ہفتہ, جون 20, 2009

ممتاز مفتی (لبیک)۔

اردو میں حج کے سفر ناموں کی روایت کافی قدیم اور بھر پور ہے یہ روایت بھی فارسی کی دین ہے اردو حج ناموں میں ” حاجی محمد منصب علی خان کا سفر نامہ ماہ مغرب پہلا حج نامہ تسلیم کیا جاتاہے ۔ یہ معلوماتی اور واقعاتی سفرنامہ ہے ۔ اس سفر نامے کا اسلوب سیدھا سادھا ہے یعنی اردو کایہ پہلاحج نامہ رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔
برصغیر دیار مقدس سے خاصے فاصلے پر ہے اور انیسویں صدی کے آخر تک سفر کی مناسب سہولتیں بھی میسر نہ تھیں ۔ چنانچہ کم زائرین کو یہ سہولتیں اور سعادت نصیب ہوتی تھی ۔ اس دور نے آتش شوق کو فروزاں کئے رکھا۔ اور حج کے سفر نامے لکھے گئے تو انہیں وصل کا ایک ذریعہ سمجھ کر پڑھا گیا وہ تمام زائرین جو مقدس مقامات دیکھنے کے بعد لوٹتے ہجر و فراق کی کیفیت سے بھی گزرتے اور اس بیان نے حج کے سفر ناموں کے اسلوب کو گداز بنا دیا ۔ اس عہد کے قاری کے لئے حج کے سفر نامے نعمت عظمیٰ سے کم نہ تھے۔ اور پھر ذرائع آمدورفت کی بدولت یہ سفر آسان ہواتو حج کے سفر نامے داخلی کیفیت سے آشنا ہوئے ۔ حج کے ابتدائی سفر ناموں میں معلومات اور مناسک کی تفصیل ہوتی تھی۔ موجودہ دور کے حج کے سفر ناموں میں تاثرات کی بہتات ملتی ہے۔ آج زبان و بیان کا قرینہ اور سلیقہ خالق کو اپنی باطنی تجربات تحریری شکل میں لانے میں مدد دیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ابتدائی سفر نامے ”کیا ہے“ کی تفصیل تھے جبکہ موجودہ حج ناموں میں ”کیا پایا “ کی تشریح ملتی ہے۔ اس دور کے حج نامے آپ بیتی کے قریب ہیں۔ تکنیکی اعتبار سے اُ ن کا اندازڈائری جیسا ہے اور مقصد محسوسات ، قلب اور تجربات روحانی کا بیا ن کرنا ہے۔
ان حج ناموں میں ذات کی خود نمائی کا احساس نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر جگہ ذات کی نفی کا پہلو نمایاں رہتا ہے۔ عاجزی انکساری حج ناموں کی بنیادی خصوصیت رہی ہے۔ شور ش کاشمیری کا حج نامہ ” شب جائے کہ من بودم‘ ‘ غلام ثقلین کا ” ارض ِ تمنا“ عبداللہ ملک کا ” حدیث دل“ اور ممتاز مفتی کا لبیک جدید حج ناموں کی چند نمایاں جہتیں پیش کرتی ہیں۔
لبیک
ممتاز مفتی کا ”لبیک“ منفرد حیثیت و اہمیت کا حامل ہے یہ ایک باغی شخص کی قلبی واردات ہے جو اسرار کھولنا چاہتا ہے ۔ پردہ اٹھانا چاہتا ہے ہر لمحہ قاری کو اپنا ہمنوا بنائے رکھتا ہے ۔ بقول ظہور احمد اعوان
مفتی ایک مہم جو کی طرح اپنی ذات کی تسخیری مہم پر رواں تھا۔ اس نے جگہ جگہ رسمی تصورات پر چوٹیں کی ہیں ۔ فرسودہ رسومات پر طنزکے تیر برسائے ہیں ۔ خارجی رسمیات سے آگے گزر کر داخلی اور روحانی دنیا میں جھانکنے کی کوشش بھی کی ہے۔

