ہفتہ, اپریل 26, 2014

امراؤ جان ادا ۔۔۔۔۔۔۔ مرزا ہادی رسواؔ

تحریر : فقیرا خان فقریؔ
امراؤ جان ادا مرزا محمد ہادی رسوا لکھنوی کا معرکۃ الآرا معاشرتی ناول ہے۔ جس میں انیسویں صدی کے لکھنو کی سماجی اور ثقافتی جھلکیاں بڑے دلکش انداز میں دکھلائی گئی ہیں۔ لکھنو اُس زمانے میں موسیقی اور علم و ادب کا گہوارہ تھا۔ رسوا نے اس خوب صورت محفل کی تصویریں بڑی مہارت اور خوش اسلوبی سے کھینچی ہیں۔ اس ناول کو ہمارے ادب میں ایک تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ ”شرر“ کے خیالی قصوں اور نذیر احمد کی اصلاح پسندی کے خلاف یہ ناول اردو ناو ل نگاری میں زندگی کی واقعیت اور فن کی حسن کاری کو جنم دیتاہے۔ آئیے ناول کا فنی اور فکری جائزہ لیتے ہیں۔
فنی جائزہ
کردار نگاری
فنی لحاظ سے ناول امراؤ جان ادا میں بہت زیادہ کردار ہیں۔ ناول کا مطالعہ کرتے ہوئے احسا س ہونے لگتا ہے کہ اس ناول میں قدم قدم پر نئے نئے کردار رونما ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کرداروں کے نام ان گنت ہو کر رہ گئے ہیں۔ اتنے زیادہ کردار شائد ہی اردو کے کسی ناول میں ہوں۔ لیکن اتنے زیادہ کردار ہونے کے باجود کرداروں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ہر لحاظ سے مکمل نبھاہ کیا گیاہے۔ رسوائکے ہاں اس ناول میں بڑا کردار ہویا چھوٹا کردار ، ناول نگار نے اسے اپنے تمام تر نفسیات و جذبات عادات و اطوار خاندانی پس منظر اور موجودہ حیثیت و عمر کے ساتھ پیش کر دیاہے۔
امراؤ جان ادا
ناول کا سب سے بڑا کردار امراؤ کا ہے ۔ اس کی اہمیت مسلم ہے۔ وہ قصے کی ہیروئن ہے۔ اس لئے پور ے قصے پر چھائی ہوئی ہے۔ بقول ڈاکٹر میمونہ انصاری:
”امراؤ جان ادا کا کردار اردو زبان میں اہم ترین کردار ہے۔ یہ پہلا سنجیدہ کردار ہے جو اپنی زندگی کا ضامن ہے۔ اب تک اس کردار کا ثانی کردار تخلیق نہیں ہوا۔“
امراؤ جا ن پیدائشی طوائف نہ تھی وہ شریف ذادی تھی اور شریف گھرانے میں پیدا ہوئی تھی ۔ دس برس تک شریف والدین کے زیرسایہ زندگی بسر کی ۔ پھر ایک منتقم مزاج شخص کے انتقام کی بھینٹ چڑھ کر اغوا ہوکر خانم کے کھوٹے پر پہنچی ۔ جہاں تعلیم و تربیت پا کر طوائف بنا دی گئی۔ شاعرہ تھی۔ ادب سے مس تھا۔ قبول صورت تھی ، رقص و سرور میں ماہر تھی۔ ان خوبیوں کی بنا پر مشہور ہوئی جہاں جاتی سر آنکھوں پر بٹھائی جاتی ۔امراؤ جان ادا کے کردار پر مراز رسوا نے بڑی محنت کی ہے۔ امراؤ کے کردار میں تدریجی تبدیلیاں دراصل اس کی فطرت کی شریفانہ جوہر کی پیداوار ہیں۔ یہ جو ہر اسے ورثہ میں ملاتھا۔اب اس کی زندگی میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب وہ چکلے کے گھناونے ماحول سے متنفر ہو چکی ہے اور اسے رنڈی بن کر جینا پسند نہیں۔ اس کردار کا یہ ارتقاءاس کی شخصیت و کردار میں عجیب مقناطیسی کشش پیدا کر دیتا ہے۔ اور قاری کی نظر میں مطعون اور مقہور ہونے کی بجائے رحم اور ہمدردی کی مستحق ٹھہر تی ہے۔ آخر ی عمر میں وہ سب کچھ ترک کر دیتی ہے۔ اور عام لوگوں سے بھی ملنے جلنے سے احتراز کرتی ہے۔ اور نماز روزے کی سختی سے پابندی کرنے لگتی ہے۔ آخر ی عمر میں کربلا معلی کی زیارت سے بھی فیض یا ب ہوئی۔ اس طرح اس کردار کی تشکیل میں رسوا نے گہرا نفسیاتی مطالعے سے کام لیا ہے۔

