اقبالیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اقبالیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر, مئی 09, 2011

اقبال کی نظم ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں ‘‘ کا فنی و فکری تجزیہ

 یہ نظم اقبال نے اپنی والدماجدہ کی وفات پر ان کی یاد میں لکھی ۔ اسے مرثیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اولین شکل میں اس کے گیارہ بنداور 89 اشعار تھے ۔ ”بانگ درا“کی میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں تبدیلی کی اور موجودہ شکل میں نظم کل تیرہ بندوں اور چھیاسی اشعار پر مشتمل ہے۔
 علامہ اقبال کی والدہ ماجدہ کانام امام بی بی تھا۔ وہ ایک نیک دل ، متقی اور سمجھ دار خاتون تھیں۔ گھر میں انہیں بے جی کہا جاتا تھا۔ وہ بالکل اَ ن پڑھ تھیں مگر ان کی معاملہ فہی ، ملنساری اور حسنِ سلوک کے باعث پورا محلہ ان کا گروید ہ تھا۔ اکثر عورتیں ان کے پاس اپنے زیورات بطور امانت رکھواتیں۔ برادری میں کوئی جھگڑا ہوتا تو بے جی کو سب لوگ منصف ٹھہراتے اور وہ خوش اسلوبی سے کوئی فیصلہ کر دیتیں ۔ اقبال کو اپنی والدہ سے شدید لگائو تھا۔ والدہ بھی اقبال کو بہت چاہتی تھیں زیر نظر مرثیے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اقبال یورپ گئے تو والدہ ماجدہ ان کی بخیریت واپسی کے لئے دعائیں مانگتیں اور ان کے خط کی ہمیشہ منتظر رہتیں۔ ان کا انتقال اٹھتر سال کی عمر میں 9 نومبر 1914ءکو سیالکوٹ میں ہوا۔ والدہ مرحومہ کی وفات پر اقبال کو سخت صدمہ ہوا۔ اور وہ مہینوں دل گرفتہ رہے ۔ اور انہوں نے اپنی ماں کی یاد میں یہ یادگار نظم لکھی۔
فکری جائزہ:۔
 نظم یا ( مرثیے )کا اصل موضوع والدہ ماجدہ کی وفات حسرت آیات پر فطری رنج و غم کا اظہار ہے ۔ اس اظہار کے دو پہلو ہیں،
١)فلسفہ  حیات و ممات اور جبر و قدر            ٢) والدہ مرحومہ سے وابستہ یادیں اور ان کی وفات کا ردعمل
 پہلے موضوع کا تعلق فکر سے ہے اور دوسرے کا جذبات و احساسات سے ”والدہ مرحومہ کی یاد میں “ اردو میں اقبال کی شاید واحد نظم ہے جس میں وہ پڑھنے والے کو فکراور جذبہ دونوں کے دام میں اسیر نظر آتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...