہذیبی تاریخ میں انقلاب آفرین اضافے ہوئے ہیں اور مستقبل کے مورخین و محققین کے لئے راہیں صاف ہو گئی ہیں۔
مولوی عبدالحق نے میر تقی میر پر دو معرکتہ الارا مقدمے لکھے ہیں ۔ ایک ان کے انتخاب کلام میر پر ہے اور دوسرا میر کی خود نوشت ، سوانح حیات ، ”ذکر میر ‘ ‘ پر ہے۔ یہ مقدمے آ ج سے برسوں پہلے لکھے گئے ہیں لیکن ان میں میر کی زندگی ، شخصیت ، اور شاعرانہ مرتبے پر پورے اطمینان سے دوٹوک انداز میں تحقیق کی گئی ہے اور تنقیدی بصیرت سے خیال افروز فیصلے دئیے گئے ہیں۔

منگل, مئی 19, 2009

رشید احمد صدیقی (مضامینِ رشید)۔

مضامین رشید۔ رشید احمد صدیقی کے 20 مضامین پر مشتمل کتاب ہے۔ ان مضامین کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں ان میں مزاحیہ مضامین میں چارپائی ، ارہر کا کھیت ، گواہ ، مغالطہ ، دھوبی اور حاجی صاحب ہیں۔ اپنی یاد میں ، سرگزشت، مولانا سہیل ، مرشد ، حاجی صاحب اور ماتا بدل ان کی شخصیت نگاری ( خاکہ نگاری) کی اولین نقوش ہیں۔ سرگزشت عہد گل ، اپنی یاد میں اور سلام ہو نجد پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور سرسید احمد خان کی شخصیت سے عبارت ہیں ۔ جبکہ مرشد ، آمد مین اورد ، اپنی یادمیں اور پاسبان انشائیے ہیں۔پروفیسر وحید اختر مضامین رشید کے بارے میں کہتے ہیں
مضامین رشید ،میں محض علی گڑھ نہیں ، ہندوستان کی جہد آزادی بھی ہے۔ برطانوی انگریز اور ہر قسم کے ہندوستانی بھی ہیں۔ پہاڑوں کی سیر بھی ہے، ریل کا سفر بھی ہے ، پھلوں کابیان بھی ہے ۔اور لکھنو بھی ، ہسپتال بھی ، ڈاکٹر بھی، نرسیں بھی ، دوست بھی ہیں ملازمین بھی ، بڑے لوگ بھی ہیں او رمزدور بھی ۔ اور یہی نہیں ہندوستان کا وہ دیہات بھی جو پریم چند کی کہانیوں اور ناولوں میں ملتا ہے۔کبھی کبھی تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم متفرق مضامین نہیں ایک مسلسل افسانے کے اجزاءیا ناول کے متفرق ابواب پڑھ رہے ہیں۔
مضامین رشیدکو اردو ادب میں ایک اہم مقام اور حیثیت حاصل ہے ۔ آئیے ان مضامین کے خصوصیات او ر اسلوب کا جائزہ لیتے ہیں،
علی گڑھ کا اثر:۔
ان مضامین کے عنوانات اگرچہ ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں لیکن ان سب کا محور ماحول اور فضاءعلی گڑھ کالج (علی گڑھ مسلم یونیوسٹی ) اور سرسید احمد خان کی شخصیت ہیں۔ رشید احمد صدیقی آ پ کو دنیا جہاں میں گھوما پھرا کے آپ کے ساتھ دنیا جہاں کی باتیں کرکے آخر میں علی گڑھ کالج اور سرسید احمد خان کی شخصیت پر لا کھڑا کردے گا۔ ان مضامین سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ مصنف کو خود علی گڑھ سے کتنی محبت اور لگائو ہے اور سرسید احمد خان کی شخصیت سے کس قد ر عقیدت رکھتے ہیں۔ اور خود ان سے کس قدر متاثر ہیں اپنے مضامین میں علی گڑ ھ کے اثر کے بارے میں خود رشید احمد صدیقی لکھتے ہیں
اپنے طالب علمی کی یاد ہر شخص کو خوشگوارمحسوس ہوتی ہے چاہے وہ زمانہ تکلیف و تردد ہی کا کیوں نہ رہا ہو۔ ۔۔۔اورجس نے اپنی زمانہ طالب علمی کا بہترین زمانہ ایسے ادارے میں بسر کیا جو ہندوستان کے مسلمانوں کی دیرینہ علمی اور تہذیبی ورثے کا امین ، ان کے حوصلوں کا مرکز اور امیدوں کا سرچشمہ رہا ہو ایسے ساتھیوں میں گزر ا ہو جو مذہب ملک سوسائٹی اور علوم و فنون کی دی ہوئی طرح طرح کی نعمتوں اور برکتوں سے بہر مند تھے۔ ایسی روایات ایسی فضا ایسا ساتھ ایسے روز شب ان سب کا آخر کچھ تو اثر ہوتا ہی ہے۔