پیر, جنوری 27, 2014

مراۃ العروس : ڈپٹی نذیر احمد

پروفیسر افتخار احمد صدیقی نذیر احمد کی ناول نگاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ، ” نذیر احمد کے فن کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ناولوں میں مسلمانوں کی معاشرتی زندگی کی بالکل سچی تصویر کشی کی ہے۔ اور یہی خصوصیت ان کے نالوں کی دائمی قدرو قیمت کی ضامن ہے۔“
اردو زبان میں سب سے پہلے جس شخصیت نے باقاعدہ طور پر ناول نگاری کا آغاز کیا اس کا نام مولوی نذیر احمد ہے۔ ناقدین کی اکثریت نے مولوی صاحب کو اردو زبان کا پہلا ناول نویس تسلیم کیا ہے۔ کیونکہ ان کے ناول ، ناول نگاری کے فنی اور تکنےکی لوازمات پر پورے اترتے ہیں۔ اردو کا پہلا ناول مراۃ العروس 1869ء ہے۔ جو کہ مولوی نذیر احمد نے لکھا۔ اس کے بعد بناالنعش ، توبتہ النصوح، فسانہ مبتلا، ابن الوقت، رویائے صادقہ ، ایامی ٰ لکھے۔نذیر احمد نے یہ ناول انگریز ی اد ب سے متاثر ہو کر لکھے ۔لیکن ا ن کا ایک خاص مقصد بھی تھا۔ خصوصاً جب 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمان اپنا قومی وجود برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف تھی۔ نذیر احمد نے اپنے قصوں کے ذریعے سے جمہور کی معاشرتی اصلاحی اور نئی نسلوں ، خصوصاً طبقہ نسوا ں کی تعلیم و تربیت کا بیڑہ اٹھایا۔اُن کے ناولوں کا مقصد مسلمانان ہند کا اصلاح اور ان کو صحیح راستے پر ڈالنا تھا۔
لیکن اصلاح کے ساتھ ساتھ انھوں نے اردو ادب کو اپنے ناولوں کے ذریعے بہترین کرداروں سے نوازا۔ ان کے ہاں دہلی کی ٹکسالی زبان کی فراوانی ہے۔ لیکن ان پر ایک اعتراض یہ ہے کہ وہ اپنے ناولوں میں ناصح بن جاتے ہیں اور لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں۔ لیکن اُن کے سامنے ایک مقصد ہے اور و ہ مقصد فن سے زیادہ اُن کے ہاں اہم ہے۔
مراۃ العروس کا تنقیدی جائزہ
مراۃ العروس اردو زبان کا پہلا ناول ہے۔ جسے مولوی نذیر احمد نے تخلیق کیا۔ اگرچہ مراۃ العروس میں بہت سی خامیاں ہیں لیکن چونکہ اس سے پہلے اردو میں کوئی ناول نہیں لکھا گیا تھا جو نذیر احمد کے لئے ایک نمونہ کی حیثیت رکھتا ۔ پھر بھی ناقدین نے اسے ایک کامیاب ناو ل قرار دیتے ہیں۔ آئیے ناول کا فنی اور فکری جائزہ لیتے ہیں،
کردار نگاری
مولوی نذیر احمد کے اس ناول کی امتیازی خصوصیت کردار نگاری ہے۔ ویسے تو مراۃ العروس میں بہت سے نمایاں کردار ہیں لیکن چند ایک اہم کردار وں کے نام یہ ہیں۔ دور اندیش خان ، اکبری ، اصغری، خیراندیش خان ، اکبر اور اصغری کی ساس ، ماما عظمت ، محمد عاقل ، محمد کامل ، محمد فاضل ۔ سیٹھ ہزاری مل ، تماشا خانم ، حسن آرائ، جمال آراء، شاہ زمانی بیگم ، سلطانی بیگم ، سفہن ، جیمس صاحب ، کٹنی لیکن یہاں پر چند ایک جاندار اور جن کے گرد کہانی گھومتی ہے کاذکر تفصیل کے ساتھ کیا جاتاہے۔

