![]() |
| ارسطو |
حیرت کی بات یہ ہے کہ دو ڈھائی ہزار سال گزرنے جانے کے باوجود افلاطون ، ارسطو ، ہیوریس ، لان جائی نس پر وقت کی گرد نہیں جمنے پائی۔ ان کی نگارشات کے مطالعے کے بغیر ادبی تنقید کا مطالعہ تشنہ رہ جاتا ہے۔ اور تنقید کے بعض بنیادی اور اہم مسائل پر غور و فکر کی بصیرت پیدا نہیں ہوتی۔
ارسطو کا زمانہ افلاطون کے فوراً بعد کا زمانہ ہے وہ افلاطون کا شاگرد تھا لیکن شاعری اور ڈرامے کے بارے میں اس سے مختلف رائے رکھتا تھا۔ اس نے افلاطون کا نام لئے بغیر اس کے اعتراضوں کے جواب دیے ہیں خیال ہے کہ اس نے کئی مختصر کتابیں لکھیں جن میں سے ”فن خطابت “ ”RHETORIES“ اور فن شاعری یا ”بوطیقا“” ُPOETICS“ ہم تک پہنچی باقی انقلابات زمانہ کی نذر ہوگئیں ۔