منگل, مئی 12, 2009

مولانا ابو الکلام آزاد (غبارِ خاطر)۔

ہم ایک شخص سے کوئی بات کہنا چاہیں اور و ہ ہمارے سامنے موجود نہ ہو تو اپنی بات اور گفتگو اُسے لکھ بھیجنا مکتوب نگاری کہلائے گا۔ مولوی عبدالحق لکھتے ہیں
خط دلی خیالات و جذبات کا روزنامچہ اور اسرارِ حیات کا صحیفہ ہے۔
مکتوب نگاری ادب کی قدیم صنف ہے مگر یہ ادبی شان اور مقام و مرتبہ کی حامل کب ہوتی ہے۔ اس بارے میں ڈاکٹر سید عبداللہ کا خیال ہے ۔
خطوط نگاری خود ادب نہیں مگر جب اس کو خاص ماحول خاص مزاج، خاص استعداد ایک خاص گھڑی اور خاص ساعت میسر آجائے تو یہ ادب بن سکتی ہے۔
جہاں تک اردو کا تعلق ہے۔ تو اس میں بھی خطوط نویسی کا دامن بہت وسیع ہے ۔ اور خطوط نویسی کی روایت اتنی توانا ہے کہ بذات خود ایک صنف ادب کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ جس کی سب سے بڑی مثال غالب کے خطوط ہیں۔ ابوالکلام آزاد بھی مکتوب نگاری میں ایک طرز خاص کے موجد ہیں۔مولانا کے خطوط کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ” مکاتیب ابولکلام آزاد “، ”نقش آزاد“، ”تبرکات آزاد“، ”کاروانِ خیال“اور غبار خاطر قابل ذکر ہیں۔ لیکن ان میں سب سے زیادہ شہرت ”غبار خاطر “ کے حصے میں آئی ۔
غبار خاطر:۔
غبار خاطر مولانا آزاد کے ان خطوط کا مجموعہ ہے جو قلعہ احمد نگر میں زمانہ اسیری میں لکھے گئے ۔ مولانا کی زندگی کا بڑا حصہ قید و بند میں گزرا مگر اس بار قلعہ احمد نگر کی اسیری ہر بار سے سخت تھی کیونکہ اس بار نہ کسی سے ملاقات کی اجازت تھی اور نہ کسی سے خط و کتابت کرنے کی۔ اس لئے مولانا نے دل کا غبار نکالنے کا ایک راستہ ڈھونڈنکالا۔اور خطوط لکھ کر اپنے پاس محفوظ کرنا شروع کر دیے۔ مولانا نے خود اسی مناسبت سے ان خطوط کو غبار خاطر کا نام دیا ہے اور ”خط غبار من است این غبار خاطر“ سے اسے تعبیر کیا ہے۔ایک خط میں شیروانی صاحب کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں
جانتا ہوں کہ میری صدائیں آپ تک نہیں پہنچ سکیں گی۔ تاہم طبع ِ نالہ سنج کو کیا کروں کہ فریاد و شیون کے بغیر رہ نہیں سکتی ۔ آپ سن رہے ہوں یا نہ رہے ہوں میری ذوق مخاطبت کے لئے یہ خیال بس کرتا ہے کہ روئے سخن آپ کی طرف ہے۔