جمعہ, جنوری 10, 2014

باغ و بہار ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرامن دہلی

بقول سید محمد ، ” میرامن نے باغ وبہار میں ایسی سحر کاری کی ہے کہ جب تک اردو زبان زندہ ہے مقبول رہے گی اور اس کی قدر و قیمت میں مرورِ ایام کے ساتھ کوئی کمی نہ ہوگی۔“
بقول سید وقار عظیم: داستانوں میں جو قبول عام ”باغ و بہار “ کے حصے میں آیا ہے وہ اردو کی کسی اور داستان کو نصیب نہیں ہوا۔“
باغ و بہار فورٹ ولیم کا لج کی دین ہے جو انگریزوں کو مقامی زبانوں سے آشنا کرنے کے لئے قائم کیا گیاتھا۔ میرامن نے باغ و بہار جان گل کرائسٹ کی فرمائش پر میر حسین عطا تحسینؔ کی نو طرز مرصع سے ترجمہ کی۔ اور اس طرح یہ داستان اردو نثر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے کہ اردو نثر میں پہلی مرتبہ سلیس اور آسان عبارت کا رواج ہوا جو اِسی داستان کی وجہ سے ممکن ہوا۔ آگے چل کر غالب کی نثر نے اس کمال تک پہنچا دیا۔ اس لئے تو مولوی عبدالحق کا کہنا ہے کہ اردو نثر کی ان چند کتابوں میں باغ و بہار کو شمار کیا جاتا ہے جو ہمیشہ زندہ رہنے والی ہیں اور شوق سے پڑھی جائیں گی۔
اسلوب
داستانوں میں جو قبو ل عام باغ و بہار کے حصے میں آیا ہے۔ وہ اردو کی کسی اور داستان کو نصیب نہیں ہوا ۔ عوام اور خواص دونوں میں یہ داستان آج بھی اتنی ہی مقبول ہے جتنی آج سے پونے دو سو برس پہلے تھی۔ اس کی غیر معمولی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اس کا دلکش اور دلنشین انداز بیان ہے۔ جو اسے اردو زبان میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔
”باغ و بہار کے مُصنّف میرامن دہلوی چونکہ فورٹ ولیم کالج سے متعلق تھے ، اس لئے اس کی تصانیف بھی کالج کے متعینہ مقاصد کے تحت لکھی گئیں اور ان میں وہ تقاضے بالخصوص پیشِ نظر رہے جن کی نشاندہی ڈاکٹر جان گل کرائسٹ نے کی تھی۔ فورٹ ولیم کالج کے لئے جتنی کتابیں تالیف ہوئیں ان میں لکھنے والوں نے سب سے زیادہ توجہ اس بات پر دی کی کتاب کی زبان سادہ اور سلیس ہو اور بو ل چال کی زبان اور روزمرہ محاورہ کا خیال رکھا جائے ۔ چونکہ اس سے مقصود انگریز نوواردوں کو مقامی زبان و بیان اور تہذیب و معاشرت سے آشنا کرنا تھا۔ اس لئے فورٹ ولیم کالج کے لکھے گئے قصوں میں زبان و بیان پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ باغ وبہار کی مِن جملہ دوسری خوبیوں کے زبان و بیان کے لحاظ سے بھی فورٹ وِلیم کالج کی دوسری کتابوں پر فوقیت حاصل ہے۔ باغ و بہار کی اس فوقیت کی پیش نظر کسی کا یہ قول بہت مشہور ہوا کہ میرامن کا اردو نثر میں وہی مرتبہ ہے جو میر کا غزل گوئی میں۔
دہلی کی زبان
باغ و بہار اپنے وقت کی نہایت فصیح اور سلیس زبان میں لکھی گئی ہے۔ میرامن دہلی کے رہنے والے ہیں اور اُن کی زبان ٹھیٹھ دہلی کی زبان ہے۔ میرامن صر ف دہلی کی زبا ن کو ہی مستند سمجھتے ہیں بلکہ اس کو انہوں نے ہزار رعنائیوں کے استعمال کیا ہے۔ باغ و بہار کے دیباچے میں میرامن نے اپنے تیئں دلی کا روڑا لکھا ہے۔ اور پشتوں سے دلی میں رہائش کرنے اور دلی کے انقلاب کو دیکھنے کے ناطے خود کو زبان کا شناسا بتایا ہے۔ اور اپنی زبان کو دلی کی مستند بولی کہا ہے۔ اردو کی پرانی کتابوں میں کوئی کتاب زبان کی فصاحت اور سلاست کے لحاظ سے باغ و بہار کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اگرچہ زبان میں کئی تبدیلیاں ہو چکی ہیں الفاظ و محاورات اور فقرات و تراکیب میں مختلف النوع تغیرات آگئے ہیں اس وقت کی زبان اور آج کی زبا ن میں بڑا فرق ہے لیکن باغ و بہار اب بھی اپنی دلچسپی برقرار رکھے ہوئے ہے یہ اعجاز دلکش میر امّن کے طرزِ بیان اور اسلوبِ تحریر کا حصہ ہے۔ میرامن ہر کیفیت اور واردات کا نقشہ ایسی خوبی کے ساتھ کھینچتا ہے اور ایسے موزوں الفاظ استعمال کرتا ہے کہ کمال انشاءپرداز ی کی داد دینا پڑتی ہے۔ نہ بے جا طول ہے نہ فضول لفاظی ہے۔

