جمعہ, جون 29, 2012

دبستان دہلی

اورنگزیب کی وفات کے بعد اُس کا بیٹا معظم تخت نشین ہوا لیکن اس کے بعد معظم کے بیٹے معز الدین نے اپنے بھائی کو شکست دے کر حکومت بنائی۔ معز الدین کے بھتیجے ”فرخ سیر “ نے سید بردران کی مدد سے حکومت حاصل کی لیکن سید بردران نے فرخ سیر کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔ اس طرح 1707ءسے لے کر 1819ءتک دہلی کی تخت پر کئی بادشاہ تبدیل ہوئے۔ محمد شاہ رنگیلا عیاشی کے دور میں نادرشاہ درانی نے دہلی پر حملہ کردیا اور دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ پھر احمد شاہ ابدالی کے حملے نے مزید کسر بھی پوری کر دی ۔ دوسری طرف مرہٹے ، جاٹ اور روہیلے آئے دن دہلی پر حملہ آور ہوتے اور قتل عام کرتے اس دور میں کئی بادشاہ بدلے اور مغل سلطنت محدود ہوتے ہوتے صرف دہلی تک محدود ہو کر رہ گئی ۔اور آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کو انگریزوں نے معزول کر کے رنگوں بھیج دیا۔ یہ تھی دہلی کی مختصر تاریخ جس میں ہماری اردو شاعری پروان چڑھی ۔ یہ ایک ایسا پرآشوب دور تھا جس میں ہر طرف بدنظمی ، انتشاراور پستی کا دور دورہ تھا۔ ملک میں ہر طرف بے چینی تھی۔ اس حالت کی وجہ سے جس قسم کی شاعری پروان چڑھی ۔ دبستان دہلی کے چند شعراء کا ذکر درج زیل ہے۔
 شعراء
 میر تقی میر:۔
میرتقی میر کی شاعری کا اہم بنیادی عصنر غم سب سے نمایاں ہے۔ خود میر نے اپنی شاعر کے بارے میں کہا ہے

مجھ کو شاعر نہ کہو میر کے صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا

میر کا غم آفاقی نوعیت کا ہے جس میں غم عشق سے لے کر غم دنیا کا احوال موجود ہے۔ انہوں نے جو کچھ محسوس کیا بڑی صداقت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ ان کی شاعری اپنے تجربات اور احساسات کاصحیح اور سچا اظہار ہے۔ان کے اشعار جو بھی پڑھتا ہے اس کے دل میں اتر جاتے ہیں۔

ابتداءہی میں مر گئے سب یار
عشق کی کون انتہا لایا

میر کی شاعری ہندی اور ایرانی تہذیب کی آمیزش کی بہترین مثال ہے۔ ان کے ہاں فارسی تراکیب کے ساتھ ساتھ ہندی کا ترنم اور موسیقیت بھی ملتی ہے۔

اب تو جاتے ہیں بتکدے سے میر
عشق کی کون انتہا لایا
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

بدھ, جون 13, 2012

ایہام گوئی کی تحریک

ایہام سے مراد یہ ہے کہ شاعر پورے شعر یا اس کے جزو سے دو معنی پیداکرتا ہے۔ یعنی شعر میں ایسے ذو معنی لفظ کا استعمال جس کے دو معنی ہوں ۔ ایک قریب کے دوسرے بعید کے اور شاعر کی مراد معنی بعید سے ہوایہام کہلاتا ہے۔بعض ناقدین نے ایہام کا رشتہ سنسکرت کے سلیش سے بھی جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ درست نہیں کیونکہ سلیش میں ایک ایک شعر کے تین تین چار چا ر معنی ہوتے ہیں جب کہ ایہام میں ایسا نہیں ہوتا۔
اردو شاعری میں ایہام گوئی
ولی دکنی کا دیوان 1720ءمیں دہلی پہنچا تو دیوان کو اردو میں دیکھ کر یہاں کے شعراءکے دلوں میں جذبہ اور ولولہ پیدا ہوا اور پھر ہر طرف اردو شاعری اور مشاعروں کی دھوم مچ گئی۔ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ ولی کے تتبع میں شمالی ہند میں جو شاعری شروع ہوئی اس میں سب سے نمایاں عنصر ”ایہام گوئی“ تھا۔ اس لیے اس دور کے شعراءایہام گو کہلائے۔ اس دور کی شاعری میں ایہام کو اس قدر فروغ کیوں حاصل ہوا۔ آئیے ان اسباب کا جائزہ لیتے ہیں۔
 اسباب
ایہام گوئی کے بارے میں رام بابو سکسینہ اور محمد حسین آزاد دونوں کا خیال ہے کہ اردو کی ابتدائی شاعری میں ایہام گوئی کے رجحان کا ایک اہم سبب ہندی دوہوں کا اثر ہے۔ ڈاکٹر نور الحسن ہاشمی کے نزدیک اس زمانے میں فارسی شعراءکا دربار اور شعر و ادب کی محفلوں میں بہت اثر تھا۔ یوں بھی ادب میں دہلی والے فارسی روایات برتتے تھے۔ اس لیے یہ بہت ممکن ہے کہ متاخرین شعرائے فارسی کے واسطے یہ چیز عام ہوئی ہو۔ اس سے واضح ہوا کہ ایک سبب ایہام گوئی کا ہندی دوہے ہیں اور دوسرا سبب متاخرینشعرائے فارسی سے متاثر ہو کر اس دور کے شعراءنے اپنی شاعری کی بنیاد ایہام پر رکھی۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کے نزدیک ہر بڑے شاعر کی طرح دیوان ولی میں بھی بہت رنگ موجود تھے۔ خود ولی کے کلام میں ایہام گوئی کا رنگ موجود ہے۔ اگرچہ ولی کے ہاں یہ رنگ سخن بہت نمایاں نہیں لیکن ہر شاعر نے اپنی پسند کے مطابق ولی کی شاعری سے اپنا محبوب رنگ چنا۔ آبرو ، مضمون ، ناجی اورحاتم ولی کے ایہام کے رنگ کو چنا۔ یوں ہم یہ کہہ سکتے ہیں ایہام کی ایک بڑی وجہ ولی کے کلام میں موجود ایہام گوئی کا رنگ بھی تھا۔