ہفتہ, مئی 09, 2009

محمود نظامی (نظر نامہ)۔

محمود نظامی کا ”نظر نامہ“ بیسویں صدی میں سفر نامے کے اس موڑ کی نشاندہی کر تا ہے جہاں قدیم روایتی انداز سے صرف ِنظر کرکے فنی طور پر سفر نامے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ۔ڈاکٹر انور سدید نے جدید سفر نامے کی تعریف یوں کی ہے
سفر نامے کا شمار ادب کے بیانیہ اصناف میں ہوتا ہے اس صنف میں مشاہدے کا عمل دخل زیادہ اور تخلیق کا عنصر بے حد کم ہے سفر نامہ چونکہ چشم دید واقعات و حالات کا بیانیہ ہوتا ہے اس لئے سفر اس کی اساسی شرط ہے۔
نظر نامہ کے بارے میں مولانا صلاح الدین فرماتے ہیں
کہنے کو تو یہ سفر نامہ ہے لیکن اصل میں یہ ان چند نادر تاثرات کا مجموعہ ہے جو صاحب مضمون نے اپنی عمر کے مختلف حصوں میں اپنے وطن سے دور دیار ِ فرنگ کی جلوتوں اور خلوتوں میں قبول کئے ۔
یہ سفر نامہ فنی اعتبار سے کیسا ہے ؟ اس کا ادبی معیار کیا ہے؟ کن خوبیوں سے متصف اور کن خامیوں کا مرتکب ہوا ہے ؟ مصنف نے ان مباحث میں پڑنے کی بجائے اُسے ”نظر نامہ“ کا نام دے دیا ۔ اور نہایت صاف گوئی سے یہ بھی کہہ دیا۔
سیاحت میرا مستقل مشغلہ ہے نہ کہ سفر نامہ لکھنا میرا مقصدِ حیات یہ تو ایک اتفاق تھا کہ اکتوبر 1952 ءمیں مجھ کو زندگی کا بیشتر حصہ گھر کی چاردیواری میں بسر کر چکنے کے بعد باہر نکلنے کا موقع ہاتھ آگیا۔
مصنف کے اس اعتراف کے باوجود جب ہم برصغیر کے سفر ناموں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ نظر نامہ اردو ادب کا پہلا باقاعدہ سفر نامہ ہے جو جدید دور کے تقاضوں پر پور ا اترتا ہے۔بیسویں صدی کے نصف اول میں جو سفر نامے لکھے گئے ہیں ان میں سر عبدالقادر کے سفر نامے ”مقام خلافت“ کوقدیم اور جدید سفر ناموں کی درمیانی کڑی کہا جاتا رہا ہے لیکن سفر نامہ نگاری کا تیسرا دور جو 1950ءکے بعد شروع ہوا اس دور کا پہلا باقاعدہ سفر نامہ بلاشبہ محمود نظامی کا ”نظر نامہ ‘ ‘ ہے۔
نظر نامہ محمود نظامی کے عالیٰ ذوق اور ادیبانہ اسلوب کی عکاسی کرتا ہے وہ کوئی باقاعد ہ ادیب نہ تھے اور نہ نظر نامہ سے پہلے ان کی کوئی ادبی کاوش منظر عام پر آئی تھی ۔ وہ ریڈیوپاکستان کے ملازم تھے اور اپنے فرائض منصبی کے سلسلے میں اکتوبر 1952ءکو یونیسکو کے زیر اہتمام دوسرے ملکوں کی نشرگاہوں کا جائزہ لینے کے لئے ملک سے باہر جانے کا موقع ملا چونکہ وہ ادب کا عمدہ ذوق رکھتے تھے اس لئے اس سفر سے واپسی پر انہوں نے اس کی روداد لکھ کر ہر خاص و عا م کی داد حاصل کی۔ نظامی کا اصل نام مرزا محمود بیگ تھا وہ زمانہ طالب علمی ہی سے خواجہ حسن نظامی سے بہت متاثر تھے ایک دفعہ اپنے والد کے ساتھ خواجہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو خواجہ اپنے نوجوان عقیدت مند کی ذہانت اور صلاحیت سے بہت خوش ہوئے اور ازرائے شفقت انہیں اپنی کتابیں دیں اور کہا
کہ”صاحبزادے آج سے تم نظامی ہو۔“ محمود بیگ نے اس نسبت کو بڑی خوشی اور فخر سے قبول کیا اور مرزا محمود بیگ کے بجائے محمود نظامی کہلانے لگے۔آئیے نظر نامہ کاجائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں وہ کون سی خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے اس سفر نامے کو اردو ادب کا پہلاباقاعدہ سفر نامہ مانا جاتا ہے۔