منگل, نومبر 26, 2013

فسانۂ آزاد

مولانا عبدالحلیم شرر پنڈت رتن ناتھ سرشار کو ایک خط میں لکھتے ہیں کہ:
” آپ نے ”فسانہ آزا د کیا لکھا زبان اردو کے حق میں مسیحائی کی ہے۔“
بیگم صالحہ عابد حسین ”فسانہ آزاد کے متعلق لکھتی ہیں،
”اردو زبان سمجھنے کے ليے ”فسانہ آزاد“ پڑھنا چاہیے۔“
فسانہ آزاد اودھ اخبار میں مسلسل ایک سال تک شائع ہوتا رہا۔ اور کافی مقبول ہوا ۔ قارئین اخبار ہر قسط کے ليے بے تاب رہتے ۔ اور شوق سے اسے پڑھتے ۔ اردو ادب میں دراصل یہ پہلا موقع تھا کہ کسی اخبار میں باقاعدہ طور پر ناول کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ لیکن آج تک یہ بات متنازعہ ہے کہ فسانہ آزاد کو کس صنف نثر میں شمار کیا جائے۔ اسے ناول کہا جائے یا داستان اس بارے میں ڈاکٹر انور سیدید لکھتے ہیں، ” فسانہ آزاد“ ناول کی تکنیک سے باہر کی چیز ہے۔ نہ پلاٹ ہے اور نہ واقعات ہیں۔ ربط اور تسلسل بھی نہیں ملتا ۔ بلکہ بعض واقعات تو ایسے ہیں کہ ان کا مرکز ی قصے سے کوئی تعلق نہیں اس ليے ان کے نکال دینے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔“ اب جبکہ یہ ناول بھی نہیں تو اس کا شمار کونسی صنف ِ ادب میں ہوتا ہے اس بارے میں پریم پال اشک لکھتے ہیں، ” دراصل ”فسانہ آزاد “ناول اور افسانے کی کڑی ہے جس کو ہم دوسر ے لفظوں میں صحافتی ناول Serial fictionبھی کہتے ہیں۔ پریم پال کے اس رائے سے بات واضح ہو جاتی ہے کہ فسانہ آزا د ایک صحافتی ناول ہے۔ اور جو مرتبہ اور مقام فسانہ آزاد کو حاصل ہوا وہ کسی اور صحافتی ناول کو نہ مل سکا
اسلوب
بقول ایک محقق ،
” فسانہ آزاد میں کردار بولتے ہیں انسا ن باتیں کرتے ہیں، خود سرشار نہیں۔ اس ليے ان کے اسلوب میں توانائی ، اوریجنیلیٹی اور اصلیت ہے۔“
تقلید
پروفیسر آل احمد سرور نے سرشار کی نثر کو فسانہ عجائب کی ترقی یافتہ صورت قرار دیا ہے۔ یعنی انھوں نے اپنی اس کتاب میں رجب علی بیگ سرور کی اسلوب کے حوالے سے تھوڑی بہت تقلید ضرور کی ہے۔ مثال کے طور پر ” دیکھتے کیا ہیں کہ ابر نور بہار ، نسیم مشکبار نے تما م شہر کو نمونہ ارم بنا دیا ہے۔“
اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں جن میں ہمیں سرور کے اسلوب کا رنگ ملتا ہے۔ اس ليے اس بارے میں پریم پال اشک لکھتے ہیں،
” فسانہ آزاد میں جہاں تقلیدی انداز ملتا ہے وہاں صاف اور صحیح طور پر منشی رجب علی بیگ سرور کی جھلک نظر آتی ہے۔“
لیکن ناول میں سرشار کا اپنا تخلیقی رنگ بھی نمایاں ہے۔ پریم پا ل اشک نے سرشار کے اسلوب کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے ایک تقلیدی انداز اور دوسرا تخلیقی ۔ تقلیدی انداز میں صریحاً رجب علی بیگ کے اسلوب اور زبان کی جھلک نظرآتی ہے۔ اور سرور کی سی مسجع اور مقفٰی عبارت ملتی ہے۔ مگر سرشار ایسا اسلوب صرف منظر نگاری کے وقت اختیار کرتے ہیں۔ اس کے علاو ہ انھوں نے ناول میں اپنا انفرادی اسلوب برتا ہے جو کہ اُن کا اپنا تخلیقی رنگ ہے۔
بیگماتی زبان
پنڈت رتن ناتھ سرشار نے فسانہ آزاد میں خاکروب سے لے کر نواب تک اور کنجڑوں سے لے کر بیگم تک ہر طبقے کی زبان استعمال کی ہے۔ اور یہ لطف یہ کہ ہر طبقہ اور پیشے کے مطابق بو ل چال کا انداز برتا ہے۔محققین کی تحقیق کے مطابق سرشار نے بیگماتی زبان بچپن سے اپنے پڑوس میں رہنے والی مسلمان مستورات سے سیکھی تھی ۔ یہی وہ درسگاہ تھی جہاں اسے انہیں زبان ورثے میں ملی۔ اور انہوں نے اپنے سینے میں سال ہا سال چھپائے رکھا اور آخر اتنے سالوں کے بعد اسے فسانہ آزاد کی شکل میں پیش کردیا۔