منگل, جون 16, 2009

کرفیو



اکثر میرے دوست فون کرکے، میل کرکے مجھ سے پوچھتے ہیں کہ حالات کس نہج پر جارہے ہیں۔ میرا ان کو یہی جواب ہوتا ہے کہ جس طرح اتنی دور رہتے ہوئے آپ بے خبر ہیں۔ ہمیں بھی کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ اوپر دی گئی ویڈیو فوج کی جانی خیل کی طرف پیش قدمی کی ہے۔ اس پیش قدمی کے بعد تمام راستے بند کر دئیے گئے ۔ وہاں سے آنے والے متاثرہ خاندانوں کو شمالی وزیرستان کی طرف دھکیل دیا گیا ایسے میں وہاں کے حالات کے متعلق جاننا بہت مشکل ہے۔ میرے کئی شاگرد ان علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان کے موبائل فون بند ہیں۔ بس ہم لوگ صرف شیلنگ کی آوازیں سن رہے ۔ اور وہ بھی ایسی زبردست کہ نہ دن کو چین نہ رات کو آرام ۔ ہم لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ جانی خیل اور بکا خیل اتنا بڑا علاقہ تو نہیں ابھی تک تو اس شیلنگ سے وہ کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا ہوگا۔ مگر علاقے کا صحیح احوال کسی کو معلوم نہیں۔ شہر کا احوال کیا لکھوں۔ جس شہر کی شامیں بیلے کی خوشبو سے معطر رہتی تھیں۔ جہاں ڈھول کی تھاپ پر اٹھتے ہوئے جوانوں کے ہاتھ دکھائی دیتے تھے۔ جو شہر جنوبی اضلاع میں ایک اہم کاروباری مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب سنسان پڑا ہے۔ شہر کا کاروبار ٹھپ پڑا ہے۔ خصوصی طور پر نچلا طبقہ بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ اور نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے۔ کرفیو میں نرمی کے دوران میں نے اکثر دیکھاکہ مزدور مزدوری کی تلاش میں نکلتے ہیں مگر انہیں مزدوری نہیں ملتی۔ ریڑھی والے کی بکری نہیں ہوتی ۔ یعنی ایک طرح سے اپنے ہی علاقوں میں لوگ آئی ڈی پیز بن گئے ہیں۔ جن کی زندگی آہستہ آہستہ مشکلات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ آپریشن کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ اتنی جلدی ختم ہونے والا نہیں۔ ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ متاثرہ افراد کی طرف خصوصی توجہ دے۔ ااس کے علاوہ عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ آپریشن ذدہ علاقوں میں میڈیا کو جانے کی اجازت دی جائے تاکہ آپریشن کے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات دئیے جا سکیں۔

پیر, جون 15, 2009

یہ کس کا لہو ہے

اے رہبرِ ملک و قوم بتا
آنکھیں تو اٹھا نظریں تو ملا
کچھ ہم بھی سنیں ، ہم کو بھی بتا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
دھرتی کی سلگتی چھاتی کے بے چین شرارے پوچھتے ہیں
تم لوگ جنہیں اپنا نہ سکے وہ خون کے دھارے پوچھتے ہیں
سڑکوں کی زباں چلاتی ہے، ساگر کے کنارے پوچھتے ہیں
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
اے رہبرِ ملک و قوم بتا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
وہ کون سا جذبہ تھا جس سے فرسودہ نظامِ زیست ملا
جھلسے ہوئے ویراں گلشن میں اک آس امید کا پھول کھلا
جنتا کا لہو فوجوں سے ملا ، فوجوں کا لہو جنتا سے ملا
اے رہبرِ ملک و قوم بتا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
اے رہبر ملک و قوم بتا
کیا قوم وطن کی جے گا کر مرتے ہوئے راہی غنڈے تھے
جو دیس کا پرچم لے کے اٹھے وہ شوخ سپاہی غنڈے تھے
جو بارِ غلامی سہہ نہ سکے ، وہ مجرم شاہی غنڈے تھے
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
اے رہبر ملک و قوم بتا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
اے عزمِ فنا دینے والو! پیغام ِ بقا دینے والو
اب آگ سے کیوں کتراتے ہو؟ شعلوں کو ہوا دینے والو
طوفان سے اب ڈرتے کیوں ہو؟ موجوں کو صدا دینے والو
کیا بھول گئے اپنا نعرہ
اے رہبر ملک و قوم بت
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
سمجھوتے کی امید سہی، سرکار کے وعدے ٹھیک سہی
ہاں مشقِ ستم افسانہ سہی، ہاں پیار کے وعدے ٹھیک سہی
اپنوں کے کلیجے مت چھیدو اغیار کے وعدے ٹھیک سہی
جمہور سے یوں دامن نہ چھڑا
اے رہبرِ ملک و قوم بتا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
..............
ساحر لدھیانوی