بدھ, اپریل 29, 2009

ابن انشاء’’اردو کی آخری کتاب‘‘۔

اردو ادب میں مزاحیہ اور طنزیہ ادب لکھنے والوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ صرف نام گنوانے کے لئے ہی کئی صفحات چاہئیں۔ اس فہرست میں ایک چمکتا ہوا نام ”ابن انشاء“ کا ہے ابن انشاءادب مزاح کی گراں قدر مالا کا وہ خوبصورت موتی ہے۔ جو موزنیت اور مناسبت کے لحاظ سے ہر رنگ میں اپنا جواب آپ ہیں ۔ اس نگینے سے نکلنے والی چمک خواہ شاعری میں ہو ، خواہ نثر میں ہر جگہ منفرد اور نمایاں ہے۔بقول محمد اختر صاحب
ابن انشاءایک قدرتی مزاح نگار ہے جتنا زیادہ وہ لکھتا ہے اس کا اسلوب نکھرتا جاتا ہے۔
دور جدید کے عظیم مزاح نگار ”مشتاق احمد یوسفی “ ابن انشاءکے بارے میں لکھتے ہیں
بچھو کا کاٹا روتا ہے اور سانپ کا کاٹا سوتا ہے انشاءجی کا کاٹا سوتے میں مسکراتا بھی ہے۔
ابن انشاءاردو ادب میں ایک رومانی شاعر، ایک حساس کالم نویس، سفرنامہ نگاراور طنز و مزاح کے حوالے سے منفرد حیثیت رکھتے ہیں ۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ خود فنکار ادب میں ایک سے زائد اصناف میں کام کرتے ہیں تو اُن کی تخلیقی قوت منتشر ہو جاتی ہے لیکن ابن انشاءکا کمال یہ ہے کہ انھوں نے ہر صنف ادب میںاپنا لوہا منوایا ہے اگرچہ اپنے اظہار کے لئے انہوں نے کئی میدانوں کا انتخاب کیا ۔اور یہی وجہ ہے کہ ان کا دل شاعر ہے اور دماغ بہترین نثرنگار ۔اُن کے سفرنامے ”چلتے ہو تو چین کو چلیے ،”دنیا گو ل ہے“، ”آوارہ گرد کی ڈائری“ ، ”ابن بطوطہ کے تعاقب میں “ ، طنزیہ اور مزاحیہ اسلوب کے حامل ہیں ۔ لیکن ان دو کتابوں کومکمل طور پر مزاح کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں ۔ ایک ”اردو کی آخری کتا ب“ اور دوسری ”خمار گندم“ ۔آئیے اُن کی کتاب ”اردو کی آخری کتاب “ کا جائزہ لیتے ہیں۔

جمعہ, اپریل 24, 2009

بیگم اختر ریاض الدین” سات سمندر پار“

محمود نظامی نے نئے سفر نامے کے لئے جو راہیں کھولیں ان پر سب سے پہلے بیگم اختر ریاض الدین نے قدم رکھا ۔ اردو ادب میں خواتین لکھاریوں کی شروع ہی سے کمی رہی ہے۔ سفر نامے میں یہ تعداد قلیل ہے۔ نازلی رفیہ سلطانہ بیگم کا سفر نامہ”سیر یورپ“ اوررفیہ فیضی ” کا زمانہ تحصیل “ ایسے ابتدائی سفر نامے ہیں جو ان خطوط پر مشتمل ہیں جو انھوں نے سفر کے دوران اپنے عزیزوں کو لکھے ۔ چنانچہ ان سفر ناموں کو سفرنامنے کی ایک تکنیک تو کہا جا سکتا ہے لیکن مکمل سفر نامے نہیں کھلائے جا سکتے ۔ ایسی قلت کے دور میں بیگم اختر ریاض الدین کا سفر نامہ” سات سمندر پار “ تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔
بیگم صاحبہ 15 اکتوبر 1928کو کلکتہ میں پیداہوئی ۔ لاہور سے بی ۔ اے کیا ۔ اور 1951ءمیں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ عملی زندگی میں انہوں نے تدریسی شعبے کا انتخاب کیا وہ انگریزی روزنامچہ ”پاکستان ٹائمز “ کی باقاعدہ لکھاری رہی ہیں۔ لیکن مولانا صلاح الدین کے بے حد اصرار پر اردو میں بھی طبع آزمائی کی جو بے حد کامیاب ثابت ہوئی۔ مولانا کی فرمائش اور اصرار پر ہی انہوں نے 1963ءمیں ”ٹوکیو“، ”ماسکو“، ” لینن گراڈ“ ، ”قاہرہ“ ، ” نیپلز“ ، ”لندن“ اور ”نیویارک“ کے سفر پر مبنی پہلا سفر نامہ ، ”سات سمندر پار“ کے نا م سے لکھا ۔ ان کا دوسرا سفر نامہ ”دھنک پر قدم “ ہے جسے آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
بیگم صاحبہ کا شمار ان گنے چنے سفرنامہ نگاروں میں ہوتا ہے جنہیں فطرت کے حسن کوکاغذ پر اتارنے کا فن آتا ہے ۔ ان کے سفر ناموں مےں نشونما، رنگینی ، اور لطافت کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ آئیے ”سات سمندر پار“ کے حوالے سے اُن کے کام کا جائزہ لیتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...