ہفتہ, اکتوبر 19, 2013

خیبر پختونخواہ کا افسانہ

اردو ادب کی پرچھائیاں برصغیر پاک وہند کے دوسرے علاقوں کی نسبت پختون خواہ  میں ذرا دیر سے پڑیں ۔ اس کی وجوہات میں یقینا مقامی زبانوں پر توجہ ، پس ماندگی اور تعلیم کی کمی شامل ہے۔ تعلیم کی ترقی کے ساتھ ہی یہاں اردو زبان کی ترقی کی طرف توجہ شروع ہو گئی۔ 1903ءمیں بزم سخن کی نبیادرکھنے1913ءمیں اسلامیہ کالج کے آغاز اور دوسری علمی ، ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کے باعث یہاں کے اہل علم و ادب اردو کی طرف رجوع کرنے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ارد و کی ادبی نثر کاآغاز 1900کے بعد ہوتا ہے۔ اس سے پہلے یہاں اردو کی ادبی نثر کا سراغ نہیں ملتا۔ 1900ءسے پہلے کے نثر ی نمونوں میں پیرروخان کی کتاب ”خیرالبیان “ کے کچھ حصے یہاں کے اخبارات ، کابل کی ڈائری، تاریخ ِ ہزارہ و تاریخِ ڈی آئی خان اور تاریخ چترال شامل ہیں ۔ لیکن اس میں اردو ادب یا اردو کی ادبی نثر کا سلسلہ مفقود ہے۔ لہذایہ بات وثو ق سے کہی جاسکتی ہے کہ ارد و کی ادبی نثر کا آغاز 1900ءکے بعد ہی ہوتا ہے۔
اردو کی ادبی نثر کےساتھ جو معاملہ رہا وہی معاملہ تقریباً اردو افسانے کے ساتھ بھی رہا۔ اس لیے یہاں افسانے کاآغازبھی ذرا بعد میں ہوا۔ اور 1947ءتک افسانہ کا کوئی بڑ ا نام سامنے نہ آسکا۔ 1947ءتک کا سرحد کاافسانہ کوئی مضبوط حوالہ نہیں رکھتا ۔ یہاں افسانہ نگاری کا آغاز 1914ءمیں ہوتا ہے۔ اور بقول فارغ بخاری اس کے آغاز کا سہرا ”نصیر الدین نصیر“ کے سر ہے۔ انہوں نے 1914ءمیں افسانہ لکھنا شروع کیا۔ اور ٠٣٩١ءتک افسانہ لکھتے رہے۔ ان کے افسانے مقصدی اور اصلاحی موضوعات پر مبنی ہیں۔ انداز تحریر صا ف اور سادہ ہے۔ افسانوں میں وعظ و نصیحت کارنگ نمایاں ہے۔ فنی لحاظ سے افسانوں میں خامیاں موجود ہیں ۔ ان کے افسانوں کا کوئی بھی مجموعہ شائع نہ ہو سکا البتہ انے افسانے ”نیرنگ خیال “ ، ”سرحد “ اور ”عالمگیر “ میں چھپتے رہے۔ جن میں ”جوالا مکھی“ ، ” سہاگن“ اور ”مولوی صاحب “ ، شہرت سے ہمکنار ہوئے ۔
صوبہ خیبر پختونخواہ میں افسانہ کاآغاز کرنے کے باعث نصیر الدین نصیر کا نام اہم ضرور ہے۔ مگر مجموعی طور پر وہ افسانہ کا کوئی بڑا نام نہیں ہے۔ افسانہ کے ابتدائی دور میں ایک نام عنایت علی شاہ کا بھی ملتا ہے۔ جن کا افسانہ ”ایک شاعر اور اس کا خواب“ ، ہائف پشاور جولائی 1925ءمیں شائع ہوا۔ جو رومانی فکر سے وابستہ ہے۔ کہانی کی نبیاد زیادہ تر روایتی واقعات اور غیر فطری عناصر پر رکھی گئی ہے۔ ا س کے علاوہ ان کا افسانہ ”خوبصورت لفافہ “ پختون معاشرت کی عکاسی کرتا ہے۔