جمعہ, جون 12, 2009

میرا شہر

کل میں تقریباً گیارہ دن کے بعد اپنے شہر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں موجود ناکوں سے گزرنے کے بعد جب ہم بنوں پہنچے تو شہر سے باہر کئی خاندانوں کے قافلے نظر آئے جو حالات کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور تھے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ کرفیو میں نرمی ایک بجے تک ہوگی مگر بارہ بجے دوبارہ کرفیو لگا دیاگیا۔ جب میں شہر کے اڈے میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ جس ہنستے بستے شہر کو میں دس دن پہلے چھوڑ کر گیا تھا یہ وہی شہر ہے۔ سڑکیں سنسان، اکا دکا پیدل چلنے والے نظر آئے جو کہ پولیس کی نظروں سے بچ کر گھروں کی طرف جارہے تھے۔ گھر جانے کا رسک میں نہیں لے سکتا تھا اس لیے اڈے سے متصل اپنے دوست نیاز انور کے گھر چلا گیا۔ وہاں پہنچتے ہی توپوں کی گن گرج شروع ہوئی۔ نیاز ہنستے ہوئے کہنے لگا کہ تمہارے پہنچنے کی خوشی میں فوج تمہیں توپوں کی سلامی دے رہی ہے۔ شیلنگ کی آواز اتنی تیز تھی کہ ہوش اڑ گئے۔ نیاز کے بچے کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔ نیاز نے بتایا کہ اب بچوں کو عادت ہوگئی ہے۔ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوجاتے ہیں پھر کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ کچھ دیر کے بعد میں نے اپنے کزن کو فون کیا جو ون فائیو کی گاڑی لے کر آیا۔ گاڑی جب شہر میں داخل ہوئی تو مجھ سے یہ منظر دیکھا نہیں جارہا تھا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ وہ شہر جس کی شاموں کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ وہاں ہر چیز سنسان پڑی ہوئی تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے مردوں کا شہر ہے ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ گاڑی نے مجھے میرے محلے سے باہر اتار دیا۔ وہاں پر گلیوں میں کچھ چہل پہل موجود تھی۔ گھر پہنچ کر سکھ کا سانس لیا۔ مگر یہ سکھ کا لمحہ کچھ ہی دیر کے لیے تھا۔ ایک دفعہ پھر گولہ باری کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ ہمیں کچھ پتہ نہیں یہ گولے کس پر برسائے جارہے ہیں۔ کون ہلاک ہو رہا ہے۔ حالات شاید مزید خراب ہوں مگر میں سوچتا ہوں کہ یہ شہر میں کس طرح چھوڑ کر جاؤں گا جہاں ہماری نسلیں جوان ہوئیں۔ جہاں ہمارے آباؤ اجداد کی قبریں ہیں۔ اس شہر کو میں چھوڑ کر کسی محفوظ جگہ پر جاؤں بھی تو کیسے جاؤں۔ اس وقت ذہن میں صرف ایک شعر بار بار گونج رہا ہے۔

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں
میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں

بدھ, مئی 27, 2009

ملا وجہی (سب رس)۔

پروفیسر افتخار احمد شاہ اپنے مضمون ”دکن میں اسالیب نثر “ میں لکھتے ہیں
سب رس اپنے موضوع ، زبان اور اسلوب کے اعتبار سے ایک ایسی تصنیف ہے کہ جسے اس دور کی جملہ تصانیف میں سب سے زیادہ ادبی اہمیت کی مالک ہونے کا مقام حاصل ہے۔ جسے موضوع کی دلچسپی ، جذبے کی موجودگی، زبان کی دلکشی اور اسلوب کی انفرادیت پر خالص ادبی تحریر قرار دیا جاسکتا ہے۔
سب رس ایک تمثیل:۔
سب رس کو عبداللہ قطب شاہ کی فرمائش پر وجہی نے لکھا۔ اس کتاب کو اردو نثر کی اولین کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔یہ وجہی کہ اپنی طبع ذاد نہیں اس کتاب میں فتاحی نیشاپوری کی مثنوی ”دستور العشاق“(نظم )اور ”قصہ حسن ودل “ کو نثر کےپیرائے میں تمثیل کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ تمثیل انشاءپردازی کی اس طرز کو کہتے ہیں جس میں کسی تشبیہ یا استعارہ کو یا انسان کے کسی جذبے مثلاً غصہ،نفرت، محبت وغیرہ کو مجسم کرکے یا دیوی دیوتاؤں کے پردے میں کوئی قصہ گھڑ لیا جاتا ہے۔ یہ قصہ صوفیانہ مسلک کا آئینہ دار ہے۔ مگر اپنے اسلوب اور بیان میں سب رس ایک کامیاب تمثیل ہے۔ اس میں حسن و دل اور عقل و دل کی جنگ کو بڑی خوبصورت اور کامیاب تمثیل کے رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔
سنگ میل:۔
سب رس اردو نثر کا سب سے ممتاز اور ترقی یافتہ شاہکارہے۔ اس میں اسلوب بیان نے ایک خاص انگڑائی لی ہے اور زندگی کی آنکھ کھولی ہے۔ سب رس سے پہلے جو نمونے اردو نثر میں ملتے ہیں ۔ اسے اردو نثر کا دور بدویت کہا جاسکتا ہے۔ یعنی اس دور میں وہ انداز بیان تھا جس میں لہجے کا دیہاتی پن، کہنے کا سادہ بے تکلف اور درست انداز اور آرائش کی ہر کوشش سے آزاد تھا ۔جتنے لوگوں نے اس زمانے میں لکھا، مذہبی مسائل پر لکھا اور ان کے مخاطب عوام تھے جن تک بات پہنچانا مقصود تھا۔ اس لیے سادگی ، سلاست و راست بیانی کے علاوہ شیرازہ بندی اور فقروں کی ساخت سے بے پروائی کا رویہ عام تھا۔ مگر ”سب رس“ اردو نثر کا ایک ایسا سنگ میل ہے جس میں اس بات کی کوشش نظر آتی ہے کہ مصنف اپنی بات کو موثر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
اسلوب:۔
سب رس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی ترقی یافتہ زبان اور اس کا اسلوب بیان ہے۔ سب رس میں پہلی دفعہ زبان اردو کی ایک ترقی یافتہ صورت ہمارے سامنے آئی اور پہلی دفعہ زبان کے ایسے اسالیب اور زبان کے ایسے ایسے خصائص وجودمیں آئے جن کی بنا پر ”سب رس“ کی زبان اس سے پہلے کے مصنفوں کی زبان سے اور اپنے معاصروں کی زبان و اسلوب سے علیحدہ ہو گئی۔ پروفیسر شیرانی لکھتے ہیں
جو چیز ”سب رس “ کو ہماری نگاہ میں سب سے زیادہ قیمتی بناتی ہے۔ وہ اس کے اسالیب ہیں۔ جب ہم ان اسالیب کا موجودہ زبان سے مقابلہ کرتے ہیں توآج کی زبان میں اور اس زبان میں خفیف سا فرق معلوم ہوتا ہے۔

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...