ہفتہ, مئی 14, 2011

ارسطو (بوطیقا)۔

ارسطو
 قدما یونان کا دور ایک زرخیز دور تھا اس دور میں ایسے ایسے فلسفی اور نکتہ دان پیدا ہوئے جنہوں نے مختلف علوم و فنون کو ایسا خزانہ دیا کہ جس پر یونان والے بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں ۔ شاعری ادب اور ڈرامے پر خاص طور عمدہ تنقید دیکھنے میں آئی ہے۔ اس دور کے نظریات میں سے بہت سے ایسے ہیں جو آج سے دو ڈھائی ہزار برس گزرنے کے باوجود بھی قابل توجہ سمجھے جاتے ہیں۔ خاص کر افلاطو ن اور ارسطو ، ایک نقاد کا کہنا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ دو ڈھائی ہزار سال گزرنے جانے کے باوجود افلاطون ، ارسطو ، ہیوریس ، لان جائی نس پر وقت کی گرد نہیں جمنے پائی۔ ان کی نگارشات کے مطالعے کے بغیر ادبی تنقید کا مطالعہ تشنہ رہ جاتا ہے۔ اور تنقید کے بعض بنیادی اور اہم مسائل پر غور و فکر کی بصیرت پیدا نہیں ہوتی۔
  ارسطو کا زمانہ افلاطون کے فوراً بعد کا زمانہ ہے وہ افلاطون کا شاگرد تھا لیکن شاعری اور ڈرامے کے بارے میں اس سے مختلف رائے رکھتا تھا۔ اس نے افلاطون کا نام لئے بغیر اس کے اعتراضوں کے جواب دیے ہیں خیال ہے کہ اس نے کئی مختصر کتابیں لکھیں جن میں سے ”فن خطابت “ ”RHETORIES“ اور فن شاعری یا ”بوطیقا“” ُPOETICS“ ہم تک پہنچی باقی انقلابات زمانہ کی نذر ہوگئیں ۔

بدھ, مئی 11, 2011

تنقید

تنقید کیاہے
 تنقید عربی کا لفظ ہے جو نقد سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی ” کھرے اور کھوٹے کو پرکھنا “ ہے۔ اصطلاح میں اس کامطلب کسی ادیب یا شاعر کے فن پارے کے حسن و قبح کا احاطہ کرتے ہوئے اس کا مقام و مرتبہ متعین کرنا ہے۔ خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کر کے یہ ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے کہ شاعر یا ادیب نے موضوع کے لحاظ سے اپنی تخلیقی کاوش کے ساتھ کس حد تک انصاف کیا ہے مختصراً فن تنقید وہ فن ہے جس میں کسی فنکار کے تخلیق کردہ ادب پارے پر اصول و ضوابط و قواعد اور حق و انصاف سے بے لاگ تبصرہ کرتے ہوئے فیصلہ صادر کیا جاتا ہے اور حق و باطل ، صحیح و غلط اور اچھے اور برے کے مابین ذاتی نظریات و اعتقادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فرق واضح کیا جاتا ہے۔ اس پرکھ تول کی بدولت قارئین میں ذوق سلیم پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔انگریزی میں Criticismکہتے ہیں۔ اس کا ماخذ یونانی لفظ Krinien ہے۔ویسے مختلف نقادوں نے اس کی مختلف تعریف و توصیحات کی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں
 ١۔ کسی ادب پارے میں فن پارے کے خصائص اور ان کی نوعیت کا تعین کرنا نیز کسی نقاد کے عمل یا منصب یا وظیفہ ۔
  ٢۔تنقید کامل علم و بصیرت کے ساتھ اور موزوں اور مناسب طریقے سے کسی ادب پارے یا فن پارے کے محاسن و معائب کی قدر شناسی یا اس بارے میں فیصلہ صادر کرنا ہے۔
 ٣۔ تنقید اس عمل یا ذہنی حرکت کا نام ہے جو کسی شے یا ادب پارے کے بارے میں ان خصوصیات کا امتیاز کرے جو قیمت رکھتی ہے۔ بخلاف ان کے جن میں قیمت نہیں۔
 ٤۔ محدود معنوں میں تنقید کا مطلب کسی ادب پارے کی خوبیوں اور خامیوں کا مطالعہ ہے وسیع تر معنوں میں اس میں تنقید کے اصول قائم کرنا اور ان اصولوں کو تنقید کے لئے استعما ل کرنا بھی شامل ہے۔
٥۔تنقید کا کام کسی مصنف کے کام کاتجزیہ ، اس کی مدلل توضیح کے بعد اس کی جمالیاتی قدروں کے بارے میں فیصلہ صادر کرناہے۔
 ٧۔ سچی تنقید کا فرض ہے کہ وہ زمانہ قدیم کے عظیم فن کاروں کی بالترتیب درجہ بندی اور رتبہ شناسی کرے اور زمانہ جدید کی تخلیقات کا بھی امتحان کرے۔ بلند تر نوع تنقید یہ بھی ہے کہ نقاد کے انداز و اسلوب کا تجزیہ کرے اور ان  وسائل کی چھان بین کرے جن کی مدد سے شاعر اپنے ادراک و کشف کو اپنے قارئین تک پہنچاتا ہے۔٩۔ تنقید ،فکر کا وہ شعبہ ہے جو یا تو یہ دریافت کرتا ہے کہ شاعری کیا ہے؟ اس کے مناصب و وظائف اور فوائد کیا ہیں؟ یہ کن خواہشات کو تسکین پہنچاتی ہے؟ شاعر شاعر ی کیوں کرتاہے؟ اور لوگ اسے کیو ں پڑھتے ہیں؟ یا پھر یہ  اندازہ لگاتا ہے کہ کوئی شاعری یا نظم اچھی ہے یا بری۔