1930ءتک یہ کچھ افسانہ نگار ملتے ہیں اس کے بعد آنے والے افسانہ نگاروں میں ، مبارک حسین عاجز، کلیم افغانی، رضاہمدانی ، نذیر مرزا برلاس، فارغ بخاری ،اور مظہر گیلانی کے نام اہم ہیں۔
”مبارک حسین عاجز کے افسانے ”اے مصور “”مجھے کسی کی تلاش ہے“، ”رنگین کلی “ ، ”احساسِ ندامت “ پاکستان سے پہلے شائع ہوئے ہیں اُن کے افسانوں پر رومانوی طرز فکر کے اثرات ہیں۔ اور فنی لحاظ سے کافی کمزور ہیں۔ ”کلیم افغانی “ کے ہاں اصلاح پسندی اور ترقی پسندی کے عناصر ملتے ہیں اس سلسلے میں ان کا افسانہ ”اشک ندامت “ مشہور ہے۔ رضاہمدانی نے اسلامی تاریخی واقعات کو افسانوی رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اس حوالے سے ان کے افسانے ”عہد “ کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے۔ نذیر مرزا برلاس کے ہاں چھوٹے چھوٹے واقعات سے کہانی بننے کا عمل نظرآتا ہے اور وہ تخیل کی مدد سے لے کر حقیقی کہانی کے نقش ابھارتے ہیں۔ لہذاد تخیل اور حقیقت کا امتزاج ان کے ہاں موجود ہے اس سلسلے میں ان کے افسانون میں ، ”معصومیت “ اور ”معصوموں کی دنیا ُ“ کے نام آسکتے ہیں۔
”فارغ بخاری “ سرحد کے پہلے صاحب ِ مجموعہ افسانہ نگار ہیں۔ اُن کے افسانوں کا مجموعہ ”قدرت کا گناہ“ 1932ءمیں شائع ہوا۔ ان کے افسانوں میں اصلاحی اور مقصدی عناصر موجود ہیں۔ اور ”ادب برائے زندگی “ کے نقطہ نظر کو سامنے لائے ہیں۔ لیکن فنی لحاظ سے بلند درجہ نہیں رکھتے ۔”مکافاتِ عمل “ ان کا اچھا افسانہ ہے۔
اسی زمانے میں ”مظہر گیلانی “ کے افسانوی مجموعے ”رنگین مشاہدے “ اور ”بدنصیب سادہ “منظر عام پر آگئے ۔ ان کے افسانوں پر داستانوی اثر زیادہ ہے۔ کہانی غیر فطری عناصر پر مشتمل ہے۔ اس سلسلے میں ان کے افسانوں میں “ناگ رانی “ ، ”میر ی لاش “ ”سانپ کا انتقام “ مشہور ہیں۔ فارغ بخاری اور مظہر گیلانی کے افسانے بھی ادبی مقام حاصل نہ کر سکے ۔ لہٰذا ان کا یہ سفر آگے نہ بڑھ سکا۔ صوبہ سرحد کاافسانہ 1947تک کوئی بڑا نام پیدا نہ کر سکا اور نہ کوئی ایسا ادیب سامنے آسکا جس کی پہچان افسانہ سے وابستہ ہو۔
1947ءکے بعد البتہ کچھ ایسے نام ہمارے سامنے آتے ہیں جنہوں نے اسی میدان کو اپنایا ۔ اور اس میں نام کمایا ۔ 1947ءکا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا ۔ یہ اپنے ساتھ بہت سے خواب اور بہت سے عذاب لایاتھا۔ جس میں سب سے بڑا عذاب فرقہ ورانہ فسادات کا ہے۔ 1947ءکے بعد صوبہ سرحد کے افسانے میں بہت حوالے اور رجحانات اہم ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...