جمعہ, مئی 18, 2012

اردو ادب کا دکنی دور

محمد قلی قطب شاہ
یوں تو مسلمانوں نے دکن پر کئی حملے کیے لیکن علائوالدین خلجی کے حملے نے یہاں کی زبان اور تہذیب و تمدن اور کلچر کو کافی حد تک متاثر کیا۔ مرکزسے دور ہونے کی وجہ سے علائو الدین خلجی نے یہاں ترک سرداروں کو حکمران بنا دیا۔ بعد میں محمد تغلق نے دہلی کی بجائے دیو گری کو دارالسلطنت قرار دیے کر ساری آبادی کووہاں جانے کا حکم دیا۔ جس کی وجہ سے بہت سے مسلمان گھرانے وہاں آباد ہوئے۔ محمد تغلق کی سلطنت کمزور ہوئی تو دکن میں آزاد بہمنی سلطنت قائم ہوئی اور دکن، شمالی ہندوستان سے کٹ کر رہ گیا۔ بعد میں جب بہمنی سلطنت کمزور ہوئی تو کئی آزاد ریاستیں وجود میں آگئیں۔ ان میں بیجا پور کی عادل شاہی حکومت اور گولکنڈ ہ کی قطب شاہی حکومت شامل تھی۔ ان خود مختار ریاستوں نے اردو زبان و ادب کے ارتقاءمیں اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے علم و فضل اورشعراءو ادبا دکن پہنچے۔ آیئے اب بیچاپور کی عادل شاہی سلطنت کے تحت اردو کے ارتقا ءکا جائزہ لیں۔
بیجا پور کی عادل شاہی حکومت:۔
عادل شاہی حکومت کی بنیاد 895ءہجری میں پڑی۔ یہاں کا پہلا حکمران یوسف عادل شاہ تھا۔ بہمنی ریاست کے زوال کے بعد یوسف شاہ نے اپنی آزاد حکومت قائم کی۔ یہ حکومت دو سو سال تک قائم رہی اور نو بادشاہ یکے بعد دیگرے حکومت کرتے رہے۔ ابتدائی صدی میں دکنی زبان کی ترقی کے لیے کچھ خاص کام نہیں ہوا اور ایرانی اثرات ، شیعہ مذہب اور فارسی زبان دکنی زبان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ بنے ۔ لیکن اس کے برعکس دور عادل شاہی کی شاہی سرپرستی دوسری صدی میں اردو و ادب کی ترقی میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ابراہیم عادل شاہ ثانی اور ان کے جانشین محمد عادل شاہ نے اس سلسلے میں دکنی زبان کی جانب خصوصی توجہ دی۔ محمد عادل شاہ کے جانشین علی عادل شاہ ثانی نے دکنی کو اپنی زبان قرار دیا۔ چنانچہ اس صدی میں شاہی سرپرستی کی وجہ سے ادب میں درباری رنگ پیدا ہوا۔ اصناف سخن کی باقاعدہ تقسیم ہوئی۔ قصیدے اور غزلیں کہی گئیں اور شاعری کا ایک اعلیٰ معیار قائم ہوا۔اس کے علاو ہ صوفیا نے بھی یہاںکی زبان پر گہرے اثرات چھوڑے۔
عادل شاہی دور میں اردو کے فروغ و ترویج کے مختصر جائزے کے بعد آئیے اب اس دور کے شاعروں کا مختصر تذکرہ کریں تاکہ زبان و ادب کے ارتقاءکا اندازہ ہو سکے۔

یہ بھی دیکھیے۔۔۔۔۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...