پیر, مئی 09, 2011

اقبال کی نظم ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں ‘‘ کا فنی و فکری تجزیہ

 یہ نظم اقبال نے اپنی والدماجدہ کی وفات پر ان کی یاد میں لکھی ۔ اسے مرثیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اولین شکل میں اس کے گیارہ بنداور 89 اشعار تھے ۔ ”بانگ درا“کی میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں تبدیلی کی اور موجودہ شکل میں نظم کل تیرہ بندوں اور چھیاسی اشعار پر مشتمل ہے۔
 علامہ اقبال کی والدہ ماجدہ کانام امام بی بی تھا۔ وہ ایک نیک دل ، متقی اور سمجھ دار خاتون تھیں۔ گھر میں انہیں بے جی کہا جاتا تھا۔ وہ بالکل اَ ن پڑھ تھیں مگر ان کی معاملہ فہی ، ملنساری اور حسنِ سلوک کے باعث پورا محلہ ان کا گروید ہ تھا۔ اکثر عورتیں ان کے پاس اپنے زیورات بطور امانت رکھواتیں۔ برادری میں کوئی جھگڑا ہوتا تو بے جی کو سب لوگ منصف ٹھہراتے اور وہ خوش اسلوبی سے کوئی فیصلہ کر دیتیں ۔ اقبال کو اپنی والدہ سے شدید لگائو تھا۔ والدہ بھی اقبال کو بہت چاہتی تھیں زیر نظر مرثیے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اقبال یورپ گئے تو والدہ ماجدہ ان کی بخیریت واپسی کے لئے دعائیں مانگتیں اور ان کے خط کی ہمیشہ منتظر رہتیں۔ ان کا انتقال اٹھتر سال کی عمر میں 9 نومبر 1914ءکو سیالکوٹ میں ہوا۔ والدہ مرحومہ کی وفات پر اقبال کو سخت صدمہ ہوا۔ اور وہ مہینوں دل گرفتہ رہے ۔ اور انہوں نے اپنی ماں کی یاد میں یہ یادگار نظم لکھی۔
فکری جائزہ:۔
 نظم یا ( مرثیے )کا اصل موضوع والدہ ماجدہ کی وفات حسرت آیات پر فطری رنج و غم کا اظہار ہے ۔ اس اظہار کے دو پہلو ہیں،
١)فلسفہ  حیات و ممات اور جبر و قدر            ٢) والدہ مرحومہ سے وابستہ یادیں اور ان کی وفات کا ردعمل
 پہلے موضوع کا تعلق فکر سے ہے اور دوسرے کا جذبات و احساسات سے ”والدہ مرحومہ کی یاد میں “ اردو میں اقبال کی شاید واحد نظم ہے جس میں وہ پڑھنے والے کو فکراور جذبہ دونوں کے دام میں اسیر نظر آتے ہیں۔

اتوار, مئی 08, 2011

غلام محمد قاصر کی ایک غزل


نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے

جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی
اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے

خوشی اُسی کی ہمیشہ نظر میں رہتی تھی
اور اپنی قوتِ غم بھی بحال رکھتے تھے

بس اشتیاقِ تکلم میں بارہا ہم لوگ
جواب دل میں زبان پر سوال رکھتے تھے

اسی سے کرتے تھے ہم روز و شب کا اندازہ
زمیں پہ رہ کو سورج کی چال رکھتے تھے

جنوں کا جام محبت کی مے ، خرد کا خمار
ہمیں تھے وہ جو یہ سارے کمال رکھتے تھے

چھپا کے اپنی سسکتی سُلگتی سوچوں سے
محبتوں کے عروج و زوال رکھتے تھے

کچھ ان کا حسن بھی ماورا مثالوں سے
کچھ اپنا عشق بھی ہم بے مثال رکھتے تھے

خطا نہیں جو کھلے پھول راہِ صرصر میں
یہ جُرم ہے کہ وہ فکرِ مآل رکھتے تھے

ہفتہ, فروری 27, 2010

البم ۔ فارغ بخاری

خاکہ نگاری کسی انسان کے بارے ایک ایسی تحریر ہوتی ہے جس میں ایک شخصیت کے گفتار و کردار کا اس انداز سے مطالعہ کیا جاتا ہے کہ وہ شخص ایک زندہ آدمی کی طرح تخیل کے سہارے متحرک ہو کر چلتی پھرتی روتی ہنستی اور اچھے برے کام کرتا نظرآئے ۔جتنے جانداز اور بھر پور انداز سے شخصیت ابھر ے گی اتنا ہی خاکہ کامیاب نظرآئے گا۔خاکہ نگاری ایک بہت مشکل صنف ادب ہے۔ ڈاکٹر احسن فاروقی خاکہ نگاری کو بال سے باریک ، تلوار سے تیز صراط مستقیم کا نام دیتے ہیں اور محمد طفیل اسے ایک ایسی تلوار سمجھتے ہیں جس خود لکھنے والا بھی زخمی ہوتا ہے۔“
اردو ادب میں خاکہ نگاری زیادہ قدیم نہیں لیکن اس کی ابتدائی شکل مختلف تذکروں اور بالخصوص محمد حسین آزاد کی کتاب ” آب حیات“ میں نظرآتی ہے۔ اس کے بعد ایک بھر پور خاکہ” نذیر احمد کی کہانی“ فرحت اللہ بیگ کا کارنامہ ہے۔ لیکن اتنی عمدہ ابتداءہونے کے باوجود آج خاکہ نگاری کی وہ شکل نظر نہیں آتی ۔ جو جیتے جاگتے انسان کو ہمارے سامنے لا سکے۔اس لئے اردو ادب میں خاکہ نگاری ایک ایسی صنف ہے جس میں بہت زیادہ کام کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس صنف ادب میں اس کمی کی وجہ صرف یہ ہے کہ خاکہ نگار شخصیت کا نہ تو تفصیلی مطالعہ کرتا ہے اور نہ ہی مبالغہ آمیز واقعات سے گریز کرتا ہے۔ اس شخصیت کی خلوت اور جلوت کی مثالیں بھی بہت کم ملتی ہے۔ بلکہ شخصیت اُس طرح پیش ہوتی ہے جس طرح خاکہ نگار چاہتا ہے۔ اور اس طرح شخصیت کے خدوخال نمایاں نہیں ہو پاتے اور خاکہ تشنہ رہ جاتا ہے۔
فارغ بخاری خاکہ نگاری پر طبع آزمائی کرنے والوں میں سے صوبہ سرحد کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں۔ فارغ بخاری کا اصل نام پیر احمد شاہ بخاری تھا وہ پشاور کی ادبی حلقوں کی فعال شخصیت تھے اور ”سنگ میل“ جیسے ادب رسالہ کے ایڈیٹر بھی تھے۔ اُن کے ادبی کارنامے اور ترقی پسند تحریک سے وابستگی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فارغ بخاری کا مزاج خاکہ نگاری کے لئے زیادہ موزوں نہیں اس کے باوجو البم کے کئی خاکے قابل تعریف ہیں۔ ان کی عمدگی کا یہ ثبوت ہے کہ خاکہ نگاری کی تاریخ میں انہیں نظرانداز کرنا ممکن نہیں ۔ اُن خاکوں کی بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے بڑے لوگوں کی عظمت کا اعتراف کھلے دل سے کیا ہے اوریہ خود ان کی عظمت کی دلیل ہے۔ خاکہ نگاری کے سلسلے میں اُن کی دوکتابیں البم(1973اور دوسراالبم1986کے عنوان سے شائع ہوئیں۔
البم:۔
”البم “کے زیادہ تر خاکے کرداری ہیں۔ یہ 21 خاکوں پر مشتمل ایک مختصر کتاب ہے جسے ہم خاکہ نگاری کے ساتھ ساتھ تاثراتی رپورٹ کے زمرے میں بھی رکھ سکتے ہیں۔البم کے خاکوں کا انداز کچھ ایسا ہے جسے اُدھیڑ عمر شخص اپنا پرانا البم کھولے اور ایک ایک دوست کو دیکھ کر پرانی یادیں تازہ کرے ۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ہر شخصیت کے لئے ایک نام رکھ چھوڑا ہے جو اسم بامسمٰی ہے۔ اس طرح نام کوہی دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فار غ بخاری شخصیت کے کس پہلو کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں ۔ اُن کے خاکوں کا اسلوب رواں دواں ہے ۔ اگرچہ بعض الفاظ کی تکرار اور بعض مستقل جملے ہر خاکے میں موجود ہیں۔ اس کے باوجود اسلوب کی چاشنی اپنی جگہ موجود ہے۔ کچھ خاکوں میں فارغ بخاری کا فن نہایت نکھر کرسامنے آیا ہے۔ لیکن یہ وہی خاکے ہیں جن میں پیش کردہ شخصیت کو انہوں نے قریب سے دیکھا ہے۔ ورنہ تو اُن کے ہاں جلوت کی مثالیں زیادہ اور خلوت کی کم ملتی ہیں۔ زیتون بانو، خاطر غزنوی ، احمد فراز اور رضا ہمدانی کے خاکے اس زمرے میں آتے ہیں ۔ جہاں انہوں نے شخصیت کو خلوت اور جلوت میں پرکھا ہے۔ذیل میں البم کے چند مشہور خاکوں کا تنقیدی جائزہ پیش ہے۔

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...